متحدہ
ہندوستان میں
مسلمانوں کے
محلے میں ایک
غیر مسلم نالی
پر بیٹھا پیشاب
کر رہا تھا
اور اس کا منہ
قبلے کی طرف
تھا۔ ایک
مسلمان نے
اسے دیکھا تو
گردن سے پکڑ لیا
اور گرج کر
بولا ،’’ تم
ہمارے قبلے کی
توہین کر رہے
تھے۔ ‘‘ غیر
مسلمنے معذرت کی
اور کہا ، ’’
مجھے آپ کے
قبلے کی سمت
معلوم نہ تھی۔
آئندہ خیال
رکھوں گا۔‘‘
کچھ دن بعد اس
غیر مسلم نے
اسی مسلمان
کو دیکھا کو
وہ قبلہ رو بیٹھا
پیشاب کر رہا
ہے۔ اس نے بڑی
عاجزی سے اس کی
وجہ دریافت کی۔
مسلمان کو
بڑا غصہ آیا
اور وہ کہنے
لگا، ’’ہمارا
قبلہ ہے، ہم
جو چاہے کریں،
تمہیں اس سے کیا؟‘‘
یہ
واقعہ ہم
مسلمانوں کی
انفرادی اور
اجتماعی
زندگی کے
دوہرے معیارات (Double Standards)کی تصویر
کشی کرتا ہے۔
سیدنا عیسیٰ
علیہ السلام
کے الفاظ میں
ہم دوسروں کی
آنکھ کے تنکے
کو تو بہت گہری
نظر سے نوٹ
کرتے ہیں لیکن
اپنی آنکھ کے
شہتیر کو نظر
انداز کردیتے
ہیں۔ ہم مچھر
چھاننے میں
تو بڑی احتیاط
کرتے ہیں لیکن
اونٹ بغیر
ڈکار لئے نگل
جاتے ہیں۔ہم اس
بات کی خواہش
رکھتے ہیں کہ
ہمارے مذہب
کا پوری دنیا
احترام کرے لیکن
دوسری اقوام
کے مذہبی
شعائر کا
مذاق اڑانا
ہم اپنا حق
سمجھتے ہیں۔
غیرمسلم
ممالک میں
جاکر اسلام کی
تبلیغ کے
مواقع سے ہم
بھرپور
فائدہ
اٹھاتے ہیں لیکن
اپنے ممالک میں
ہم یہ حق غیر
مسلموں کو دینے
کو تیار نہیں۔جب ہم
پر کوئی حملہ
ہو تو ہم پوری
دنیا میں چیخ
و پکار کرتے ہیں
لیکن دوسروں
پر حملہ کرتے
ہوئے ہم اسے اپنا
دینی فریضہ
سمجھتے ہیں۔
انہی
دوہرے معیارات
کے باعث دنیا
میں ہماری
بات کی کوئی
وقعت نہیں رہی۔
اقوام عالم میں
ہمارا کوئی
مقام نہیں
رہا ۔ کوئی
ہماری بات کو
اہمیت دینے
کو تیار نہیں۔
اگر ہم اپنا
کھویا ہوا
مقام حاصل
کرنا چاہتے ہیں
تو دوسروں پر
حملہ کرنے سے پہلے
ہمیں خود کو
دوہرے معیارات
سے آزاد کرنا
ہوگا۔ ہمیں
اس بات کا تعین
کرنا ہوگا کہ
اگر ایک چیز
دوسرے کے لئے
برائی ہے تو
ہم اس سے خود
بھی اجتناب
کرنے والے
ہوں۔ اگر ہم
دوسرے سے حق
مانگیں تو
پہلے اسے اس
کا حق ادا کریں۔