|
گنیش جی کا
جلوس
پچھلے دنوں
ہندوؤں کا ایک
مذہبی جلوس دیکھنے
کا اتفاق ہوا۔
یہ گنیش جی کا
جلوس تھا۔
جلوس کے ساتھ
بہت سے دیوتاؤں
کے دیو قامت
مجسمے اور
ماڈل تھے۔
بعض مجسموں میں
ہوا بھر کر
انہیں 40 فٹ تک بلند
کیا گیا تھا۔
کسی کے چہرے
پر ہاتھی جیسی
دم تھی اور کسی
کی شکل بندر
سے ملتی جلتی
تھی۔
جلوس کے
شرکا کی
تعداد
بلامبالغہ
لاکھوں میں
تھی اور یہ
جلوس کئی میل
تک پھیلا ہوا
تھا۔ جلوس کی
قیادت کرنے
والے ایک بڑے
ٹرک پر سوار
تھے اور لاؤڈ
سپیکر پر
بھگوان اور دیوتاؤں
کی شان میں
بڑے جوش و
خروش سے نظمیں
پڑھ رہے تھے۔
لوگ ان نظموں
پر انتہائی
جوش کے عالم میں
جھوم رہے تھے
اور والہانہ
انداز میں
رقص کر رہے
تھے۔
میرے
لئے یہ منظر نیا
نہ تھا۔ میں
بچپن ہی سے
مسلمانوں کے
ایسے ہی جلوس
دیکھتا رہا
ہوں۔ ان کے
اعمال اور
افعال میں
ہندوؤں سے حیرت
انگیز
مشابہت پائی
جاتی ہے۔ جب میں
بڑا ہوا اور
اللہ تعالیٰ
نے مجھے قرآن
مجید اور
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ
وسلم کی احادیث
کے مطالعے کی
توفیق دی تو میں
حیران رہ گیا
کہ مذہبی
جلوسوں کا
تصور اسلام میں
کہیں نہیں پایا
جاتا۔
کبھی ایسا
نہیں ہوا کہ
صحابہ کرام
نے کسی مخصوص
تاریخ پر مذہبی
شان و شوکت کے
ساتھ جلوس
نکالے ہوں
اور اس میں
مذہبی
علامات کو آن
بان کے ساتھ
اٹھایا ہوا۔
اس طرح کے
مذہبی جلوس
عالم اسلام میں
زیادہ تر
برصغیر کے
مسلمانوں ہی
میں پائے
جاتے ہیں۔ ایسا
معلوم ہوتا
ہے کہ
مسلمانوں کے
مذہبی جلوس
برصغیر کے
مسلمانوں پر
ہندو مت کے اثرات
میں سے ہیں۔
تعجب
کی بات یہ ہے
کہ ہماری
مذہبی قیادت
نے ان جلوسوں
کو اتنا تقدس
عطا کر دیا ہے
کہ وہ اس کے
لئے دین کے صریح
احکامات کی
خلاف ورزی سے
اجتناب نہیں
کرتے۔ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
وسلم کے
ارشاد کے
مطابق
مسلمان وہ ہے
جس کے ہاتھ
اور زبان سے
دوسرا
مسلمان
محفوظ رہے۔
کتنے ہی مریض
ان جلوسوں کی
وجہ سے راستہ
نہ پانے کی
وجہ سے
ہسپتال
بروقت
پہنچنے سے رہ
جاتے ہیں اور
زندگی سے ہار
جاتے ہیں۔
اللہ کے نبی
صلی اللہ علیہ
وسلم تو
راستے سے
کانٹا اور
پتھر ہٹانے
کو صدقہ قرار
دیتے ہیں
جبکہ مذہبی
جلوس ان
راستوں کو مکمل
طور پر بند
کردینے کو دین
تصور کرتے ہیں۔
بعض
مذہبی رہنما
اپنے جلوسوں
کی حمایت میں
سیاسی
جلوسوں کی دلیل
پیش کرتے ہیں۔
یہ عذر گناہ
بدتر از گناہ
والی بات ہے۔
مفاد پرست سیاستدانوں
کو صرف اپنے
مفاد سے غرض
ہوتی ہے۔ انہیں
عام انسانو ں
کی مشکلات سے
کوئ تعلق نہیں
ہوتا۔ اگر وہ
کوئ ایسا کام
کرتے ہیں جو
عوام کو تکلیف
دیتا ہے تو یہ
اس بات کا
جواز نہیں بن
سکتا کہ اس کی
بنیاد پر اہل
مذہب اللہ
اور اس کے
رسول کے نام
پر عوام کو
تکلیف دینے
لگیں۔
محمد
مبشر نذیر
December 2005
|