Ethics & Religion

Dedicated to ethics, religious tolerance, peace and love

اخلاقیات اور مذہب

اعلیٰ اخلاقی رویوں، مذہبی رواداری ، امن اور محبت سے وابستہ

Home

Risk Management

Adventure & Tourism

Ethics & Religion

Install Urdu Font

Urdu Setup

Your Comments

About the Author

اگلا صفحہ                                                     فہرست                                     پچھلا صفحہ

حصہ سوم: سنت

یہ حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ثابت شدہ سنت اور حدیث سے متعلق اصولوں پر مشتمل ہے۔ اس حصے میں امام شافعی نے یہ اصول بیان کیے ہیں:

·       اللہ کے دین کا معیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ذات ہے۔ رسول کی حیثیت سے جو احکام آپ نے دیے انہیں قبول کرنا ہر مسلمان کے لئے لازم ہے۔

·       رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جن کاموں سے منع فرمایا، ان سے رکنا ضروری ہے۔

·       آپ نے بعض ایسی چیزوں سے منع فرمایا جو ہمیشہ کے لئے حرام ہیں اور بسا اوقات بعض کاموں سے آپ نے کسی مخصوص صورت حال ہی میں منع فرمایا۔ ابدی حرام کاموں سے اجتناب کرنا ہمیشہ ضروری ہے لیکن مخصوص حالات کی ممانعتوں سے رکنا صرف انہی مخصوص حالات ہی میں ضروری ہے۔ پہلی قسم کی مثال چوری یا شراب ہے۔ دوسری قسم کی مثال روزے کی حالت میں ازدواجی تعلقات قائم کرنا ہے۔

·       احادیث کی روایت میں بسا اوقات کچھ مسائل پیدا ہو جاتے ہیں جس کے باعث روایتوں میں تضاد نظر آتا ہے۔ کبھی یہ تضاد محض راویوں کی غلط فہمی کے باعث پیدا ہوتا ہے اور کبھی ایک حدیث دوسری سے منسوخ ہوا کرتی ہے۔

·       حدیث کبھی بھی قرآن کے مخالف نہیں ہو سکتی۔ حدیث صرف اور صرف قرآن کی وضاحت کرتی ہے۔

·       بعض اوقات روایتوں میں ایک بات جزوی طور پر بیان کی گئی ہوتی ہے جس کی وجہ سے بظاہر احادیث میں اختلاف محسوس ہوتا ہے۔ اگر اس موضوع سے متعلق تمام روایتوں کو اکٹھا کیا جائے تو پھر پوری بات درست طور سمجھ میں آ جاتی ہے۔

·       احادیث میں بھی کچھ کا حکم عمومی نوعیت کا (عام) ہوتا ہے اور کچھ کا تعلق کسی مخصوص صورت حال سے (خاص) ہوا کرتا ہے۔ اس بات کا تعین بہت ضروری ہے۔

·       اگر ایک حدیث دوسری حدیث سے منسوخ ہو تو ہم اس حکم کو قبول کر لیں گے جو بعد میں دیا گیا ہو۔

·       اگر دو احادیث ایک دوسرے کے متضاد پائی جائیں، ان میں سے کسی ایک کو ناسخ اور دوسری کو منسوخ قرار بھی نہ دیا جا سکے اور اس تضاد کو رفع کرنا ممکن نہ ہو تو پھر ایک حدیث کو چھوڑ کر دوسری زیادہ مستند حدیث کو قبول کیا جائے گا۔ اس ترجیح کے لئے قرآن، دیگر احادیث اور عقل عامہ کو بنیاد بنایا جائے گا۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے: 

ü    سب سے پہلے دونوں احادیث کو قرآن پر پیش کیا جائے گا اور جو حدیث بھی کتاب اللہ کے زیادہ موافق ہو گی اسے ترجیح دیتے ہوئے اسے اختیار کر لیا جائے گا۔

ü    قابل ترجیح روایت وہی ہو گی جسے کے راوی زیادہ جانے پہچانے ہیں اور اپنے علم اور احادیث کو محفوظ کرنے کے معاملے میں زیادہ شہرت یافتہ ہیں؛

ü    وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی جو ایک کی بجائے دو یا زیادہ ذرائع سے ہم تک پہنچی ہو گی۔ اس کی وجہ ہے کہ احادیث کو محفوظ کرنے کا اہتمام زیادہ لوگ کم کی نسبت بہتر انداز میں کر سکتے ہیں؛

ü    وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی جو کتاب اللہ کے عام معانی سے بحیثیت مجموعی زیادہ قریب ہو گی یا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی دوسری سنتوں کے زیادہ قریب ہو گی۔

ü    وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی جو اہل علم میں زیادہ جانی پہچانی ہے؛

ü    وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی جو قیاس (اور عقل) کے زیادہ قریب ہو گی؛

ü    وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اکثریت عمل کرتی ہوگی۔

·       بسا اوقات احادیث میں کوئی حقیقی تضاد نہیں ہوتا۔ یہ محض بات کو صحیح طور پر نہ سمجھنے کے باعث محسوس ہوتا ہے۔ احادیث کا مطالعہ اگر دقت نظر سے کیا جائے تو یہ تضاد دور ہو جاتا ہے۔

·       بعض اوقات ایک حدیث میں ایک حکم دیا گیا ہوتا ہے لیکن دوسری حدیث سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ حکم "لازمی یا واجب" نہیں ہے بلکہ ایک افضل عمل ہے۔ اس کی مثال جمعے کے دن غسل کرنا ہے۔

·       احادیث کو ان کے ظاہری اور عمومی مفہوم میں قبول کیا جائے گا۔ اگر کوئی دلیل موجود ہو جس سے یہ معلوم ہو کہ اس حدیث میں مجازی مفہوم مراد ہے یا پھر یہ حکم کسی مخصوص صورتحال کے لئے ہے تب اس حدیث کو مجازی یا خاص مفہوم میں قبول کیا جائے گا۔

·       اھل علم پر یہ لازم ہے کہ اگر انہیں کوئی دو ایسی احادیث مل جائیں تو ان میں مطابقت پیدا کرنے (Reconciliation) کی کوشش کریں، اگر انہیں اس مطابقت کی کوئی بنیاد مل جائے، نہ کہ انہیں (فوراً ہی) متضاد قرار دے دیں جبکہ ان کی تطبیق کا امکان موجود ہو۔

·       اگر ان احادیث کو ایک دوسرے کے مطابق کرنا ممکن ہو یا ایسا کرنے کی کوئی بنیاد موجود ہو اور ایک حدیث دوسری کی نسبت زیادہ مضبوط نہ ہو تو ان احادیث کو متضاد قرار دینا درست نہیں۔ متضاد روایات وہ ہوتی ہیں جنہیں ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرنا ممکن ہی نہ ہو اور ان میں لازماً ایک کو ترک کر دینا پڑے۔

·       ایک شخص کسی ایک شخص سے اس طرح حدیث کو روایت کرے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم یا آپ کے کسی صحابی تک جا پہنچے تو یہ خبر واحد کہلاتی ہے۔ خبر واحد کو قبول کرنا ضروری ہے اگر اس میں یہ شرائط پائی جائیں۔

ü    حدیث کو بیان کرنے والا راوی اپنے دین کے معاملے میں قابل اعتماد شخص ہو۔

ü    حدیث کو منتقل کرنے میں اس کی شہرت ایک سچے انسان کی ہو۔

ü    جو حدیث وہ بیان کر رہا ہو، اسے سمجھنے کی عقل رکھتا ہو۔

ü    الفاظ کی ادائیگی کے نتیجے میں معانی کی جو تبدیلی ہو جاتی ہو، اس سے واقف ہو۔

ü    جن الفاظ میں وہ حدیث کو سنے، انہی میں آگے بیان کرنے کی استطاعت رکھتا ہو نہ کہ جو سنے اپنے الفاظ میں بیان کر دے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب حدیث کا صرف مفہوم بیان کیا جائے گا اور بیان کرنے والے شخص کو یہ علم نہیں ہو گا کہ (حدیث کا محض مفہوم بیان کرنے سے) معنی کس طرح تبدیل ہو جایا کرتے ہیں تو یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی حلال حکم کو حرام میں تبدیل کر دے۔ اگر حدیث کو لفظ بہ لفظ منتقل کیا جائے گا تو اس میں تبدیلی کا کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔

ü    اگر وہ حدیث کو اپنی یادداشت کے سہارے منتقل کر رہا ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ وہ حدیث کو اچھی طرح یاد کرنے والا ہو یعنی اس کی یادداشت کمزور نہ ہو۔

ü    اگر وہ حدیث کو لکھ کر منتقل کر رہا ہو تو اس صورت میں یہ بھی ضروری ہے کہ اس نے جو کچھ لکھا ہو وہ خود اسے یاد رکھنے والا ہو۔

ü    اگر اس حدیث کو دوسرے حفاظ بھی محفوظ کر رہے ہوں تو اس شخص کی بیان کردہ حدیث ان افراد کی بیان کردہ حدیث کے موافق ہونا ضروری ہے۔

ü    راوی "تدلیس" کے الزام سے بری ہو۔ تدلیس یہ ہے کہ وہ یہ کہہ دے کہ میں نے حدیث کو فلاں سے سنا ہے جبکہ اس کی اس شخص سے ملاقات نہ ہوئی ہو اور اس نے اس سے حدیث کو اس سے سنا نہ ہو۔ تدلیس ایک دھوکا ہے۔ تدلیس کرنے والے کی روایت کو قبول نہ کیا جائے گا۔

ü    راوی نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ایسی بات منسوب کر دے جو کہ قابل اعتماد راویوں کی بیان کردہ حدیث کے خلاف ہو۔

ü    یہی تمام خصوصیات اس راوی سے اوپر والے راویو&#