|
Ethics &
Religion Dedicated to ethics, religious
tolerance, peace and love |
اخلاقیات
اور مذہب اعلیٰ
اخلاقی رویوں،
مذہبی رواداری
، امن اور
محبت سے
وابستہ |
|||||
اگلا
صفحہ فہرست پچھلا
صفحہ
باب
12: قیاس
سائل:
آپ کس بنیاد
پر یہ نقطہ
نظر رکھتے ہیں
کہ اگر کتاب
اللہ، سنت
اور اجماع
موجود نہ ہوں
تو قیاس کیا
جائے گا؟ کیا
قیاس کے بارے
میں کوئی حدیث
موجود ہے؟ شافعی:
اگر قیاس
کتاب و سنت کی
نص میں موجود
ہوتا تو اسے
کتاب کا یا
سنت کا حکم
کہا جاتا نہ
کہ اس کا نام
ہم "قیاس"
رکھتے۔ سائل:
تو پھر "قیاس"
کیا چیز ہے؟ کیا
یہ اجتہاد کا
دوسرا نام ہے یا
یہ دونوں
مختلف ہیں؟ شافعی: یہ ایک ہی چیز
کے دو نام ہیں۔ سائل: ان میں کیا
مشترک بات
ہے؟ شافعی: ایک مسلمان
فقیہ جب کسی
معاملے میں
غور کرتا ہے
تو یا تو وہ
(قرآن و سنت کے)
کسی لازمی
حکم پر
پہنچتا ہے
اور یا پھر کسی
دلیل کی بنیاد
پر درست بات
تک پہنچتا ہے۔
اگر اس
معاملے میں
(قرآن و سنت کا)
کوئی واضح
حکم موجود ہے
تو اس کی پیروی
کی جائے گی
اور اگر ایسا
واضح حکم نہ
ملے تو پھر
اجتہاد کے ذریعے
درست بات
معلوم کرنے کی
کوشش کی جائے
گی۔ اجتہاد قیاس
ہی کو کہتے ہیں۔
سائل: جب اہل علم قیاس
کرتے ہیں تو کیا
وہ حق بات تک
پہنچ جاتے ہیں
جو اللہ کے
نزدیک حق ہے۔
کیا قیاس میں
اختلاف رائے
ہو سکتا ہے؟ کیا
ہر سوال کا ایک
ہی جواب ممکن
ہے یا پھر اس
کے مختلف
جواب ہو سکتے
ہیں؟ اس بات کی
کیا دلیل ہے
کہ قیاس ظاہری
معلومات کی
بنیاد پر ہی کیا
جائے گا اور
مخفی
معلومات کو
نظر انداز کیا
جائے گا؟ کیا
اختلاف رائے
کرنا درست
ہے؟ کیا (قیاس
کا یہ عمل) ان
کے ذاتی
معاملات میں
دوسروں سے
متعلق
معاملات کی
نسبت مختلف
ہوتا ہے؟ کس
شخص کو صرف
اپنے سے متعلق
معاملات ہی میں
قیاس کرنا
چاہیے اور
دوسروں سے
متعلق
معاملات میں
قیاس نہیں
کرنا چاہیے
اور کسی شخص
کو اپنے
علاوہ
دوسروں کے
معاملات میں
بھی قیاس سے
کام لینا چاہیے؟ شافعی: علم کئی طرح
سے حاصل ہوتا
ہے: ایک تو وہ
جو ظاہری اور
مخفی دونوں
قسم کی
معلومات پر
مبنی ہوتا ہے
اور دوسرا
صرف ظاہری
معلومات پر۔
ظاہری و باطنی
معلومات پر
مبنی علم
اللہ یا اس کے
رسول صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کے حکم
کو (کثیر
تعداد میں)
عام لوگوں سے
عام لوگوں تک
(متواتر) نقل
کرنے سے حاصل
ہوتا ہے۔ یہ
دونوں (یعنی
کتاب و سنت) ہی
وہ بنیاد ہیں
جن سے حلال
کام کے حلال
ہونے اور
حرام کام کے حرام
ہونے کا فیصلہ
ہوتا ہے۔ یہ
وہ علم ہے جس میں
نہ تو کسی کو
شک ہونا چاہیے
اور نہ ہی کسی
کو اس سے بے
خبر ہونا چاہیے۔ دوسری
قسم کا علم وہ
ہے جو خاص
لوگوں سے خاص
لوگوں نے روایت
کیا ہے اور ان
کے علاوہ عام
لوگ اسے
جاننے کے مکلف
نہیں ہیں۔ یہ
علم ان اہل
علم یا ان میں
بعض افراد کے
پاس ہو سکتا
ہے جو کسی سچے
اور قابل
اعتماد راوی
کی وساطت سے
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم سے روایت
کیا جاتا ہے۔
اھل علم پر
لازم ہے کہ وہ
اسے قبول کریں۔
یہ اسی طرح حق
ہے جیسا کہ ہم
گواہی دینے
والوں کی
گواہی کو
قبول کرتے ہیں۔
یہ صرف ظاہری
معلومات ہی کی
بنیاد پر حق
ہے کیونکہ دو
افراد کی
گواہی میں بھی
غلطی ہو سکتی
ہے (جو پوشیدہ
ہو اور اس کا
علم نہ ہو سکے)۔ (تیسری
قسم کا) علم
اجماع سے اور
(چوتھی قسم کا)
علم قیاس سے
حاصل ہوتا ہے
جو درست بات
تک پہنچنے کے
لئے کیا جاتا
ہے۔ جو شخص یہ
قیاس کر رہا
ہے اس کے لئے
ظاہری
معلومات کی
بنیاد پر ہی
وہ حق ہے لیکن
عام اہل علم
کے لئے ایسا
نہیں ہے (کہ وہ
ہر عالم کے قیاس
کو جان کر اس
پر عمل کر سکیں)
کیونکہ غیب
کا علم تو
اللہ کے سوا
کوئی نہیں
جانتا۔ جب قیاس
کے ذریعے
(درست بات کا)
علم حاصل
کرنے کی کوشش
کی جائے گی
اور صحیح قیاس
کیا جائے گا
تو ایسا ہو گا
کہ قیاس کرنے
والے اکثر
معاملات میں
اتفاق رائے
پر پہنچیں گے
جبکہ چند
معاملات میں
ہم ان میں
اختلاف بھی
پائیں گے۔ قیاس
دو قسم کا ہے: ایک تو
یہ کہ جس
معاملے میں قیاس
کیا جا رہا
ہے، اس میں
اور اصل
معاملے میں (یعنی
جس پر قیاس کیا
جا رہا ہے)
واضح مشابہت
ہو۔ اس
معاملے میں
تو کوئی
اختلاف نہ ہو
سکے گا۔ (دوسری
صورت یہ ہے کہ)
جس معاملے میں
قیاس کیا جا
رہا ہے اس کی
اصل حکم میں
کئی مثالیں
موجود ہوں۔
اس کا الحاق
اسی حکم سے کیا
جائے گا جس کے
وہ زیادہ قریب
ہے اور جس سے
وہ زیادہ
مشابہت
رکھتا ہے۔ ایسی
صورت میں میں
قیاس کرنے
والوں میں
اختلاف رائے
ہو سکتا ہے (کیونکہ
ایک عالم اس
معاملے کو ایک
چیز پر قیاس
کر سکتا ہے
اور دوسرا
دوسری چیز پر۔)
سائل: کیا آپ
مثالوں سے اس
بات کی وضاحت
کر سکتے ہیں
کہ (فقہی) علم
دو طرح کا
ہوتا ہے، ایک
تو وہ جو ظاہری
اور مخفی
معلومات کی
بنیاد پر
درست بات کا
احاطہ کرتا
ہے اور دوسرا
وہ جو صرف
ظاہری
معلومات کی
بنیاد پر اور
مخفی
معلومات کو
چھوڑ کر درست
بات کا احاطہ
کرتا ہے۔
برائے کرم ایسی
مثالیں دیجیے
جو مجھے بھی
پہلے سے
معلوم ہوں۔ شافعی: جب ہم مسجد
الحرام میں
ہوں تو ہم
کعبہ کو دیکھتے
ہیں۔ کیا ہم
اس بات کے
مکلف نہیں کہ
ہم بالکل
درست اور متعین
طریقے پر
کعبے کی طرف
رخ کریں؟ سائل: جی ہاں۔ شافعی: ہم پر نماز،
زکوۃ، حج اور
دیگر احکام
کو فرض کیا گیا
ہے۔ کیا ہم اس
بات کے مکلف
نہیں کہ ان
احکام کی
بالکل درست
اور متعین طریقے
پر پیروی کریں۔ سائل: جی بالکل۔ شافعی: ہم پر لازم
ہے کہ ہم
بدکار کو سو
کوڑوں کی سزا
دیں، جھوٹی
تہمت لگانے
والے کو اسی
کوڑوں کی سزا
دیں، اسلام
لانے کے بعد
کفر کرنے
والے کو موت کی
سزا دیں، اور
چور کو ہاتھ
کاٹنے کی سزا
دیں۔ کیا ہم
پر یہ لازم نہیں
کہ اگر کوئی
ان جرائم کا
اعتراف کر لے
تو ہم اس پر یہ
سزائیں نافذ
کر دیں؟ سائل: جی ہاں۔ شافعی: اس معاملے میں
اگر ہم اپنی
ذات سے متعلق
کوئی فیصلہ
کر رہے ہوں یا
کسی دوسرے
شخص سے
متعلق، کیا
وہ بالکل ایک
ہی نہ ہو گا؟
اگرچہ ہم
اپنے متعلق
جو کچھ جانتے
ہیں وہ
دوسروں سے
متعلق نہیں
جانتے اور
دوسرے لوگ
ہمارے متعلق
وہ کچھ نہیں
جانتے جو ہم
اپنے متعلق
جانتے ہیں۔ سائل: بالکل درست۔ شافعی: کیا ہم اس
بات کے مکلف
نہیں ہیں کہ
ہم جہاں بھی
ہوں (نماز کے
لئے) قبلے کی
جانب منہ کریں؟ سائل: جی ہاں۔ شافعی: کیا آپ اتفاق
کریں گے کہ
قبلے کی طرف
بالکل صحیح
طور (یعنی بغیر
ایک ڈگری کے
فرق کے بھی) پر
رخ کرنا
ہمارے لئے
ضروری ہے؟ سائل: (کعبے کو) دیکھتے
ہوئے جس طرح
بالکل درست
رخ کرنے کا
حکم ہے، ایسا
(دوسری
صورتوں میں
تو) نہیں ہے۔
ہاں جو آپ پر
لازم ہے وہ آپ
ادا کرنے کی
کوشش کریں گے
(کہ قبلے کا رخ
متعین کرنے کی
ہر ممکن کوشش
کریں گے۔) شافعی: ایک چیز اگر
ہماری
آنکھوں کے
سامنے ہے تو
اس کا (رخ متعین
کرنے کا) حکم کیا
اس چیز (کا رخ
متعین کرنے)
کے حکم سے
مختلف ہو گا
جو ہماری
نظروں سے
اوجھل ہے؟ سائل: بالکل۔ شافعی: اسی طرح کیا
ہم اس کے مکلف
نہیں کہ ایک
شخص کے ظاہری
عمل کی بنیاد
پر یہ تسلیم
کر لیں کہ اس
کا کردار
اچھا ہے (جبکہ
اس کے دل میں کیا
ہے وہ ہمیں
معلوم نہ ہو)۔
اسی طرح جو
شخص بظاہر
مسلمان ہو اس
سے نکاح بھی کیا
جائے گا اور
اسے وراثت میں
بھی حصہ دیا
جائے گا۔ سائل: جی ہاں۔ شافعی: اگرچہ وہ شخص
اپنے باطن میں
اچھے کردار
کا نہ ہو؟ سائل: یہ ممکن ہے لیکن
ہم تو صرف اسی
کے مکلف ہیں
جو ہمیں
بظاہر معلوم
ہے۔ شافعی: کیا کسی کے
بظاہر
مسلمان ہونے
کی بنیاد پر
ہمارے لئے
جائز ہے کہ ہم
اس شخص سے
نکاح کو جائز
قرار دیں،
اسے وراثت میں
حصہ دیں، اس کی
گواہی قبول
کریں اور اس
کے قتل کو
حرام سمجھیں؟
ہمارے علاوہ
اگر کسی اور
شخص کو یہ علم
ہو جائے کہ وہ
دراصل
مسلمان نہیں
(بلکہ دشمن
فوج سے تعلق
رکھنے والا
ہے) تو کیا اس
شخص (حاکم وقت)
کے لئے درست
نہ ہو گا کہ وہ
اس سے نکاح کو
ممنوع قرار
دے، اسے
وراثت میں
حصہ دار نہ
بنائے، اسے
قتل کرنے کا
حکم دے، وغیرہ
وغیرہ۔ سائل: جی ہاں۔ شافعی: تو کیا آپ یہ
سمجھتے ہیں
کہ اس شخص کے
بارے میں
ہماری اور
دوسرے عالم کی
ذمہ داری ایک
دوسرے کے علم
کے مختلف
ہونے کی بنیاد
پر مختلف ہے؟ سائل: جی ہاں کیونک | ||||||