|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah,
in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful |
||
|
Your
Questions & Comments Don't suppress questions!
Questions are good for your intellectual health!!! |
آپ کے
سوالات و
تاثرات سوالات
کو دبائیے نہیں!
سوالات ذہنی
صحت کی ضمانت
ہیں!!! |
|
اردو
اور عربی تحریروں
کو ڈاؤن لوڈ
کرنے کے لئے
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے۔
|
||
|
New articles and books are added this website on
1st of each month. دین کا
غلبہ کیسے
ممکن ہے؟ Don't hesitate to
share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll
reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com . |
||
|
السلام علیکم۔
بہت معذرت
چاہتی ہوں کہ
جہاد پر آپ نے
جو کچھ لکھا
ہے، وہ میری
تشفی نہیں کر
سکا۔ اس کی
وجہ یہ ہے کہ
جہاد اور
مجاہدین سے میرے
ذہن میں بچپن
سے بے
پناہ محبت بٹھا دی
گئی ہے۔ اگر جہاد
کے ذریعے
اللہ کے دین
کو غلبہ حاصل
نہیں ہو سکتا
تو کیا سیاست
کے میدان میں
اترا جائے؟
حکومت بے حس
نااہل عیاش
مفاد پرست
کرپٹ لوگوں
کا ٹولہ ہے
پھر اللہ کا دین
کیسے غالب
آئے گا؟ ایک بہن کراچی ،
پاکستان دسمبر 2011 |
||
|
محترم
بہن وعلیکم
السلام ورحمۃ
اللہ وبرکاتہ آپ کو
اختلاف رائے
کا پورا حق
حاصل ہے۔ میں
تو اس
پروگرام کے
تمام شرکاء
کو یہی کہتا
ہوں کہ اپنے
ذہن سے سوچیے
اور جو بات
درست لگے وہ
مان لیجیے۔ میں
بھی ایک عام
انسان ہوں
اور غلطی کر
سکتا ہوں۔ اس
وجہ سے آپ کو
اگر میری بات
درست نہ لگے
تو اسے ضرور
رد کر دیجیے۔ اللہ
تعالی کے دین
کا غلبہ ہونے
کی صرف اور
صرف ایک ہی
صورت ہوتی ہے
اور وہ یہ کہ
کسی قوم کی
غالب اکثریت
اسے دل وجان
سے تسلیم کر
لے۔ ویسے تو
اللہ تعالی
جب چاہے،
اپنے دین کا
غلبہ کر سکتا
ہے لیکن اس نے
خود یہ قانون
بنایا ہے کہ
انسانوں کو
عمل کی آزادی
دی ہے تاکہ ان
کا امتحان لیا
جا سکے۔ یہی
وجہ ہے کہ
انسانیت کی
پوری معلوم
تاریخ میں
صرف دو مرتبہ
ایسا ہوا ہے
کہ اللہ تعالی
کا دین، ایک
نظام کے طور
پر غالب آیا
ہے۔ ایک سیدنا
موسی علیہ
الصلوۃ
والسلام کے
زمانہ میں
اور دوسرے
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ
وسلم کے
زمانے میں۔
دونوں مرتبہ
ایسا ہی ہوا
کہ ان جلیل
القدر انبیاء
کی قوموں کی
غالب اکثریت
پورے دل و جان
سے ایمان لے
آئی۔ ہمارے
دور میں
صورتحال اس
سے مختلف ہے۔
اگر ہم چاہتے
ہیں کہ دین
ہماری
اجتماعی
زندگیوں میں
نافذ ہو تو اس
کے لیے ہمیں ایک
ایک فرد کو
بدلنا ہو گا۔
حکومت اور
فوج میں جو
برائیاں
موجود ہیں،
اس کے لیے ہمیں
حکم یہی ہے کہ
ہم اللہ تعالی
کا پیغام ان
تک پہنچائیں۔
اگر وہ مان
جائیں گے تو
دنیا میں دین
کا غلبہ ہو
جائے گا اور
اگر نہیں مانیں
گے تو ہم نے
اپنا فرض ادا
کر دیا۔
ہمارا اجر
اللہ تعالی
کے ہاں محفوظ
ہو گا۔ ہمارے
ذمے پہنچا دینے
کے سوا اور
کچھ نہیں ہے۔ اللہ
تعالی نے
ہمارے لیے
عمل کا میدان یہ
مقرر کیا ہے
کہ ہم نصیحت
کے ذریعے خیرخواہی
کے ساتھ
حکمرانوں کے
سامنے اپنی
دعوت پیش کریں۔
اگر وہ مان لیں
گے تو انشاء
اللہ دین
غالب ہو جائے
گا اور نہیں
مانیں گے تو
پوری قوم کا
گناہ انہی کے
سر ہو گا۔ اس کے
برعکس اگر ہم
قانون کو
اپنے ہاتھوں
میں لیں گے تو
ہم نہ صرف
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ
وسلم کے
احکام کی
خلاف ورزی کے
مرتکب ہوں گے
بلکہ اپنے
پورے معاشرے
کو جرائم کا
شکار کر دیں
گے۔ حالیہ
تاریخ سے یہ
بات معلوم
ہوتی ہے کہ جن
جن ممالک میں
لوگوں نے
قانون کو
اپنے ہاتھوں
میں لیا،
وہاں جرائم پیشہ
گروہوں ہی کو
غلبہ نصیب
ہوا، دین کبھی
غالب نہ آیا۔
افغانستان،
فلسطین،
عراق، صومالیہ
اور اب
پاکستان کی
مثالیں آپ کے
سامنے ہیں۔
ہمارے سامنے
ایک مثال بھی
ایسی نہیں ہے
جہاں غلبہ دین
کی جدوجہد کو
کامیابی
حاصل ہوئی ہو۔ بہرحال
آپ کو اپنی
رائے رکھنے
کا حق حاصل ہے۔
میرا مشورہ
ہے کہ اس ضمن میں
آپ دونوں
نقطہ ہائے
نظر کا تفصیلی
مطالعہ کرنے
کے بعد کوئی
رائے قائم کیجیے۔
حال ہی میں میں
نے ان دونوں
نقطہ ہائے
نظر کو ان کے
دلائل سمیت
اپنی نئی
کتاب "تقابلی
مطالعہ
پروگرام" کے
اندر درج کر دیا
ہے۔ اگر آپ کو
دلچسپی
محسوس ہو تو
بتائیے، میں یہ
سلسلہ کتب آپ
کو فارورڈ کر
دوں گا۔ تفصیلات
آپ یہاں دیکھ
سکتی ہیں: http://www.mubashirnazir.org/Courses/Comparative/CS001-00-Compurdu.htm دعاؤں کی
درخواست ہے۔
اگر ہو سکے تو
اردو میں میل
لکھنا شروع
کر دیں کیونکہ
رومن اردو
پڑھنا مجھے
کافی مشکل
لگتا ہے۔ والسلام مبشر |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں تقابلی
مطالعہ
پروگرام /Quranic Arabic Program / Quranic Studies Program
/ علوم
القرآن
پروگرام / قرآنی
عربی
پروگرام /
سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں /
علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ /
دور
جدید میں
دعوت دین کا
طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت / Quranic Concept of Human Life Cycle /
Empirical Evidence of Man’s Accountability
|
||