|
Ethics &
Religion Dedicated to ethics, religious
tolerance, peace and love |
اخلاقیات
اور مذہب اعلیٰ
اخلاقی رویوں،
مذہبی رواداری
، امن اور
محبت سے
وابستہ |
|||||
اگلا
صفحہ فہرست پچھلا
صفحہ
باب
8: اللہ
اور اس کے
رسول کی بیان
کردہ ممانعتیں سائل: برائے کرم میرے
لئے آپ اللہ
جل ثناوہ اور
نبی صلی اللہ
علیہ واٰلہ
وسلم کی جانب
سے ممانعت کے
احکام کو بیان
کر دیجیے۔ (یہ
خیال رہے کہ)
اس میں کوئی
بات رہ نہ
جائے۔ شافعی: ممانعت کے
احکام کی دو
اقسام ہیں۔ ایک
تو یہ کہ ایک چیز
سے منع کر کے
اسے حرام
قرار دیا گیا
ہو۔ یہ صرف اسی
صورت میں
حلال ہو سکتا
ہے اگر اس کے
بارے میں
اللہ کی کتاب یا
اس کے نبی صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی زبان
سے کوئی بات
پتہ چلے۔ جب
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے کسی
بات سے منع
فرمایا تو وہ
حرام ہو جائے
گی۔ جیسا کہ میں
بیان کر چکا
ہوں اس کے
حرام نہ ہونے
کی کوئی وجہ
نہیں ہے
سوائے اس کے
کہ کوئی بات
اس میں مضمر
ہو (جس کی بنیاد
پر اسے حلال
قرار دیا جا
سکے۔) سائل: یہ
جو بات آپ نے
ابھی بیان کی
ہے اس کی کوئی
مثال بیان کیجیے
جو اس کے معنی
کی وضاحت کر
سکے۔ شافعی:
تمام خواتین
سے ازدواجی
تعلقات قائم
کرنا (مردوں
کے لئے) حرام
ہے۔ یہ صرف دو
وجہ سے جائز
ہے: ایک تو
نکاح (کر کے بیوی
سے) یا پھر اپنی
کنیز سے
ازدواجی
تعلقات قائم
کرنا۔ انہی
دونوں
صورتوں کی
اللہ تعالی
نے اجازت دی
ہے۔ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے سنت
قائم فرمائی
کہ حرام
ازدواجی
تعلقات کو
جائز کرنے کے
لئے "نکاح" کیسے
کیا جائے؟ آپ
نے سنت قائم
فرمائی کہ
(نکاح کے موقع
پر) سرپرست
موجود ہو،
گواہ ہوں اور
خاتون اگر
کنواری نہ ہو
تو اس سے
اجازت (الفاظ
میں) لی جائے۔
ان دونوں (میاں
بیوی) کی رضا
مندی سے
متعلق آپ کی
سنت اس بات کی
دلیل ہے کہ
شادی دونوں کی
رضا مندی سے
ہونی چاہیے۔
اس معاملے میں
مرد و عورت میں
کوئی فرق نہیں
ہے۔ جب
نکاح میں یہ
چار شرائط، میاں
اور بیوی کی
رضا مندی،
سرپرست کی
موجودگی اور
گواہ، پوری
کر دی جائیں
تو نکاح ہو
جائے گا۔
سوائے ان
حالات کے جن کی
تفصیل میں
آگے بیان
کروں گا۔ جب
نکاح کرتے
ہوئے ان
شرائط میں سے
ایک بھی پوری
نہ ہو تو نکاح
درست نہ ہو گا۔
اس کی وجہ یہ
ہے کہ یہ نکاح
سے متعلق
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی قائم
کردہ سنت کے
مطابق نہیں
ہے۔ اگر (نکاح
کے وقت) حق مہر
طے کر لیا
جائے تو یہ
پسندیدہ
معاملہ ہے لیکن
اگر یہ طے نہ کیا
جائے تو نکاح
بہرحال غلط
نہ ہو گا۔ اس کی
وجہ یہ ہے کہ
اللہ تعالی
کے نکاح سے
متعلق احکام
میں مہر کو بیان
نہیں کیا گیا۔
یہ بحث اور
مقام پر (کتاب
الام میں) بھی
کی گئی ہے۔
اس
معاملے میں ایک
ایسی خاتون
(جو معا۱شرے میں)
عزت دار سمجھی
جاتی ہے یا وہ
جو عزت دار نہیں
سمجھی جاتی،
دونوں برابر
ہیں۔ اس کی
وجہ یہ ہے کہ
حلال و حرام،
اور سزاؤں کے
معاملات میں
ان سے متعلق
(قانون) یکساں
ہے۔ اگر
نکاح ایسی
صورتحال میں
کیا گیا ہے جو
میں نے بیان
کئے تو نکاح
ہو جائے گا۔
اگر نکاح ایسی
صورتحال میں
کیا گیا جس میں
نکاح سے منع کیا
گیا ہے تو
نکاح نہ ہو گا۔
جب نکاح ان
حالات میں کیا
گیا جن سے
اللہ تعالی
نے اپنی کتاب
میں یا اپنے
رسول صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کی زبان
سے منع فرما دیا
ہو تو نکاح
درست ہی نہیں
ہو گا۔ وہ
حالات یہ ہیں: ·
اگر
ایک شخص (اپنی
بیوی کی
موجودگی میں)
اس کی بہن سے
نکاح کرے۔
اللہ تعالی
نے دو بہنوں
کو نکاح میں
جمع کرنے سے
منع فرمایا
ہے۔ ·
ایک
شخص پانچویں
شادی کرے کیونکہ
اللہ تعالی
نے چار کی حد
مقرر کی ہے
اور رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے یہ واضح
فرما دیا ہے
کہ چار بیویوں
کی موجودگی میں
پانچویں شادی
کی اجازت نہیں
ہے۔ ·
ایک
شخص (اپنی بیوی
کی موجودگی میں)
اس کی پھوپھی یا
خالہ سے شادی
کر بیٹھے۔ نبی
صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے اس سے
منع فرمایا۔ ·
ایک
شخص کسی
خاتون سے اس کی
عدت کے دوران
شادی کر لے۔ ان
حالات میں
نکاح کرنا کسی
صورت بھی
درست نہیں ہے۔
ان حالات میں
نکاح کرنے سے
منع فرمایا گیا
ہے اور اس
معاملے میں
کسی ایک عالم
کو بھی
اختلاف نہیں
ہے۔ اس کے
علاوہ اور بھی
صورتیں ہیں: جیسا
کہ نبی صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے نکاح
شغار سے منع
فرمایا۔ اسی
طرح آپ نے نکاح
متعہ سے بھی
منع فرمایا۔
اسی
طرح آپ نے
حالت احرام میں
اپنا نکاح
کرنے یا کسی
کا نکاح
کروانے سے
منع فرمایا۔
ان تمام
حالات میں بھی
ہم نکاح کو
ختم کروا دیں
گے کیونکہ ان
حالات میں
نکاح سے منع
فرمایا گیا
ہے۔ یہ اسی
طرح ہو گا جیسا
کہ ان حالات میں
ہم اسے ختم کر
دیتے ہیں جسے
ہم اوپر بیان
کر چکے ہیں۔
اس معاملے میں
دوسرے اہل
علم ہم سے
مختلف رائے
رکھتے ہیں
جسے ہم دوسری
جگہ پر (کتاب
الام میں) بیان
کر چکے ہیں۔ یہی
معاملہ کسی
خاتون کی ایسی
شادی کا ہے جو
اس کی اجازت
کے بغیر ہو۔
اگر وہ بعد میں
اجازت دے بھی
دے تب بھی یہ
نکاح درست نہیں
ہے کیونکہ
نکاح کے
معاہدے کے
وقت وہ ایسا
نہیں چاہتی
تھی۔ اسی
طرح رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے غرر
والے لین دین[1]
سے منع فرمایا۔
اسی طرح آپ نے
سوائے عرایا
کے تازہ
کھجور کا
(چھوہاروں سے)
تبادلہ کرنے سے
منع فرمایا۔
اور اس قسم کی
دیگر مثالیں۔
اس کی ایک اور
مثال یہ ہے کہ
ہر شخص پر
دوسرے کا مال
لے لینا حرام
ہے سوائے اس
کے کہ اس کی
اجازت دی گئی
ہو۔ یہ اجازت
سوائے ایسی
تجارت کے اور
کسی بنیاد پر
نہیں ہو سکتی
جس سے رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے منع
نہ فرمایا ہو۔
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے کسی
بھی ایسے لین
دین کی اجازت
نہیں دی جس سے
کوئی شخص
اپنے بھائی
کا مال
ناجائز طریقے
پر لے لے۔
تجارت میں ایک
ناجائز کام
کرنا کسی
حرام کو حلال
نہ کر دے گا
اور نہ ہی کوئی
کام اس وقت تک
حلال ہو گا جب
تک کہ اس میں
تمام ناجائز
امور سے
اجتناب نہ کیا
جائے۔ یہ وہ
احکام ہیں جو
عام لوگوں کے
علم میں بھی ہیں۔ سائل:
ایسے کون سے
جائز امور ہیں
جن سے کسی
مخصوص
صورتحال میں
منع کیا گیا
ہو اور یہ
امور آپ کی
اوپر بیان
کردہ
ممانعتوں سے
مختلف ہوں۔ شافعی:
اس کی ایک
مثال ہے کہ
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے "صما (یعنی
چادر کو لپیٹ
کر اس طرح سے بیٹھنا
جس سے پوشیدہ
اعضا کسی اور
پر ظاہر ہو
جائیں)" سے
منع فرمایا۔
آپ نے اس سے بھی
منع فرمایا
کہ کپڑے کو اس
طرح سے لپیٹا
جائے کہ
شرمگاہ اوپر
کی طرف ہو۔ آپ
نے ایک مرتبہ
ایک لڑکے کو
دونوں
ہاتھوں سے کھانے
سے منع فرمایا۔
آپ نے رکابی
کے درمیان سے
کھانے سے بھی
منع فرمایا۔
اس کے علاوہ
آپ سے یہ بھی
نقل کیا گیا
ہے (اگرچہ اس
کے ثبوت میں
کچھ شک ہے کہ)
کوئی شخص دو
کھجوریں
اکٹھی نہ
کھائے[2]
یا کھانے سے
پہلے کھجور
کے اندر کا
حصہ نہ دیکھے یا
راستے پر نہ لیٹے۔ کپڑا
پہننا،
کھانا کو
بھوک مٹانے
کے لئے
کھانا، اور
زمین پر بیٹھنا
جائز ہے کیونکہ
زمین اللہ کی
ہے نہ کہ کسی
بندے کی۔ ان
معاملات میں
حضور صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم نے
مخصوص
صورتحال میں
منع فرمایا
اور یہ صورتیں
جائز حالات
سے کچھ مختلف
ہیں۔ حضور
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
نے چادر لپیٹ
کر بیٹھنے کی
جس حالت سے
منع فرمایا
وہ صرف وہی
حالت تھی جس میں
شرمگاہ ظاہر
ہو جائے۔ یہ
حکم اس کپڑے
سے متعلق ہے
جس سے شرمگاہ
چھپائی نہ جا
سکے۔ آپ نے
شرمگاہ کو
چھپانے سے
منع فرمایا
نہ کہ کپڑا
پہننے سے۔ آپ
نے یہ حکم دیا
کہ لباس اس طریقے
سے پہنا جائے
جو شرمگاہ کو
چھپا لے۔ اسی
طرح آپ نے
لڑکے کو جو
دونوں
ہاتھوں سے
کھانے سے منع
فرمایا یا
پھر رکابی کے
درمیانی حصے
سے کھانے سے
منع فرمایا
اس کی وجہ (یہ
نہ تھی کہ یہ
حرام ہے بلکہ) یہ
تو اپنی اصل میں
مباح ہے۔
دونوں
ہاتھوں سے
کھانے سے
روکا اس لئے گیا
کہ کھانا
کھانے کے
آداب کے خلاف
ہے۔ اپنے میزبان
کے سامنے اطمینان
سے کھانا
اچھا لگتا ہے
اور دونوں
ہاتھوں سے
کھانا شہدے
پن کے باعث
برا لگتا ہے۔
کھانے کے
اوپری حصے سے
شروع کرنے سے
اس لئے منع
فرمایا کہ اس
جگہ برکت
نازل ہونا
شروع ہوتی ہے
اور پھر نازل
ہوتی رہتی ہے۔
جب انسان
کناروں سے
کھا لے تو پھر
درمیان سے
کھانا بھی
درست ہے۔ ایک
گزرنے والے
کے لئے راستے
سے گزرنا
جائز ہے کیونکہ
یہ جگہ کسی کی
ملکیت تو نہیں
ہے جو یہاں سے
گزرنے سے منع
کرے۔ (راستے
پر لیٹنے سے) ایک
خاص وجہ سے
منع کیا گیا۔
آپ نے فرمایا،
"یہ کیڑے
مکوڑوں کے
چھپنے کی جگہ
اور سانپوں
کا راستہ ہے۔"
(مسلم، ترمذی،
احمد) آپ نے ایسی
صورت میں بھی
راستے پر لیٹنے
سے منع فرمایا
جب راستہ تنگ
ہو اور اس پر لیٹنے
کے نتیجے میں
گزرنے والوں
کی حق تلفی ہو۔ سائل: اس قسم کی
ممانعت میں
اور پہلی قسم
کی (یعنی ابدی)
ممانعت میں
کوئی فرق ہے؟ شافعی: جس شخص کو پوری طرح علم ہو گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے کسی کام سے منع فرمایا ہے، اس کے بعد وہ جان بوجھ کر اس کام کو کرتا ہے تو وہ ایسا کرنے سے ایک گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔ اسے اللہ سے استغفار کرنا چاہیے اور اس کام کو دوبارہ نہیں کرنا | ||||||