|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری، امن
اور انسانیت
کی محبت سے
وابستہ |
|
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
||
|
مولوی
اور دور جدید |
||
|
بہت
سے لوگ
ہمارے دینی
حلقوں پر تنقید
کرتے ہیں لیکن
اس حقیقت سے
انکار ممکن
نہیں کہ یہ
ہمارے مولوی
ہی ہیں جنہوں
نے صدیوں سے دین
اور دینی
شعائر کو
زندہ رکھا
ہوا ہے۔ سخت
گرمی میں
دوپہر کے وقت
جب کوئی کڑکتی
دھوپ میں
نکلنا پسند
نہیں کرتا، یہ
مولوی ہی ہے
جو مسجد سے
اذان کی آواز
بلند کر کے
خدا کی طرف
بلاتا ہے۔ شدید
سردی میں جب
کسی کا دل
لحاف سے
نکلنے کو نہیں
چاہتا، مولوی
ہی اپنے رب کی
تکبیر بلند
کرتا ہے۔
مدارس میں
قال اللہ و
قال الرسول کی
صدائیں اسی
کے دم سے قائم
ہیں۔ انسان کی
پیدائش سے لے
کر اس کی شادی
اور شادی سے
لے کر اس کی
موت تک اس کا
واسطہ اسی
مولوی سے
پڑتا ہے۔ اس سب کے
باوجود
ہمارے ہاں
لفظ مولوی کو
ایک گالی بنا
دیا گیا ہے۔
کوئی یہ پسند
نہیں کرتا کہ
اس کی اولاد
مولوی بنے۔
اس میں
معاشرے
اورحکومت کا
قصور جو ہے سو
ہے، کچھ قصور
مولوی کا
اپنا بھی ہے۔ اس کا
سب سے بڑا
قصور یہ ہے کہ
اس نے بدلتے
ہوئے وقت کے
ساتھ ساتھ
خود کو اپ ڈیٹ
نہیں کیا۔ اس
کی زبان، اس
کے مسائل ، اس
کا گیٹ اپ، اس
کا رہن سہن،
اس کی بول چال
، اس کی چال
ڈھال، اس کی
تعلیم و تعلم
سب کا سب وہ ہے
جسے دنیا صدیوں
پہلے چھوڑ کر
آگے بڑھ چکی
ہے۔ تقلید
جامد کے خول
نے اسے وقت کے
تقاضوں کے
مطابق خود کو
تبدیل نہیں
ہونے دیا جس
کے باعث اب اس
کی دعوت،
موجودہ دنیا
میں غیر
متعلق (Irrelevant) ہوگئی ہے۔ ہم ہرگز یہ
نہیں کہتے کہ
وقت کے ساتھ
ساتھ دین کے
احکام میں بھی
تبدیلی کی
جائے۔ جو شریعت
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ
وسلم نے دی ہے
وہ کامل ہے،
اس میں کسی
تبدیلی کا
مسلمان سوچ
بھی نہیں
سکتا لیکن
جہاں اللہ کے
رسول صلی
اللہ علیہ
وسلم
نے کوئی
حدود قائم نہیں
کیں، وہاں
تبدیلی پیدا
کرنے میں کیا
حرج ہے۔
آج کے دور میں
دین کی سب سے
بڑی خدمت یہ
ہے کہ اس کی
دعوت دینے
والوں کی
زبان،
مسائل، گیٹ
اپ، رہن سہن،
بول چال، چال
ڈھال اور تعلیم
و تعلّم کو
دور حاضر سے
ہم آہنگ کیا
جائے تاکہ ان
کی دعوت دور
جدید کے
انسان تک
پہنچ سکے۔ محمد
مبشر نذیر August
2006 |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد جدید
کے مغربی اور
مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
||