|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری، امن
اور انسانیت
کی محبت سے
وابستہ |
|
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
||
|
اسلام میں
ذہنی و جسمانی
کے انسداد کی
تاریخ کتاب
کو
ڈاؤن لوڈ کرنے کے
لئے یہاں کلک
کیجیے (سائز 8MB) حصہ
چہارم: اسلام
کے بعد کے
ادوار میں
غلامی |
||
|
باب
14: مسلمانوں
کے دور
انحطاط میں
غلامی (4) مسلم
ممالک میں
غلاموں کی
مجموعی حالت مسلمانوں
کے مذہبی
راہنماؤں کی
کوششوں کے نتیجے
میں مسلم
ممالک میں اگرچہ
غلامی مکمل
طور پر نہ ختم
ہو سکی لیکن غلاموں
کی مجموعی
حالت دنیا کے
دیگر ممالک
کی نسبت بہتر
رہی ہے۔ ایسا
ضرور رہا ہے
کہ ایک علاقے
کے غلاموں کی
حالت دوسرے
علاقے کے
غلاموں سے
بہتر رہی ہو۔ اسی
طرح ایک طبقے
کے غلاموں کی
حالت دوسرے
طبقے کے
غلاموں سے
بہتر رہی ہے۔ اس
موقع پر
ضروری ہے کہ
ہم غیر مسلم
تاریخ دانوں اقتباسات
پیش کرتے
چلیں۔ لوئیس
برنارڈ
لکھتے ہیں: The common view of Islamic
slavery as primarily domestic and military may therefore reflect the bias of
our documentation rather than the reality. There are occasional references,
however, to large gangs of slaves, mostly black, employed in agriculture, in
the mines, and in such special tasks as the drainage of marshes. Some, less
fortunate, were hired out by their owners for piecework. These working slaves
had a much harder life. The most unfortunate of all were those engaged in
agricultural and other manual work and large-scale enterprises, such as for
example the Zanj slaves used to drain the salt
flats of southern While domestic and commercial
slaves were relatively well-off, these lived and died in wretchedness. Of the
Saharan salt mines it is said that no slave lived there for more than five
years. The cultivation of cotton and sugar, which the Arabs brought from the
East across North Africa and into The military slaves were in a
sense the aristocrats of the slave population. By far the most important
among these were the Turks imported from the Eurasian steppe, from Certainly the most privileged
of slaves were the performers. Both slave boys and slave girls who revealed
some talent received musical, literary, and artistic education. In medieval
times most singers, dancers, and musical performers were, at least in origin,
slaves. Perhaps the most famous was Ziryab, a
Persian slave at the court of Baghdad who later went to In a society where positions of
military command and political power were routinely held by men of slave
origin or even status and where a significant proportion of the free
population were born to slave mothers, prejudice against the slave as such,
of the Roman or American type, could hardly develop. (Race & Slavery
in مسلمانوں
کے ہاں موجود
غلامی خواہ
وہ فوجی نوعیت
کی ہو یا سول
نوعیت کی، سے
متعلق جو
مواد ہمارے
پاس موجود
ہے، وہ غیر
جانبدارانہ نہیں
ہے اس وجہ سے
ممکن ہے کہ یہ
متعصبانہ
ہونے کی وجہ
سے حقیقت کی
صحیح
نشاندہی نہ
کرتا ہو۔
مختلف
مقامات پر
ایسے غلاموں
کے گروہوں کا
ذکر ملتا ہے
جو زیادہ تر
سیاہ فام تھے
اور انہیں
زراعت اور
کان کنی کے
علاوہ مخصوص
کاموں جیسے
پانی کی
نکاسی وغیرہ
میں استعمال
کیا جاتا
تھا۔ بعض
بدقسمتوں سے
ان کے آقا
دستکاری کا
کام لیتے
تھے۔ ان کی
زندگیاں
نسبتاً زیادہ
سخت تھیں۔ ان میں سب
سے زیادہ
بدقسمت وہ
غلام تھے جو
زراعت یا
صنعت میں
ہاتھ سے کام
کرنے پر مجبور
تھے۔ مثال کے
طور پر
زنجبار کے
(افریقی) غلام
جو جنوبی
عراق میں سیلابی
علاقوں میں
کام کرتے
تھے، یا وہ
افریقی غلام
جو صحارا میں
نمک کی کانوں
میں اور
نوبیا میں
سونے کی کانوں
میں کام کیا
کرتے تھے۔ یہ
بڑی تعداد
میں گنجان
جگہوں پر
رکھے جاتے
اور گروہوں
کی صورت میں
کام کیا کرتے
تھے۔ بڑے زمیندار
یا جاگیردار
اس قسم کے
ہزاروں
غلاموں کے مالک
ہوا کرتے
تھے۔ گھریلو
اور تجارت
کاموں میں
استعمال کئے
جانے والے
غلاموں کی
حالت نسبتاً
بہتر تھی
البتہ (زراعت
اور کان کنی
میں کام کرنے
والے غلام) بھیانک
زندگی
گزارتے تھے۔
صحارا کی نمک
کی کانوں کے
بارے میں کہا
جاتا ہے کہ
یہاں کوئی
غلام پانچ
سال سے زیادہ
نہیں رہا۔ عرب
مشرقی ممالک
سے کپاس اور
گنے کی کاشت
کا نظام
شمالی
افریقہ اور
اسپین میں لے
کر آئے۔ سلطنت
عثمانیہ کے
اولین
ریکارڈ سے یہ
معلوم ہوتا
ہے کہ حکومت
کی ملکیت
چاول کے
کھیتوں میں
بکثرت غلام
کام کرتے
تھے۔ کپاس اور
گنے کی شمالی
افریقہ،
اسپین اور
دیگر ممالک
میں ہوتی
تھی۔ معاشی
مقاصد کے لئے
زیادہ تر مرد
غلاموں کو استعمال
کیا جاتا تھا
اور بسا
اوقات ان کا
معاشی
استحصال بھی
کیا جاتا
تھا۔
لونڈیوں کو عصمت
فروشی کے لئے
استعمال
کرنے کا عمل
جو اسلام سے
پہلے جاری
تھا، اگرچہ
اسلامی
قانون میں
سختی سے حرام
کر دیا گیا تھا
لیکن پھر بھی
یہ (مسلم
معاشروں میں)
موجود رہا
ہے۔ فوجی
غلام ایک
اعتبار سے
معاشرے کا
مراعات یافتہ
طبقہ تھے۔ ان
میں سب سے اہم
ترک غلام تھے
جو یورپ اور
ایشیا کے
میدانی
علاقوں،
وسطی ایشیا
اور چینی
ترکستان کے
علاقوں سے
لائے جاتے
تھے۔ کم و بیش
یہی صورتحال
مسلم اسپین،
شمالی
افریقہ اور
بعد میں
سلطنت عثمانیہ
میں برقرار
رہی ہے جس میں
بلقان اور
قفقاز کے
علاقے سے
فوجی غلام
لائے جاتے
تھے۔ سیاہ غلاموں
کو بھی بسا
اوقات فوج
میں ملازمت
دی گئی لیکن عام
طور پر ایسا نہیں
ہوتا تھا اور
اگر ہوتا بھی
تھا تو مختصر
مدت کے لئے۔ غلاموں کا
سب سے زیادہ
مراعات
یافتہ طبقہ پرفارم
کرنے والے
غلام تھے۔
باذوق غلام
لڑکے اور
لڑکیوں کو
موسیقی، ادب اور
آرٹ کی تعلیم
دی جاتی تھی۔
قرون وسطی کے
زیادہ تر
گویے، رقاص
اور موسیقار
زیادہ تر، کم از
کم اپنی اصل
میں غلام ہی
تھے۔ شاید ان
میں زریاب سب
سے زیادہ
مشہور ہے، جو
کہ ایک
ایرانی غلام
تھا۔ اسے
بغداد کے
دربار میں
لایا گیا اور
اس کے بعد یہ
اسپین چلا
گیا۔ یہاں یہ کھانا
پکانے میں
غیر معمولی
منصب پر فائز
ہوا اور اس نے
یورپ میں
اسپیریگس
(ایک خاص پودا)
کو رواج
پذیر کیا۔
عرب شاعری
اور تاریخ
میں شہرت
پانے والے غلاموں
اور آزاد
کردہ غلاموں
کی تعداد کم
نہیں ہے۔ ایک ایسے
معاشرے میں
جہاں فوجی
اور سیاسی
طاقت ان
لوگوں کے پاس
رہی ہو جو یا
تو غلاموں کی
نسل میں سے
تھے یا خود
غلام تھے،
اور جہاں
آزاد آبادی
کا بڑا حصہ
غلام ماؤں کی
اولاد ہو،
غلاموں سے
متعلق اس
تعصب کے پیدا
ہونے کا
امکان بہت کم
ہے جو روم یا
امریکہ میں
موجود تھا۔ ولیم
کلارنس
لکھتے ہیں: Tens of millions of people were
placed under the Muslim yoke over the centuries, and yet servitude remains
marginal to general accounts of Islamic history. The consensus is that slaves
consisted mainly of female domestics and concubines. Some concubines rose to
positions of considerable wealth and power, as did male officers and
officials. Manumission was common, and servitude left little social trace.
Where rural slavery existed, it took the form of forced family colonisation, rather than gangs of male workers typical
of Western estates…. It is undeniable that servitude
in Islam exhibited distinctive traits, but it still remained recognisably a slave system. As in Roman law, these were
people reduced to the status of livestock, who could be freely sold, ceded,
inherited and so forth. Their humanity was recognised
to a greater degree than in the Roman case, constraining the owners' rights
in legal terms. However, this was a difference of degree, not of kind, and it
was reflected in the evolution of Christian and Jewish servitude. Moreover,
the extreme privacy of the Muslim harem made it difficult to enforce legal
constraints on owners…. Even those who converted to
Islam after being reduced to servitude were not freed in terms of the shari'a, but custom might be more lenient on this point,
especially for second-generation slaves. Turkic custom even enshrined the
Hebrew notion that a slave, especially a male sharing the true faith, should
be freed after seven years. Certain ethnic groups were also be deemed to be
protected from slavery, such as Arabs, Somalis and Javanese. However, custom
might also allow for self-enslavement, the sale of children, and enslavement
for debts and crimes, all banned in the shari'a. (Islam
& Slavery) مسلم
حکومتوں کے
تحت کروڑوں
کی تعداد میں
افراد صدیوں
سے موجود رہے
ہیں لیکن
مسلمانوں کی
تاریخ میں
جبری مشقت کا
حصہ بہت ہی کم
رہا ہے۔ اس
بات پر اتفاق
رائے ہے کہ
غلاموں کی بڑی
تعداد
گھریلو
خادماؤں اور
لونڈیوں پر
مشتمل رہی
ہے۔ ان میں سے
کچھ لونڈیاں
دولت اور طاقت
کے اعلی
مناصب حاصل
کرنے میں
کامیاب رہی ہیں
اور یہی
معاملہ مرد
(غلام) افسروں
اور ملازموں
کا بھی ہے۔ غلاموں
کو آزادی
دینا عام
معمول رہا ہے
اور جبری
مشقت کا سراغ
بہت ہی کم
ملتا ہے۔
جہاں جہاں
دیہی علاقوں
میں غلامی موجود
رہی ہے، اس
میں غلاموں
کے پورے کے
پورے خاندان
موجود رہے
ہیں (یعنی
غلاموں کو
بیوی بچے
رکھنے کی
اجازت تھی)،
مغربی ممالک
کی طرح صرف مرد
غلاموں کے
بڑے بڑے گروہ
موجود نہیں
رہے۔ اس بات
سے انکار
کرنا ممکن
نہیں ہے کہ
مسلمانوں کے
ہاں غلامی کا
نظام موجود
رہا ہے اگرچہ
اس کی
خصوصیات
مختلف ہیں۔ رومی
قانون میں تو
غلاموں کو
جانوروں کے
درجے میں گرا
دیا گیا تھا
جنہیں بغیر
کسی رکاوٹ کے بیچا
جا سکتا تھا،
تحفے میں دیا
جا سکتا تھا، وراثت
میں منتقل
کیا جا سکتا
تھا وغیرہ
وغیرہ۔ (مسلم
معاشروں میں)
روم کی نسبت
انسانیت کو
اہمیت دی گئی
ہے جس میں آقا
کے حقوق کو
قانونی طور
پر محدود کر
دیا گیا ہے۔ اگرچہ،
یہودی اور
عیسائی
غلامی میں
بھی جو ارتقاء
موجود ہے، وہ
اس سے شدت میں
مختلف ہے لیکن
اسی قسم کا
ہے۔
مسلمانوں کے
حرم کو شدت سے
چھپا کر رکھا
جاتا تھا اس
وجہ سے
قانونی
احکامات کو
آقاؤں پر
نافذ کرنا
عملاً مشکل
رہا ہے۔ جو لوگ
غلامی میں آ
جانے کے بعد
اسلام قبول
کر لیتے،
شرعی قانون
(شاہی قانون
کہنا زیادہ
مناسب ہو گا)
کے مطابق
آزاد نہیں
ہوتے تھے
لیکن اس مقام
پر خاص طور پر
دوسری نسل کے
غلاموں کے لئے
رسم و رواج
کافی نرم
تھے۔ ترکوں
میں
عبرانیوں کی
طرح یہ ایک
مقدس رسم
موجود تھی کہ
ہم مذہب غلام
کو خاص طور پر
سات سال کی
خدمت کے بعد
آزاد کر دیا
جائے۔ کچھ
مخصوص نسلی
گروہ جیسے
عرب، صومالی
اور جاوا کے
رہنے والوں
کو خاص طور پر
غلامی سے
محفوظ رکھا
جاتا تھا۔ اس
کے برعکس خود
کو غلام بنا
کر بیچنا،
بچوں کو فروخت
کر دینا اور
جرائم یا قرض
کی صورت میں
غلام بنانا
اگرچہ شریعت
میں ممنوع
تھا لیکن
بہرحال رسم و
رواج کی صورت
میں موجود
تھا۔ ایسا
نہیں تھا کہ
پوری مسلم
دنیا میں ہر
دور میں یہ
صورتحال
موجود رہی
ہو۔ “Administration of Justice in Mideval
India” کے
مصنفین نے
اورنگ زیب
عالمگیر کے
دور میں عدل و
انصاف اور
غلاموں کے
حقوق کی
پاسداری کا ذکر
کیا ہے۔ ان کے
دور میں ایک
قاضی نے اپنی
دو لونڈیوں
کو قتل کر دیا
تھا۔ جب
گورنر کے حکم
سے تحقیقات
کروائی گئیں
تو اس قاضی نے
بادشاہ کی
سزا سے بچنے
کے لئے خود
کشی کر لی
تھی۔ کے
ایس لال
جنہوں نے
غلامی کے
ادارے کو
متعصبانہ
طور پر اسلام
سے منسوب کیا
ہے، نے غیاث
الدین بلبن
کے دور کے ایک
واقعے کا ذکر
کیا ہے جس میں
بلبن نے اپنے
گورنر ملک
بقبق کو اس
جرم میں پانچ
سو کوڑوں کی
سزا سنائی جس
نے اپنے ایک
غلام کو قتل
کر دیا تھا۔
بلبن نے
گورنر کے
ساتھ ساتھ
اپنے ان
جاسوسوں کو
سزا بھی دی
جنہوں نے اس
واقعے کی
رپورٹ
بادشاہ کو نہ
بھیجی تھی۔ قرون
وسطی کے
بادشاہوں نے
فوجی
جاگیرداری
کا جو نظام
وضع کیا تھا،
اس کی بدولت
مسلم ممالک میں
مزارعوں کی
نیم غلامی نے
جنم لیا۔ یہ
لوگ قانونی
طور پر غلام
نہیں بلکہ
"آزاد" تھے
لیکن عملی
طور پر یہ
غلام ہی تھے۔
ان کے لئے لازم
تھا کہ یہ
سارا سال
جاگیردار کی
زمینوں پر
کام کریں۔ ان
کی بنیادی
ضروریات کی
فراہمی جاگیردار
کے ذمے تھے جو
انہیں بس
اتنی خوراک
فراہم کر دیا کرتا
تھا کہ ان کے
ہاں جسم و روح
کا رشتہ
برقرار رہے۔ جاگیردار
ان سے نہ صرف
کھیتوں میں
کام لیتا بلکہ
اس کی ہر طرح
کی خدمت ان کی
ذمہ داری ہوا
کرتی تھی۔
مزارعوں کی
بیویوں کو
جاگیردار کی
حویلیوں میں
کام کرنا
پڑتا اور بسا
اوقات
جاگیردار کے
لئے اپنی
عصمت کا نذرانہ
بھی پیش کرنا
پڑتا۔ خدمات
کے علاوہ
مزارعوں پر
یہ ذمہ داری
بھی عائد ہوا
کرتی تھی کہ
وہ جاگیردار
کو مختلف
رسومات کے
موقع پر
تحائف بھی
پیش کریں۔ ان
پر مختلف قسم
کے ٹیکس بھی
لگا دیے
جاتے۔ اس
تمام معاشی
استحصال کے
نتیجے میں
مزارعے اکثر
جاگیردار سے
قرض لینے پر
مجبور ہو
جایا کرتے
تھے جس کے
نتیجے میں ان پر
سود در سود کی
صورت میں
اتنا قرض چڑھ
جاتا کہ اس کی
ادائیگی ان
کی آنے والی
نسلوں کے لئے
بھی ممکن نہ
رہتی۔
مزارعے کے
مرنے کے بعد
اس کے تمام
قرضے اس کی
اولاد کو
منتقل ہو
جاتے۔ اس طریقے
سے نسل در نسل
غلامی کا
سلسلہ جاری
رہتا۔ غلامی
کی یہ قسم
مسلم دنیا کے
بہت سے ممالک
میں آج بھی
موجود ہے۔ اس
سے متعلق
اتنا کچھ کہا
اور لکھا جا
چکا ہے کہ
مزید
تفصیلات کی
ضرورت نہیں
ہے۔ پاکستان
میں جنوبی
پنجاب اور
سندھ کے
دیہات میں جا
کر آج بھی اس
غلامی کا
مشاہدہ
آنکھوں سے کیا
جا سکتا ہے۔ مندرجہ
بالا بحث سے یہ
معلوم ہوتا
ہے کہ اگرچہ
غلاموں کے
بعض طبقات کی
حالت اچھی نہ
تھی لیکن
بہرحال
غلاموں کے
ایسے طبقات
بھی موجود
تھے جو
معاشرے میں
اعلی مقام
رکھتے تھے۔
اگر مسلم
معاشرے میں
موجود غلاموں
کا تقابل اپنے
ہم عصر غیر
مسلم
معاشروں میں
موجود
غلاموں سے
کیا جائے تو
معلوم ہو گا
کہ مسلم
معاشروں میں،
اپنے دین سے
انحراف کے
باوجود،
غلاموں کی حالت
بہرحال یورپ
اور امریکہ
میں موجود
غلاموں سے
بہت بہتر
تھی۔ غالباً
یہی وجہ ہے کہ
مسلم
معاشروں میں
پوری تاریخ
میں ہمیں
غلاموں کی
صرف ایک ہی بغاوت
کا سراغ ملتا
ہے۔ مکمل
غلامی سے قطع
نظر مسلم
معاشروں میں
نیم غلامی
اور نفسیاتی
غلامی اپنی
پوری قوت کے
ساتھ موجود
رہی ہے۔ ہمارے
تاریخ دان
بالعموم
مسلم
بادشاہوں کی
بداعمالیوں کا
جواز پیش
کرنے کے لئے
ان کا تقابل
غیر مسلم بادشاہوں
سے کرتے ہیں۔
یہ طریق کار
ہماری نظر میں
بالکل غلط
ہے۔ مسلمان
"خیر امت"
ہونے کا دعوی
کرتے ہیں۔ اس
دعوے کو درست
اسی صورت میں
ثابت کیا جا
سکتا ہے جب
مسلمانوں کے
عمل کا تقابل
ان کے اپنی
دین کی
تعلیمات سے
کیا جائے۔ اپنے
اسلاف کے ہر
اچھے برے عمل
کی تائید وہی
لوگ کر سکتے
ہیں جو
اخلاقی جرأت
سے خالی ہوں۔ نہایت
افسوس اور
شرمندگی کے
ساتھ ہم یہ
کہنے پر
مجبور ہیں کہ
صحابہ و تابعین
کے دور کو
چھوڑ کر،
مسلمانوں نے
بحیثیت مجموعی
غلامی کے باب
میں قرآن و
سنت کی
تعلیمات کے
اہم حصے کو
چھوڑ دیا۔ صحابہ
و تابعین کے
زمانے میں
اسلام کی
اصلاحات کے
نتیجے میں
غلاموں کی تعداد
میں جو غیر
معمولی کمی
واقع ہو چکی
تھی، اس وقت
اگر مسلمان
حکمران
غلاموں کی
امپورٹ پر
مکمل پابندی
عائد کرتے
ہوئے ایسا
کرنے والے
بردہ فروشوں
کو عبرت کا
نشان بنا
دیتے تو
مسلمانوں کے
ہاں اہل مغرب
سے 1200
برس قبل ہی
غلامی کا
خاتمہ ہو چکا
ہوتا۔ اس
معاملے میں ہمارے
مذہبی
راہنماؤں کا
کردار بھی
کچھ قابل رشک
نہیں رہا۔
اگر مذہبی
راہنما ہی اس
وقت اتفاق
رائے کے ساتھ
ایک تحریک
پیدا کرتے
ہوئے حکمرانوں
کے سامنے ڈٹ
جاتے اور ان
کے تشدد کا
اسی طرح
نشانہ بنتے
جیسا کہ
انہوں نے اور
معاملات میں
کیا تو غلامی
اگر مکمل ختم
نہ بھی ہو
پاتی لیکن اس
کے اثرات کو
بڑی حد تک کم
کر دیا جاتا۔
ان کے ایسا نہ
کرنے کی وجہ
یہ تھی کہ ان
کی بڑی تعداد خود
نفسیاتی
غلامی کا
شکار ہو چکی
تھی اور ان کے
نزدیک "غلام
ہونا" کوئی
مسئلہ ہی نہ تھا۔ اگلے
ابواب میں ہم
قرون وسطی
میں یورپ اور
امریکہ میں موجود
غلامی کا
جائزہ لیں
گے۔ مسلم
معاشرے کے
غلاموں سے مغربی
ممالک کے
غلاموں کے
تقابل کا یہ
مقصد نہیں ہے
کہ ہم مسلم
تہذیب کی
مغربی تہذیب
پر فوقیت
ثابت کرنا
چاہتے ہیں۔ ہم
ان لوگوں میں
سے نہیں جو
تاریخ کا
مطالعہ متعصبانہ
طریقے پر
کرتے ہوئے
اپنی قوم کی
برتری اور
دوسری قوم کی
کمتری ثابت
کرنے کو اپنا
مشن قرار دے دیتے
ہیں۔ درست
طرز عمل یہ ہے
کہ غلطی جہاں
ہماری اپنی ہو،
اسے کھلے دل
سے قبول کیا
جائے اور اگر
دوسرے کی ہو
تو احسن
انداز میں اس
کی نشاندہی
کر دی جائے۔
ہم یہ سمجھتے
ہیں کہ غلامی
سے متعلق
دنیا کی تمام
اقوام نے ہی اپنے
جیسے انسانوں
پر ظلم کیا
ہے۔ مسلم
تاریخ کا
مطالعہ یہ
ثابت کرتا ہے
کہ مسلم
معاشروں میں جہاں
جہاں غلاموں
سے اچھا سلوک
کیا گیا اس
میں
مسلمانوں کا کمال
صرف یہی تھا کہ
انہوں نے اس
معاملے میں
اپنے دین کی
تعلیمات پر
عمل کیا تھا۔
جہاں جہاں
غلامی کو
برقرار رکھا
گیا اور
غلاموں سے
برا سلوک کیا
گیا تو ایسا مسلمانوں
کے اپنے دین
سے انحراف کے
نتیجے میں کیا
گیا۔ مسلم
اور مغربی
معاشروں کے
اس تقابل کی
وجہ صرف اور
صرف یہ ہے کہ
ہم اس سوال کا
جواب حاصل
کرنا چاہتے
ہیں کہ وہ کیا
عوامل تھے جن
کی بدولت
غلاموں کی
آزادی کی
حالیہ تحریک
مسلم
معاشروں کی
بجائے مغربی
معاشروں میں
پیدا ہو کر
کامیاب بھی
ہو گئی؟ ان
تفصیلات میں
جانے سے پہلے
ضروری ہے کہ
مسلم دنیا
میں نفسیاتی
غلامی پر بھی
ایک تفصیلی
بحث پیش کر دی
جائے۔ |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
||