|
Ethics &
Religion Dedicated to ethics, religious
tolerance, peace and love |
اخلاقیات
اور مذہب اعلیٰ
اخلاقی رویوں،
مذہبی
رواداری ،
امن اور محبت
سے وابستہ |
||||
اگلا
صفحہ فہرست پچھلا
صفحہ
باب
1: تعارف بسم
اللہ الرحمٰن
الرحیم۔
اللہ کے نام
سے شروع جو
بڑا مہربان
ہے اور اس کی
شفقت ابدی ہے۔
ربیع
بن سلیمان
کہتے ہیں: امام
محمد بن ادریس
(شافعی) بن
عباس بن عثمان
بن شافع بن عبید
بن عبد یزید
بن ھاشم بن
مطلب بن عبد
مناف المطلبی
جو کہ رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کے چچا
زاد بھائی
تھے نے بیان
فرمایا:
تمام
تعریفیں اس
اللہ کے لئے
جس نے
آسمانوں اور
زمین کو تخلیق
کیا۔ اس نے
اندھیرے اور
روشنی کو بنایا۔
اب بھی ایسے
لوگ موجود ہیں
جو اپنے رب کے
ساتھ شرک
کرتے ہیں۔ ہم اس خدا کی
تعریف کرتے ہیں
جس کا شکر ادا
کرنا ممکن ہی
نہیں ہے۔ جب
ہم اس کی پہلی
نعمتوں کا
شکر ادا کرتے
ہیں تو وہ اس
کے نتیجے میں
اپنی مزید
نعمتیں ہمیں
عطا کر دیتا
ہے جس کے باعث
ہم پر یہ لازم
ہو جاتا ہے کہ
ہم اس کا مزید
شکر ادا کرتے
چلے جائیں۔ اللہ
تعالی کی
عظمت کو کوئی
شخص بھی اس کے
شایان شان بیان
نہیں کر سکتا۔
وہی ہے جس نے
اپنی تعریف
خود کی ہے اور
وہ مخلوق کی کی
گئی تعریفوں
سے بلند و
بالا ہے۔اس کی
رحمت اور
عظمت کو بیان
کرنے کے لئے
مجھ پر لازم
ہے کہ میں اس کی
حمد و ثنا
کروں چنانچہ
میں ایسا کر
رہا ہوں۔ میں اس
کی مدد چاہتا
ہوں جس کی مدد
سے بڑھ کر کسی
اور کی قوت
اور اختیار
نہیں ہو سکتا۔
میں اس سے ہدایت
کا طلبگار
ہوں۔ وہ ہدایت
جس سے کوئی
منہ موڑ لے تو
پھر اسے
گمراہ ہونے
سے کوئی نہیں
روک سکتا۔ میں
اس سے مغفرت
کا طلبگار
ہوں ان
گناہوں کے
بارے میں جو میں
پہلے ہی کر
چکا یا جو
آئندہ مجھ سے
سرزد ہو سکنے
کا امکان ہے۔ یہ
اس شخص کی دعا
ہے جو یہ
جانتا ہے کہ
خدا کے آگے
جھکتے ہوئے
اپنے گناہوں
کا اعتراف کر
لینا چاہیے کیونکہ
اس کے سوا کوئی
گناہ معاف نہیں
کر سکتا اور
اسے سزا سے نہیں
بچا سکتا۔ میں
اس بات کی
گواہی دیتا
ہوں کہ اس اکیلے
خدا کے سوا
کوئی اور خدا
نہیں ہے۔ اس
کا کوئی شریک
نہیں اور
محمد اس کے
بندے اور
رسول ہیں۔ اللہ
تعالی نے
محمد رسول
اللہ
صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم
کو اس وقت نسل
انسانیت کی
طرف مبعوث
فرمایا جب
انسان دو
گروہوں میں
تقسیم ہو چکے
تھے۔ ان میں
سے ایک تو اہل
کتاب تھے،
جنہوں نے شریعت
میں کچھ تبدیلیاں
کیں اور اللہ
تعالی کے
بارے میں کفریہ
عقائد اختیار
کئے۔ انہوں
نے غلط چیزیں
خود اپنی طرف
سے ایجاد کیں
اور انہیں اس
سچائی کے
ساتھ خلط ملط
کر دیا جو
اللہ تعالی
نے ان پر نازل
فرمائی تھی۔
اسی وجہ سے
اللہ تبارک و
تعالی نے
اپنے رسول صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کو ان کے
کچھ غلط
عقائد کے
بارے میں
ارشاد فرمایا: وَإِنَّ
مِنْهُمْ
لَفَرِيقاً
يَلْوُونَ
أَلْسِنَتَهُمْ
بِالْكِتَابِ
لِتَحْسَبُوهُ
مِنْ
الْكِتَابِ
وَمَا هُوَ
مِنْ الْكِتَابِ
وَيَقُولُونَ
هُوَ مِنْ
عِنْدِ اللَّهِ
وَمَا هُوَ
مِنْ عِنْدِ
اللَّهِ وَيَقُولُونَ
عَلَى
اللَّهِ
الْكَذِبَ
وَهُمْ
يَعْلَمُونَ۔ ان
میں کچھ لوگ ایسے
ہیں جو (اللہ کی)
کتاب پڑھتے
ہوئے اس طرح
زبان کا الٹ
پھیر کرتے ہیں
کہ تم سمجھو
کہ وہ جو کچھ
پڑھ رہے ہیں
وہ کتاب کی
عبارت ہے
جبکہ وہ کتاب
کی عبارت نہیں
ہے۔ وہ کہتے ہیں،
"یہ تو خدا کی
طرف سے ہے"
جبکہ وہ خدا کی
طرف سے نہیں
ہوتا۔ وہ جان
بوجھ کر جھوٹ
بات اللہ کی
طرف منسوب کر
دیتے ہیں۔ (اٰل
عمران 3:78) اللہ
تعالی مزید
ارشاد
فرماتا ہے: فَوَيْلٌ
لِلَّذِينَ
يَكْتُبُونَ
الْكِتَابَ
بِأَيْدِيهِمْ
ثُمَّ
يَقُولُونَ
هَذَا مِنْ
عِنْدِ
اللَّهِ
لِيَشْتَرُوا
بِهِ ثَمَناً
قَلِيلاً
فَوَيْلٌ
لَهُمْ
مِمَّا كَتَبَتْ
أَيْدِيهِمْ
وَوَيْلٌ
لَهُمْ مِمَّا
يَكْسِبُونَ۔ ہلاکت
ہے ان لوگوں
کے لئے جو
کتاب کو اپنے
ہاتھ سے
لکھتے ہیں
اور کہتے ہیں،
"یہ تو خدا کی
طرف سے ہے"
تاکہ اس کے
عوض تھوڑی سی
قیمت وصول کر
سکیں۔ ان کے
ہاتھوں کا یہ
لکھا ہوا بھی
ان کے لئے
تباہی کا
سامان ہے اور
ان کی یہ کمائی
بھی ان کے لئے
باعث ہلاکت ہے۔
(البقرہ 2:79) وَقَالَتْ
الْيَهُودُ
عُزَيْرٌ
ابْنُ اللَّهِ
وَقَالَتْ
النَّصَارَى
الْمَسِيحُ
ابْنُ
اللَّهِ
ذَلِكَ
قَوْلُهُمْ
بِأَفْوَاهِهِمْ
يُضَاهِئُونَ
قَوْلَ
الَّذِينَ كَفَرُوا
مِنْ قَبْلُ
قَاتَلَهُمْ
اللَّهُ أَنَّى
يُؤْفَكُونَ۔ اتَّخَذُوا
أَحْبَارَهُمْ
وَرُهْبَانَهُمْ
أَرْبَاباً
مِنْ دُونِ
اللَّهِ
وَالْمَسِيحَ
ابْنَ
مَرْيَمَ وَمَا
أُمِرُوا
إِلاَّ
لِيَعْبُدُوا
إِلَهاً
وَاحِداً لا
إِلَهَ
إِلاَّ هُوَ
سُبْحَانَهُ
عَمَّا
يُشْرِكُونَ۔ یہودی
کہتے ہیں،
"عزیر اللہ
کا بیٹا ہے"
اور نصرانی
کہتے ہیں کہ
"مسیح اللہ
کا بیٹا ہے۔" یہ
بے حقیقت باتیں
ہیں جو وہ
اپنے منہ سے
نکالتے ہیں
ان لوگوں کی دیکھا
دیکھی جو ان
سے پہلے کفر میں
مبتلا ہوئے۔
خدا کی مار ان
پر یہ کہاں سے
دھوکہ کھا
رہے ہیں۔
انہوں نے
اپنے علماء
اور پیروں کو
اللہ کے سوا
اپنا رب بنا لیا
اور اسی طرح
مسیح بن مریم کو
بھی۔
حالانکہ ان
کو ایک معبود
کے سوا کسی کی
بندگی کا حکم
نہیں دیا گیا
تھا۔ وہ خدا
جس کے سوا کوئی
خدا نہیں ہے
اور وہ پاک ہے
اس شرک سے جو یہ
کرتے ہیں۔
(التوبہ 9:30-31) أَلَمْ
تَرَ إِلَى
الَّذِينَ
أُوتُوا
نَصِيباً
مِنْ
الْكِتَابِ
يُؤْمِنُونَ
بِالْجِبْتِ
وَالطَّاغُوتِ
وَيَقُولُونَ
لِلَّذِينَ
كَفَرُوا
هَؤُلاءِ
أَهْدَى
مِنْ
الَّذِينَ آمَنُوا
سَبِيلاً۔ أُوْلَئِكَ
الَّذِينَ
لَعَنَهُمْ
اللَّهُ
وَمَنْ
يَلْعَنْ
اللَّهُ
فَلَنْ
تَجِدَ لَهُ
نَصِيراً۔ کیا
تم نے ان
لوگوں کو نہیں
دیکھا جنہیں
کتاب کے علم میں
سے کچھ حصہ دیا
گیا تھا اور
ان کا حال یہ
ہے کہ وہ توہم
پرستی اور شیطانی
افعال کو
مانتے ہیں
اور (رسول کا)
انکار کرنے
والوں کے
بارے میں
کہتے ہیں کہ
اہل ایمان کی
نسبت تو یہی زیادہ
سیدھے راستے
پر ہیں۔ یہی
لوگ ہیں جن پر
اللہ نے لعنت
کی ہے اور جس
پر اللہ لعنت
کر دے تم اس کا کوئی
مددگار نہ
پاؤ گے۔
(النساء 4:51-52) دوسرا
گروہ ان
لوگوں کا تھا
جنہوں نے
اللہ تعالی
کے بارے میں
غلط عقیدہ
اختیار کیا
اور ایسی چیزیں
تخلیق کر ڈالیں
جن کی اللہ نے
اجازت نہیں دی
تھی۔ انہوں
نے اپنے ہاتھ
سے پتھر اور
لکڑی کے بت
اور خوش کن
تصاویر بنائیں،
اپنی طرف سے
ان کے نام
گھڑے، انہیں
دیوتا قرار دیا
اور ان کی
پرستش شروع
کر دی۔ جیسے ہی
وہ کسی اور چیز
سے متاثر
ہوئے تو
انہوں نے
پہلے دیوتا
کو پرے ہٹا کر
اپنے ہاتھوں
سے دوسری چیز
کا بت بنا
ڈالا اور اس کی
عبادت شروع
کر بیٹھے۔ یہ
لوگ عرب کے
مشرکین تھے۔
اہل عجم نے بھی
اسی طریقے سے
اہل شرک کی پیروی
کی۔ مچھلیاں
ہوں یا
درندے،
ستارے ہوں یا
آگ، وہ جس چیز
سے بھی متاثر
ہوئے اسے
پوجنا شروع
کر دیا۔ انہی
اہل شرک کے
نظریات کا
اللہ تعالی
نے اپنے رسول
سے ذکر فرمایا
ہے اور ان کے
اقوال کو اس
طرح سے نقل کیا
ہے۔ بَلْ
قَالُوا
إِنَّا وَجَدْنَا
آبَاءَنَا
عَلَى
أُمَّةٍ
وَإِنَّا
عَلَى
آثَارِهِمْ
مُهْتَدُونَ۔ بلکہ
یہ لوگ تو
کہتے ہیں کہ
ہم نے اپنے
باپ دادا کو ایک
طریقے پر پایا
تو ہم انہی کے
نقش قدم پر چل
رہے ہیں۔
(الزخرف 43:22) وَقَالُوا
لا
تَذَرُنَّ
آلِهَتَكُمْ
وَلا تَذَرُنَّ
وَدّاً وَلا سُوَاعاً
وَلا
يَغُوثَ
وَيَعُوقَ
وَنَسْراً۔ وَقَدْ
أَضَلُّوا
كَثِيراً ۔ انہوں
نے کہا، ہرگز
اپنے
معبودوں کو
نہ چھوڑو۔ یعنی
ود، سواع، یغوث،
یعوق اور نسر
کو نہ چھوڑو۔
انہوں نے بہت
سے لوگوں کو
گمراہ کیا ہے۔
(نوح 71:23-24) وَاذْكُرْ
فِي
الْكِتَابِ
إِبْرَاهِيمَ
إِنَّهُ
كَانَ
صِدِّيقاً
نَبِيّاً۔ إِذْ قَالَ
لأَبِيهِ
يَا أَبَتِ
لِمَ تَعْبُدُ
مَا لا
يَسْمَعُ
وَلا
يُبْصِرُ
وَلا يُغْنِي
عَنْكَ
شَيْئاً۔ اس
کتاب میں
ابراہیم کا
تذکرہ کرو۔
بے شک وہ ایک
راستباز
انسان اور نبی
تھے۔ جب
انہوں نے
اپنے والد سے
کہا، "ابا
جان! آپ ان چیزوں
کی عبادت کیوں
کرتے ہیں جو
نہ سنتی ہیں
اور نہ دیکھتی
ہیں اور نہ ہی
آپ کو کسی چیز
سے مستغنی کر
سکتی ہیں؟"
(مریم 19:41-42) وَاتْلُ
عَلَيْهِمْ
نَبَأَ
إِبْرَاهِيمَ۔ إِذْ قَالَ
لأَبِيهِ
وَقَوْمِهِ
مَا تَعْبُدُونَ۔ قَالُوا
نَعْبُدُ
أَصْنَاماً
فَنَظَلُّ لَهَا
عَاكِفِينَ۔ قَالَ هَلْ
يَسْمَعُونَكُمْ
إِذْ
تَدْعُونَ۔ أَوْ
يَنْفَعُونَكُمْ
أَوْ
يَضُرُّونَ۔ انہیں
ابراہیم کا
واقعہ سناؤ
جب انہوں نے
اپنے والد
اور اپنی قوم
سے پوچھا
تھا، "یہ کیا
چیزیں ہیں
جنہیں تم
پوجتے ہو۔"
انہوں نے
جواب دیا،
"کچھ بت ہیں
جن کی ہم پوجا
کرتے ہیں اور
انہی کی سیوا
میں لگے رہتے
ہیں۔" ابراہیم
نے پوچھا، "کیا
یہ تمہاری
سنتے ہیں جب
تم انہیں
پکارتے ہو؟ یا
یہ تمہیں کچھ
نفع و نقصان
پہنچاتے ہیں۔"
(الشعراء 26:69-73) اس
گروہ کو اپنے
احسانات یاد
دلاتے ہوئے،
اور انہیں ان
کی عام گمراہیوں
سے خبردار
کرتے ہوئے
اور اہل ایمان
پر اپنی خاص
نعمتوں کا
ذکر کرتے
ہوئے اللہ
تعالی نے
فرمایا: وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْ | |||||