|
Ethics &
Religion Dedicated to ethics, religious
tolerance, peace and love |
اخلاقیات
اور مذہب اعلیٰ
اخلاقی رویوں،
مذہبی رواداری
، امن اور
محبت سے
وابستہ |
|||
اگلا
صفحہ فہرست پچھلا
صفحہ
باب
چہارم: سیاسی
تبدیلی دور جدید
میں بعض اہم
ترین سیاسی
تبدیلیاں
رونما ہوئی ہیں۔
ان میں بہت سے
تبدیلیاں
نظریاتی اور
بہت سے عملی سیاست
میں میدان میں
رونما ہوئی ہیں۔ جمہوریت دور قدیم
ہی سے
بادشاہت اور
آمریت کا
نظام دنیا میں
رائج رہا ہے۔
تاریخ انسانی
میں اس سے
استثنا صرف
بنی اسرائیل
کے ابتدائی
دور اور رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ واٰلہ
وسلم کے بعد خلافت
راشدہ کو رہا
ہے۔ اس کے
علاوہ یونان
کے عروج کے
دور میں بھی
جمہوریت کا
تجربہ کیا گیا۔
جمہوریت اور
آمریت میں بنیادی
فرق یہ ہے کہ
جمہوریت میں
حکومت عام
لوگوں کے
مشورے سے
قائم ہوتی ہے
اور انہی سے
مشورے سے ختم
ہوتی ہے۔
حکومت اپنے
عوام کے
سامنے اپنے
ہر فعل کے لئے
جواب دہ ہوتی
ہے۔ آمریت اس
کے برعکس کسی
فرد، خاندان یا
گروہ کی طاقت
کے بل بوتے پر
قائم ہوتی ہے
اور آمر اپنے
افعال کے لئے
قوم کو جواب
دہ نہیں ہوتا۔ دور
جدید میں اہل
مغرب نے سیاسی
میدان میں
جمہوریت کی
روایت قائم
کر دی ہے۔
مسلم ممالک میں
اس روایت کو
بالعموم اختیار
نہیں کیا گیا
اور زیادہ تر
مسلم ممالک میں
بادشاہت یا
فوجی آمریت
کا نظام قائم
ہے۔ حالیہ
تبدیلیوں کے
نتیجے میں دنیا
میں سیاسی بیداری
پیدا ہو رہی
ہے اور مسلم
ممالک آہستہ
آہستہ جمہوری
نظام کی طرف
جا رہے ہیں۔
بہت سے مسلم
ممالک میں
لولی لنگڑی
جمہوریت
قائم ہو چکی
ہے۔ بعض مسلم
ممالک جیسے
ملائشیا میں
جمہوری نظام
کامیابی سے
چل رہا ہے۔ میڈیا
کی بڑھتی ہوئی
آزادی کے
باعث آمرانہ
قوتوں کی
معاشرے پر
گرفت مسلسل
کمزور ہو رہی
ہے۔
حکمرانوں کے
احتساب کی
روایت بھی
آہستہ آہستہ
طاقت پکڑ رہی
ہے۔ اس سب کے
باوجود اس
معاملے میں
مسلم ممالک
ابھی مغربی
ممالک سے
سالوں پیچھے
ہیں اور انہیں
مغربی ممالک
کے جمہوری
نظام تک
پہنچنے کے
لئے کئی عشرے
درکار ہیں۔ ہماری
رائے میں دینی
اور اخلاقی
نقطہ نظر سے یہ
ایک نہایت ہی
مثبت تبدیلی
ہے۔ اسلام نے
معاشرے میں
اجتماعیت کی
جو بنیاد پیش
کی ہے وہ صرف
اور صرف
شورائیت ہے یعنی
معاشرے کا
پورا نظام
مشورے سے چلایا
جائے۔ قرآن
مجید میں اہل
ایمان کی
صفات کو بیان
کرتے ہوئے
ارشاد باری
تعالی ہے: والذین
استجابوا
لربھم و
اقاموا
الصلوۃ، و
امرہم شوری بینھم
و مما رزقنھم ینفقون۔
(الشوری 42:38) اور وہ لوگ جو
اپنے رب کا
حکم مانتے ہیں،
نماز قائم
کرتے ہیں،
اپنے
معاملات
مشورے سے
چلاتے ہیں
اور ہم نے انہیں
جو رزق دیا ہے
اس میں سے خرچ
کرتے ہیں۔ سید
ابوالاعلی
مودودی اس آیت
کی تفسیر میں
لکھتے ہیں۔ "امرھم شوری
بینھم کا
قاعدہ خود
اپنی نوعیت
اور فطرت میں
پانچ باتوں
کا تقاضا کرتا
ہے: ·
اول
یہ کہ اجتماعی
معاملات جن
لوگوں کے
حقوق اور
مفاد سے تعلق
رکھتے ہوں
انہیں اظہار
رائے کی پوری
آزادی حاصل
ہو اور وہ اس
بات سے پوری
طرح باخبر
رکھے جائیں
کے ان کے
معاملات فی
الواقع کس
طرح چلائے جا
رہے ہیں، اور
انہیں اس امر
کا بھی پورا
حق حاصل ہو جو
کہ اگر وہ
اپنے
معاملات کی
سربراہی میں
کوئی غلطی یا
خامی یا
کوتاہی دیکھیں
تو اس پر ٹوک
سکیں،
احتجاج کر سکیں،
اور اگر
اصلاح ہوتی
نہ دیکھیں تو
سربراہ
کاروں کو بدل
سکیں۔ لوگوں
کا منہ بند کر
کے اور ان کے
ہاتھ پاؤں کس کر
اور ان کو بے
خبر رکھ کر ان
کے اجتماعی
معاملات
چلانا صریح
بددیانتی ہے
جسے کوئی شخص
بھی امرھم
شوری بینھم
کے اصول کی پیروی
نہیں مان
سکتا۔ ·
دوم
یہ کہ اجتماعی
معاملات کو
چلانے کی ذمہ
داری جس شخص
پر بھی ڈالنی
ہو اسے لوگوں
کی رضامندی
سے مقرر کیا
جائے۔ یہ
رضامندی، ان
کی آزادانہ
رضامندی ہو۔
جبر اور تخویف
سے حاصل کی
ہوئی، یا تحریص
اور اطماع سے
خریدی ہوئی، یا
دھوکے اور فریب
اور مکاریوں
سے کھسوئی
ہوئی رضامندی
درحقیقت
رضامندی نہیں
ہے۔ ایک قوم
کا صحیح
سربراہ وہ نہیں
ہوتا، جو ہر
ممکن طریقہ
سے کوشش کر کے
اس کا سربراہ
بنے، بلکہ وہ
ہوتا ہے جس کو
لوگ اپنی خوشی
اور پسند سے
اپنا سربراہ
بنائیں۔ ·
سوم
یہ کہ سربراہ
کار کو مشورہ
دینے کے لیے
بھی وہ لوگ
مقرر کیے جائیں
جن کو قوم کا
اعتماد حاصل
ہو، اور ظاہر
بات ہے کہ ایسے
لوگ کبھی صحیح
معنوں میں حقیقی
اعتماد کے
حامل قرار نہیں
دیے جا سکتے
جو دباؤ ڈال
کر، یا مال سے
خرید کر، یا
جھوٹ اور مکر
سے کام لے کر، یا
لوگوں کو
گمراہ کر کے
نمائندگی کا
مقام حاصل کریں۔ ·
چہارم
یہ کہ مشورہ دینے
والے اپنے
علم اور ایمان
و ضمیر کے
مطابق رائے دیں،
اور اس طرح کے
اظہار رائے کی،
انہیں پوری
آزادی حاصل
ہو۔ یہ بات
جہاں نہ ہو،
جہاں مشورہ دینے
والے کسی
لالچ یا خوف کی
بنا پر، یا کسی
جتھہ بندی میں
کسے ہوئے
ہونے کی وجہ
سے خود اپنے
علم اور ضمیر
کے خلاف رائے
دیں، وہاں
درحقیقت خیانت
اور غداری
ہوگی نہ کہ
امرھم شوری بینھم
کی پیروی۔ ·
پنجم
یہ کہ جو
مشورہ اہل
شوری کے
اجماع (اتفاق
رائے) سے دیا
جائے، یا جسے
ان کے جمہور
(اکثریت) کی
تائید حاصل
ہو، اسے تسلیم
کیا جائے۔ کیونکہ
اگر ایک شخص یا
ایک ٹولہ سب کی
سننے کے بعد
اپنی من مانی
کرنے کا
مختار ہو تو
مشاورت
بالکل بے معنی
ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالی یہ
نہیں فرما
رہا ہے کہ "ان
کے معاملات میں
ان سے مشورہ لیا
جاتا ہے"
بلکہ یہ فرما
رہا ہے کہ "ان
کے معاملات
آپس کے مشورے
سے چلتے ہیں"۔
اس ارشاد کی
تعمیل محض
مشورہ لے لینے
سے نہیں ہو
جاتی، بلکہ
اس کے لیے
ضروری ہے کہ
مشاورت میں
اجماع یا
اکثریت کے
ساتھ جو بات
طے ہو اسی کے
مطابق
معاملات چلیں۔"
(تفہیم
القرآن ج 4 ص 510) ایک
صحیح جمہوری
نظام میں یہ
پانچوں شرائط
پوری ہوتی ہیں
جس کا تقاضا
امرھم شوری بینھم
کی یہ آیت کرتی
ہے۔ اس سے یہ
معلوم ہوتا
ہے کہ جمہوریت
کی طرف یہ قدم
نہایت ہی
مثبت تبدیلی
ہے۔ آزادی
رائے موجودہ
دور آزادی
رائے اور
آزادی اظہار
کا دور ہے۔
اہل مغرب نے
اس قدر کو
اپنے
معاشروں میں
اس قدر ترقی یافتہ
بنا لیا ہے کہ
اس کے نتیجے میں
وہاں
بالعموم کھل
کر ہر معاملے
میں اپنی
رائے کا
اظہار کیا جا
سکتا ہے۔ یہ
الگ بات ہے کہ
ان کے ہاں
بالخصوص
مذہبی
معاملات میں
بعض لوگ اس
آزادی کا غلط
استعمال کر لیتے
ہیں اور
دوسروں کے
جذبات کی دل
آزاری کا
باعث بنتے ہیں۔ قدیم
مسلم معاشرے
میں آزادی
اظہار اپنے
عروج پر تھی۔
صحابہ کرام
رضی اللہ
عنہم کھلے
عام ہر
معاملے میں
اپنی رائے کا
اظہار کرتے۔ یہاں
تک کہ خلیفہ
پر بھی کھلی
تنقید کی جاتی۔
بنو امیہ کے
دور میں ایک
مخصوص دائرے
کے علاوہ تقریباً
یہی صورتحال
رہی۔ بنو
عباس کے دور
سے مسلمانوں
کے ہاں انسان
کے اس حق پر
حدود و قیود
عائد ہونا
شروع ہوئیں۔
موجودہ دور میں
مسلم
معاشروں کی
بڑی تعداد اس
حق سے محروم
ہے۔ اکثر
مقامات پر تو
حکومت کی
جانب سے
پابندیاں
عائد ہیں لیکن
بعض ممالک جیسے
پاکستان میں
حکومت کی طرف
سے تو کوئی
خاص پابندیاں
نہیں لیکن بہت
سے ایسے پریشر
گروپ موجود ہیں
جو اہل علم کو
آزادی اظہار
کا حق دینے کو
تیار نہیں
اور اپنے
مسلک یا نظریات
کے خلاف
اٹھنے والی
ہر آواز کو
خاموش کر دینے
کے لئے
کمربستہ
رہتے ہیں۔ اگرچہ
آزادی اظہار
کے معاملے میں
بھی مسلم
ممالک مغربی
ممالک سے بہت
پیچھے ہیں لیکن
ان میں سے
اکثر کے ہاں
بھی یہ حق دینے
کا سلسلہ اور
فکر کو آزاد
کرنے کا عمل
شروع ہو چکا
ہے۔ جمہوریت
کی طرح اس
معاملے میں
انہیں عالمی
معیار تک
پہنچنے کے
لئے کئی عشرے
درکار ہوں گے۔ بعض
لوگ اظہار
رائے کی اس
آزادی کا غلط
استعمال
کرتے ہیں اور
اس کے نتیجے میں
دوسروں کی دل
آزاری کا
باعث بنتے ہیں۔
یہ طرز عمل
درست نہیں
تاہم اس سے
آزادی اظہار
کے اس حق کی نفی
نہیں ہوتی۔
قرآن مجید میں
واضح طور پر
بتایا گیا ہے کہ "لا
اکراہ فی الدین"
یعنی "دین میں
کوئی جبر نہیں"۔
ہر شخص کو یہ
آزادی حاصل
ہے کہ وہ جس
نقطہ نظر کو
حق سمجھے، اسے
اختیار کر لے
کیونکہ قرآن
مجید نے حق کو
بالکل واضح
کر دیا ہے۔ اس
اعتبار سے دیکھا
جائے تو آزادی
رائے کی یہ
قدر بالکل
مثبت تبدیلی
ہے۔ سیکولر
ازم عام
طور پر سیکولر
ازم کا معنی
لادینیت
سمجھا جاتا
ہے۔ سیکولرازم
کے حامیوں کے
نزدیک یہ لادینیت
کے مترادف نہیں۔
اس کا مطلب یہ
ہے کہ مذہب
اور ریاست کے
معاملات کو
الگ کر دیا
جائے۔ اس کی
بنیادی وجہ یہ
ہے کہ موجودہ
معاشروں کی
اکثریت
متعدد مذاہب
کے ماننے
والوں پر
مشتمل ہے۔
اگر کسی ایک
مذہب کو یہ حق
دیا جائے کہ
وہ پبلک لاء
بن کر دوسرے
مذاہب کے ماننے
والوں کو
متاثر کرسکے
تو یہ مذہبی
آزادی کے
منافی ہو گا۔
اس کے نتیجے میں
مذہبی اقلیتیں
اس بات پر
مجبور ہو جائیں
گی کہ وہ ریاست
کی وفادار
شہری بن کر نہ
رہیں۔ مغربی
ممالک سیکولرازم
کو پوری طرح
اختیار کر
چکے ہیں۔ ان
کے ہاں سیکولرازم
کے متعدد
ماڈل موجود ہیں۔
ان میں ایک
ماڈل فرانس (اور
مسلم دنیا میں
ترکی) کا ہے جس
میں پبلک
مقامات پر
مذہبی
علامات کے
اظہار تک پر
پابندی عائد
کر دی گئی ہے۔
دوسری طرف
امریکہ کا
ماڈل ہے جہاں
ہر مذہب کے
ماننے والے
کو اپنے مذہب
پر عمل کرنے کی
مکمل آزادی
ہے لیکن ریاست
کے تمام تر
معاملات میں
مذہب کو
استعمال نہیں
کیا جاتا۔ مسلم
ممالک کے ہاں
اس معاملے میں
متضاد رویے
پائے جاتے ہیں۔
ایک گروہ کے
نقطہ نظر کے
مطابق
مسلمانوں کو
اجتماعی بنیادوں
پر اپنا نظام
صرف اور صرف
اسلام کی بنیاد
پر قائم کرنا
چاہیے۔ اقلیتوں
کو ان کے
پرسنل لاء کی
آزادی دی
جائے لیکن
پبلک لاء صرف
اور صرف
اسلام کا
ہونا چاہیے۔
اسی نقطہ نظر
کی بنیاد پر
بہت سے مسلم
ممالک میں
اسلامی
جماعتیں
جدوجہد کر رہی
ہیں۔ اسی
نقطہ نظر کو
سعودی عرب
اور ایران کی
حکومتوں نے
مکمل طور پر
اور پاکستان
کے آئین میں
جزوی طور پر
اختیار کیا گیا
ہے۔ دوسرا
نقطہ نظر
بالعموم
مسلم حکمرانوں
کا ہے۔ یہ لوگ
عام طور پر سیکولر
ذہن کے مالک ہیں
اور سیکولر
ازم کو پسند
کرتے ہیں۔ غیر
مسلم ممالک میں
موجود مسلم
اقلیتیں سیکولر
ازم کی حامی ہیں
اور ان کے
مذہبی علماء
اسی کی حمایت
کرتے ہیں کیونکہ
اس کے نتیجے میں
انہیں مکمل
مذہبی آزادی
حاصل ہو جاتی
ہے۔ اگر
غیر مسلم
ممالک میں
مسلم اقلیتوں
کے نقطہ نظر
سے دیکھا
جائے تو سیکولر
ازم ایک مثبت
تبدیلی ہے۔
مسلم اکثریتی
ممالک میں
اسے منفی تبدیلی
سمجھا جاتا
ہے۔ دین
اسلام ہر غیر
مسلم قوم کو
اس کے پرسنل
لاء کی آزادی
دیتا ہے۔
عبادات، فیملی
لاء، وراثت
اور بہت سے دیگر
معاملات میں
ہر غیر مسلم
قوم کو اپنے
عقیدے اور
نظریے پر عمل
کرنے کی مکمل
آزادی دینا
مسلمانوں کی
حکومت پر
لازم ہے۔ رہا
سوال پبلک
لاء کا جس میں
وہ قوانین
آتے ہیں جن کا
تعلق بلا کسی
مذہب
کے تمام
اقوام سے ہے۔
اس کی واضح
مثال مملکت
کا سیاسی
نظام، اس کی
معاشی پالیسی،
عوام کو سہولیات
فراہم کرنا،
جرائم کی
سزا، امن و
امان وغیرہ
کے مسائل ہیں۔
جب
بھی کوئی قوم
اپنے ملک کے
پبلک لاء سے
متعلق کوئی
قانون سازی
کرتی ہے تو وہ
اپنی طرز
معاشرت، تاریخ
اور اقدار کو
اہمیت دیتی
ہے۔ اگر کسی
ملک میں
مسلمانوں کی
اکثریت ہو تو یہ
بالکل ہی
نامعقول بات
ہو گی کہ
مسلمان
قانون سازی میں
اپنے طرز
معاشرت، تاریخ
اور اقدار کو
مدنظر رکھتے
ہوئے مذہب کو
بالکل ہی نظر
انداز کر دیں۔
ایسا مغربی
ممالک میں بھی
نہیں ہوتا
اور ان کے ہاں
بھی اکثریت
کے مذہب یا
روایات کو
پبلک لاء سے
متعلق قانون
سازی میں اہمیت
(Weightage) دی
جاتی ہے۔
جمہوری نظام
کا تقاضا یہ
ہے کہ اکثریت
کو اقلیتوں
کے حقوق کا خیال
کرتے ہوئے
اپنی روایات
اور مذہب کی
بنیاد پر
قانون سازی
کا حق دیا
جائے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ سیکولر ازم کو اسلام سے ہم آہنگ | ||||