|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری،
امن اور
انسانیت کی
محبت سے
وابستہ |
|
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
||
|
جذبہ
حسد اور جدید
امتحانی طریقہ |
||
|
کمرہ
امتحان میں
طالب علموں میں
نقل روکنے کے
لئے ایک جدید
طریق کار وضع
کر لیا گیا ہے
جس کے مطابق
ہزاروں
سوالوں کا ایک
ڈیٹا بیس بنا
لیا جاتا ہے
اور کمپیوٹر
اس ڈیٹا بیس میں
سے ایک متعین
تعداد میں
سوال نکال کر
امتحانی
پرچہ بنا لیتا
ہے۔ اس طرح ہر
طالب علم کو
دوسرے سے
مختلف
امتحانی
پرچہ ملتا
ہے۔
امتحان کے
بعد ایسے
طالب علم جنہیں
زیادہ تعداد
میں مشکل
سوالات ملے
ہوتے ہیں،
اضافی
نمبروں کے
مستحق ہوتے ہیں۔ ان کے
امتحانی
سکور کو ایک
طے شدہ
فارمولے سے ایڈجسٹ
کرکے اس میں
اضافہ کردیا
جاتا ہے۔ اس
طریقے سے کسی
سے کوئی زیادتی
بھی نہیں ہوتی
اور طالب علم
نقل بھی نہیں
کرپاتے۔ کمرہ
امتحان میں
کوئی طالب
علم دوسرے سے
حسد میں
مبتلا نہیں
ہوتا کہ اسے یہ
سوال کیوں
ملا ، مجھے کیوں
نہیں ملا کیونکہ
اسے یہ معلوم
ہوتا ہے کہ
آخر میں مجھ
سے کوئی زیادتی
نہیں ہوگی۔ اس کے
برعکس دنیا میں
جب ایک شخص
دوسرے کو
اللہ کی کوئی
نعمت ملتے
ہوئے دیکھتا
ہے تو جذبہ
حسد میں مبتلا
ہو جاتا ہے۔
دنیا میں لوگ
ایک دوسرے سے
حسد اس لئے
کرتے ہیں کہ
وہ یہ سمجھتے
ہیں کہ یہی دنیا
کی زندگی ہی
سب کچھ ہے۔
اگر اس میں کسی
کو زیادہ
نعمتیں مل گئی
ہیں تو اسے
مجھ پر فوقیت
دی گئی ہے۔ یہ آخرت
پر کامل ایمان
نہ ہونے کا نتیجہ
ہے۔ حقیقت یہ
ہے کہ یہ دنیا
ایک بہت بڑا
کمرہ امتحان
ہے جس میں سب
کو ایک دوسرے
سے مختلف ٹیسٹ
دیا گیا ہے۔ امتحان
کے آخر میں ہر
شخص کے رزلٹ
کو اس کے
امتحان کے
آسان یا مشکل
ہونے کی بنیاد
پر ایڈجسٹ کیا
جائے گا اور
کسی سے کوئی زیادتی
نہ کی جائے گی۔
اس لئے ایک
دوسرے سے حسد
میں مبتلا
ہونا محض بے
وقوفی ہے۔ دنیا
کی نعمتیں
امتحانی
سوال ہیں نہ
کہ امتحان کا
رزلٹ۔ دنیا میں
ہمیں جو بھی
نعمت یا تکلیف
ملتی ہے وہ
محض آسان یا
مشکل امتحانی
سوالات ہیں
جو ہمارے شکر
اور صبر کا ٹیسٹ
ہیں۔ نادان
لوگ انہیں نتیجہ
سمجھ کر حسد میں
مبتلا ہوتے ہیں
اور خدا کی
ناشکری کے
باعث اس
امتحان میں فیل
ہو جاتے ہیں۔ محمد
مبشر نذیر August
2006 |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد جدید
کے مغربی اور
مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
||