|
Ethics &
Religion Dedicated to ethics, religious
tolerance, peace and love |
اخلاقیات
اور مذہب اعلیٰ
اخلاقی رویوں،
مذہبی رواداری
، امن اور
محبت سے
وابستہ |
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگلا
صفحہ فہرست پچھلا
صفحہ
باب
ششم: دور جدید
میں وقوع پذیر
تبدیلیاں
اور ہمارا رد
عمل بعض
افراد کا طرز
فکر یہ ہوتا ہے
کہ وہ ہر قسم کی
تبدیلی کو
ناپسند کرتے
ہیں۔ یہ
حضرات
عموماً اپنی
عمر کے آخری
حصے میں ہوتے
ہیں۔ اس
مخالفت کی بڑی
وجہ یہ ہوتی
ہے کہ عمر بھر
کے تجربات کے
باعث یہ ایک
خاص طرز زندگی
کے عادی ہو
جاتے ہیں اور
جب انہیں اس
سے کچھ مختلف
طرز زندگی کا
سامنا کرنا
پڑتا ہے تو ان
کا ذہن اسے
قبول نہیں کر
پاتا۔ اس
کے برعکس
نوجوان
عموماً
انقلابی خیالات
کے حامل ہوتے
ہیں اور تبدیلی
کے عمل میں
ممد و معاون
ثابت ہوتے ہیں۔
یہی نوجوان
جب بڑھاپے کی
حدود میں
داخل ہوتے ہیں
تو وہ بعد میں
آنے والی تبدیلیوں
کے مخالف بن
جاتے ہیں۔
دور جدید میں
پیدا ہونے
والی تبدیلیوں
کے اثرات جب
مسلم ممالک میں
پہنچے تو اس
ضمن میں تین
طرح کے طرز
عمل سامنے
آئے جن کی تفصیل
یہ ہے۔ ·
روایتی
مذہبی طبقے
نے تبدیلی کے
بارے میں
سوچنے کو بھی
کفر اور
اسلام کا
مسئلہ بنا کر
رکھ دیا۔ اس
طبقے نے دور
جدید کی بعض
مثبت تبدیلیوں
جیسے عقل کے
استعمال میں
اضافے، آزادی
رائے، جمہوریت
اور یہاں تک
کہ ٹیکنالوجی
میں ہونے والی
تبدیلیوں کی
مخالفت کی۔
چونکہ اس
طبقے کو مسلم
اور غیر مسلم
دنیا میں
بالعموم
اسلام کا
نمائندہ
سمجھا جاتا
تھا، اس وجہ
سے دنیا کے
سامنے اسلام
کا تصور یہ پیدا
ہوا کہ یہ دور
جدید کا کوئی
مخالف مذہب
ہے جسے دور جدید
سے ہم آہنگ
کرنا ممکن نہیں۔ ·
دوسرا
طبقہ مسلم
ممالک کے
حکمرانوں
اور ان کی
اشرافیہ (Elite) کا
طبقہ تھا۔
انہوں نے دور
جدید میں
ہونے والی
تبدیلیوں کی
حمایت کی۔ اس
ضمن میں ان کی
اکثریت نے سب
سے مہلک رویہ
اختیار کیا
اور وہ یہ تھا
کہ دور جدید کی
منفی تبدیلیوں
جیسے بے حیائی
اور سودی
نظام کو تو
پوری طرح اختیار
کر لیا لیکن
مثبت تبدیلیوں
کے بارے میں
ان کی حمایت
زبانی جمع
خرچ کے درجے
سے اوپر نہ
اٹھ سکی۔ اس
کا نتیجہ یہ
نکلا کہ مسلم
معاشروں کی
اکثریت منفی
پہلوؤں سے تو
مغرب کی بھونڈی
نقالی پر تیار
ہو گئی لیکن
مثبت تبدیلیوں
کے فوائد ان
معاشروں تک
نہ پہنچ سکے۔ ·
تیسرا
رد عمل ایسے
اہل علم کی
جانب سے پیش آیا
جو کہ دور جدید
سے بھی پوری
طرح واقف تھے
اور دین میں
بھی گہری بصیرت
کے حامل تھے۔
ان اہل علم کی
جانب سے تمام
تبدیلیوں کا
جائزہ لے کر ان
کے مثبت
پہلوؤں کو
اختیار کرنے
اور ان کے منفی
پہلوؤں سے
اجتناب کرنے
پر زور دیا گیا۔
پچھلی ایک صدی
میں اگرچہ ان
اہل علم کے
نظریات کو
مسلم ممالک میں
زیادہ فروغ
نہیں مل سکا
ہے لیکن
موجودہ
حالات اس بات
کی نشاندہی
کرتے ہیں کہ
مستقبل میں
اسی نقطہ نظر
کو فروغ مل
سکے گا۔ ہمارے
نزدیک تبدیلی
کے بارے میں
صحیح رد عمل یہ
ہے کہ سب سے
پہلے تبدیلی
کا تجزیہ کیا
جائے تو یہ دیکھا
جائے کہ دینی
اور اخلاقی
اعتبار سے یہ
تبدیلی مثبت
نوعیت کی ہے یا
منفی نوعیت کی۔
مثبت تبدیلیوں
کی بھرپور
حمایت کی
جائے اور منفی
تبدیلیوں کو
روکنے کی
کوشش کی جائے۔
اگر
منفی نوعیت کی
تبدیلی کے
ساتھ ایسی
قوتیں
وابستہ ہو چکی
ہیں جن کے
باعث انہیں
مکمل طور پر
روکنا ممکن
نہ ہو تو پھر
ان میں اساسی
نوعیت کی چند
تبدیلیاں کر
کے ان کے منفی
اثرات کو کم
سے کم کرنے کی
کوشش کی جائے۔
زیادہ بہتر
ہو گا کہ
موجودہ دور کی
تبدیلیوں کے
بارے میں کوئی
رد عمل تجویز
کرنے سے قبل
ہم پچھلے
ابواب میں کی
گئی بحث کا
خلاصہ ایک
جدول کی صورت
میں پیش کر دیں۔
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||