دینی
احکام کے دو
پہلو ہیں۔ ایک
اس کی شریعت
کا ظاہری
ڈھانچہ
(Form) اور
دوسرا اس کا
باطن
(Spirit)۔ مثال کے
طور پر رکوع و
سجود نماز کا
ظاہر ہیں لیکن
اللہ تعالیٰ
سے تعلق اور
خشوع و خضوع
نماز کی روح
ہے۔ کعبہ
پہنچ کر پھیرے
لینا طواف کا
ظاہر ہے لیکن
خدا کے حضور
خود کو قربانی
کے لئے پیش
کرنا اس کی
اصل روح ہے۔بھوکے
کو کھانا
کھلانا ایک
ظاہری عمل ہے
لیکن لوگوں کی
خدمت کا جذبہ
اور اپنے
پروردگار کا
شکر اس کی روح
ہے۔ اسی طرح دین
کے ہر حکم کا
ظاہر و باطن
موجود ہے۔
جب دینی
اعمال افراد یااقوام کی
محض عادت بن
جائیں تو
رفتہ رفتہ ان
کا ظاہری
ڈھانچہ باقی
رہ جاتا ہے
اور اصل روح کی
طرف توجہ ہٹتی
چلی جاتی ہے۔
اس کے بعد
نماز محض
ورزش، روزہ
محض بھوک و پیاس،
زکوۃ محض
دکھاوےاور حج محض
سفر کا نام رہ
جاتا ہے۔اگلے
مرحلے پر گنتی
کے چند ظاہری اعمال
اصل بن جاتے ہیں
اور بہت سے
دوسرے
احکامات یا
تو نظر انداز
کر دیے جاتے ہیں
یا پھر ان کی
کھلی خلاف
ورزی کی جاتی
ہے، چنانچہ
زکوۃ تو دی
جاتی ہے لیکن
محتاجوں کو
ذلیل کر کے دی
جاتی ہے۔ حج
تو کیا جاتا
ہے لیکن اس کے
ساتھ ساتھ
اسمگلنگ بھی
کی جاتی ہے۔روزہ تو
رکھا جاتا ہے
لیکن اس کے
ساتھ افطار
پارٹیوں کی
صورت میں
نمود و نمائش
اور اسراف کا
پورا انتظام
کیا جاتا ہے۔
دعا بظاہر کی
تو خدا سے جاتی
ہے لیکن اس کے
اصل مخاطب
لوگ بن جاتے ہیں۔
جہاد کیا تو
اللہ کے نام
پر جاتا ہے لیکن
اس کا نشانہ
معصوم لوگوں
کو بنایاجاتا
ہے۔
کچھ
لوگ تو اس
ظاہر پرستی
کا شکار ہوتے
ہیں لیکن بعض
ایسے بھی
ہوتے ہیں جو
ظاہری
ڈھانچے کو
اہمیت دینے
پر تیار نہیں
ہوتے کیونکہ
اس میں انہیں
کچھ پابندیاں
سہنی پڑتی ہیں۔
ایسے لوگ
کہتے نظر آتے
ہیں کہ جی
نماز میں کیا
رکھا ہے، دین
تو خدمت خلق
کا نام ہے۔ حقیقت
یہ ہے کہ دین
اللہ تعالیٰ
کے احکام
کانام ہے۔ دین
کے ظاہری
ڈھانچے
(Form)اور
اس کی روح
(Spirit)دونوں
ہی کی اہمیت
اپنی اپنی
جگہ بجا ہے۔
جو لوگ دونوں
میں سے کسی ایک
کو بھی نظر
انداز کرتے ہیں،
وہ اللہ تعالیٰ
کے غضب کے
مستحق ہیں۔