|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
||
Religion
& Ethics
Dedicated
to ethics, religious tolerance, peace and love for humanity |
اخلاقیات
اور مذہب
اعلی
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری،
امن اور
انسانیت کی
محبت سے
وابستہ |
|
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
||
|
دور جدید
کی سازش |
||
|
ممتاز
مفتی صاحب کے
بقول اگر ہم
اپنے بڑے
بوڑھوں کی
باتیں سنیں
تو ایسا لگتا
ہے کہ جیسے
دور جدید
ہماری نئی
نسل کا پیدا
کردہ ہو۔ نئی نسل
نے جان بوجھ
کر دین کے
خلاف کوئی
سازش کی ہو جس
کے نتیجے میں
ہر طرف بے راہ
روی پھیل چکی
ہے۔ اگر ہم اب
سے سو سال
پہلے کی تحریروں
کا جائزہ لیں
تو شاعروں سے
لے کر نثر
نگاروں تک
سبھی لوگ نئے
دور کو بے نقط
سناتے ہیں
اور اپنی نوجوان
نسل کی بے راہ
روی کا رونا
روتے ہیں۔ یہی
نوجوان نسل
جب 1930-40کی دہائیوں
میں بوڑھی
ہوتی ہے تو
اپنی آنے والی
نسل کو کوستی
ہے۔ یہ آنے
والی نسل 1970-80کے زمانے
کو برا بھلا
کہتی ہے اور
اس دور میں پیدا
ہونے والے اکیسویں
صدی کو فتنہ
قرار دیتے ہیں۔ حقیقت یہ
ہے کہ سبھی
لوگ اپنے دور
کو اعلیٰ اور
نئے دور کو حقیر
سمجھتے ہیں۔ یہ
درست ہے کہ
موجودہ دور میں
عریانی و
فحاشی اپنے
عروج کو پہنچ
گئی ہے اور
معاشرے میں
دنیا پرستی
کا دور دورہ
ہے لیکن
ہم اگر قدیم
ادوار کا
جائزہ لیں تو یہ
حیرت انگیز
انکشاف ہوگا
کہ اگرچہ اس دور
میں یہ برائیاں
نہ تھیں جو اب
ہیں لیکن اس
دور میں کچھ
اور برائیاں
موجود تھیں
جو اب دنیا سے
غائب ہو چکی ہیں۔ اگر دور
جدید میں دنیا
پرستی کا
غلبہ ہے تو
دور قدیم میں
شرک جیسے
گناہ عظیم میں
قوموں کی قومیں
مبتلا تھیں۔
اگر اب بے
لگام آزادی
کا دور دورہ
ہے تو پہلے
انسانیت
غلامی کے
پنجہ
استبداد میں
تڑپ رہی تھی۔
اگر اب بینکوں
کے ذریعے سود
معیشت کی بنیاد
بن چکا ہے تو
پہلے تقریباً
ہر غریب آدمی
کا بال بال
مہاجنوں کے
سودی جال میں
پھنسا ہوا
تھا۔
اگر اب سرمایہ
دار عوام کا
استحصال
کرتے ہیں تو
پہلے جاگیر
دار ان کا خون
چوستے تھے۔
اگر اب عریانی
عام ہے تو
پہلے بڑے لوگ
اپنے حرم میں
معصوم بچیوں
کو کنیزیں
بنا کر رکھتے
تھے اور ان کا
جنسی
استحصال
کرتے تھے۔ اگر دقت
نظر سے دیکھا
جائے تو
موجودہ دور
سراسر برائی
ہی پر مشتمل
نہیں، اس میں
خیر کے بہت سے
امکانات بھی
موجود ہیں۔ میڈیا
اگر ایک طرف
عریانی
پھیلا رہا
ہے تو دوسری
طرف دین کی
دعوت کے فروغ
کا ذریعہ بھی
بن رہا ہے۔
جاگیردارانہ
نظام شکست و ریخت
کا شکار ہو
رہا ہے۔
انسان بڑی
حد تک دوسرے کی
غلامی سے
آزاد ہو رہا
ہے۔ مذہبی
جبر کا بڑی حد
تک خاتمہ ہو
چکا ہے۔ دنیا
بھر میں طاقت
کے مراکز میں
لوگ جوق در
جوق اسلام کی
آغوش میں
آرہے ہیں۔ ایک
صاحب نظر کے
مشاہدے کے
مطابق آج
مساجد میں
نمازیوں کی
تعداد اور
تناسب 1950
کے مقابلے میں
بہت زیادہ
ہے۔ اصل میں
ہر شخص اپنے
دور کی برائیوں
کا عادی (used to)
ہوتا
ہے۔ جب نئے
دور میں اسے
نئی خرابیاں
نظر آتی ہیں
تو اسے یہ بڑا
عجیب محسوس
ہوتا ہے اور
وہ نئے دور کو
برا کہنے لگتا
ہے۔ اس
کے مقابلے میں
اسے نئے دور کی
خوبیاں نظر
نہیں آتیں۔
حقیقت یہ ہے
کہ کوئی دور
برا نہیں
ہوتا۔
خیر و شر کی
جنگ ازل سے
جاری ہے اور
ابد تک جاری
رہے گی۔ بدی
نت نئی شکلوں
میں آتی رہے گی۔
یہی انسان کا
امتحان ہے۔ بدی کی
نئی شکلیں دیکھ
کر کبھی دل
برداشتہ نہیں
ہونا چاہیئے
کیونکہ آخری
فتح نیکی ہی کی
ہوگی اور
انسان اپنے
رب کی جنت میں
ایول فری (Evil
Free) زندگی
گزار سکیں
گے۔ دور جدید
کی برائیاں
ہماری نئی
نسل کی سازش
نہیں بلکہ یہ
عالمی حالات
کی پیداوار
ہے۔ ہماری نئی
نسل تو مظلوم
ہے اور ہماری
ہمدردی کی
مستحق ہے۔
اگر ہم نے اپنی
نئی نسل اور
نئے دور کو بدی
کا منبع قرار
دے کر اس سے
قطع تعلق کر لیا
تو ہم اپنی
آنے والی
نسلوں کو
برائی سے نہ
بچا سکیں گے۔
ضرورت اس امر
کی ہے کہ ایسے لوگ
جو اپنے دل میں
نیکی کا شعور
رکھتے ہیں
اور برائیوں
پر کڑھتے ہیں،
میدان عمل میں
آئیں ۔ دور جدید
کو اس کی خوبیوں
اور خامیوں
کے ساتھ سمجھیں
، اس میں
موجود خیر کے
پوٹینشل کو
بھرپور
استعمال
کرتے ہوئے
اپنی آنے والی
نسل میں خیر و
شر کا شعور بیدار
کریں۔ کسی
مفکر نے سچ ہی
تو کہا ہے کہ
وقت ایک
دھارا ہے جسے
روکا تو نہیں
جاسکتا لیکن
اس کا رخ تبدیل
کیا جاسکتا
ہے۔ محمد
مبشر نذیر July
2006 دور
جدید کی
خوبیوں اور
خامیوں کے
تفصیلی تجزیے
کے لئے میری
تحریر اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں دیکھیے۔ |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی کے
انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد جدید
کے مغربی اور
مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
||