|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah,
in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful |
||
|
Your
Questions & Comments Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!! |
آپ کے
سوالات و
تاثرات سوالات
کو دبائیے نہیں!
سوالات ذہنی
صحت کی ضمانت
ہیں!!! |
|
اردو
اور عربی تحریروں
کو ڈاؤن لوڈ
کرنے کے لئے
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے۔
|
||
|
New articles and books are
added this website on 1st of each month. راویوں
کو ثقہ یا ضعیف
کیسے قرار دیا
جاتا ہے؟ Don't hesitate to share your
questions and comments. They will be highly appreciated. I'll
reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com . |
||
|
بھائی آپ سے
ایک علمی
ایشو ڈسکس
کرنا ہے۔ کسی
بھی حدیث
بیان کرنے
والے راوی کے
بارے
گواہیاں لی
جاتی ہیں کہ
آیا کہ وہ ثقہ
ہے یا ضعیف؟ اور
گواہی لینے
کا اصول یہ ہے
کہ گواہیاں
ان سے لی جاتی
ہیں جو اس
آدمی کو
جانتے ہوں
اور اس کے
زمانے کے
ہوں۔ اگر کسی
راوی کے بارے
میں اس کی
وفات کے
سالوں بعد
پیدا ہونے
والا کوئی
بھی آدمی
شہادت دے گا
تو اس کی وہ
گواہی علمی
میدان میں
نہیں مانی
جائے گی۔
لیکن ایک
راوی ہے عبید
بن فیروز، یہ
تابعین میں
سے ہے۔ اسے اس
کے زمانے کے کسی
ایک معتبر
آدمی کی
گواہی حاصل
نہیں ہے۔ اس
کی وفات کے
ساٹھ ستر سال
بعد پیدا ہونے
والے امام
رازی نے اسےثقہ
کہا ہے اور ان
کی گواہی کو
علماء نے
قبول کیا ہے۔ لیکن
میں یہ
سمجھتا ہوں
کہ علمی
میدان میں ان
کی یہ شہادت قابل
قبول نہیں
ہونی چاہیے کہ
اصول کے خلاف
ہے۔ آپ اس بارے
میں کیا کہتے
ہیں؟ عاطف احمد حیدر آباد،
پاکستان نومبر 2011 |
||
|
السلام
علیکم ورحمۃ
اللہ
وبرکاتہ محض ایک
آدھ شخص کی
گواہی پر کسی
راوی کو ثقہ یا
ضعیف قرار نہیں
دیا جاتا
بلکہ یہ
متعدد ٹیسٹس
میں سے ایک ٹیسٹ
ہے۔ اس کے
علاوہ اور ٹیسٹ
بھی ہوتے ہیں۔
مزید ٹیسٹس
کے بارے میں نیچے
تفصیل دے رہا
ہوں جو کہ میری
نئی کتاب کا
حصہ ہے۔ ہم
عصروں کی
گواہی تو محض
ایک subjective چیز ہے
جبکہ دیگر ٹیسٹ
اس کی
نسبت کافی objective
ہوتے ہیں۔ محدثین
ان راویوں کی
جانچ پڑتال
کے لیے ان کی
عمومی شہرت ہی
پر انحصار نہیں
کرتے ہیں
بلکہ ایک مزید
ٹیسٹ کرتے ہیں۔
جب وہ کسی شخص
پر تحقیق
کرتے ہیں تو
وہ اس شخص کی بیان
کردہ روایات
کا موازنہ اس
کے ہم سبق راویوں
کی بیان کردہ
روایات سے
کرتے ہیں۔
مثلاً وہ شخص
اپنے استاذ یا
شیخ سے ایک حدیث
روایت کر رہا
ہو، تو محدثین
یہ دیکھتے ہیں
کہ اسی شیخ کے
دوسرے شاگرد اسی
روایت کو کن
الفاظ میں
روایت کر رہے
ہیں۔ اگر تو
ان روایات میں
مطابقت ہو تو
ٹھیک ہے لیکن
اگر زیر تحقیق
شخص کی بیان
کردہ روایات
میں دوسرے ہم
سبق راویوں کی
روایات سے
فرق پایا
جاتا ہو تو
پھر تحقیق کے
دائرے کو مزید
پھیلا دیا
جاتا ہے۔ اس
شخص کی دیگر
روایات کو بھی
جانچا جاتا
ہے۔ اگر یہ
نظر آئے کہ وہ
اکثر روایات
میں دوسرے
راویوں سے
فرق کرتا ہے
تو اس کا مطلب یہ
ہے کہ اس شخص
کے ساتھ کوئی
مسئلہ ہے۔ یا
تو اس نے احادیث
کو صحیح طرح
محفوظ نہیں کیا
یا پھر بدنیتی
سے خود احادیث
میں ردو بدل کیا
ہے۔ اس طرح
نہایت ہی
معروضی (Objective) طریقے سے
ہر ہر راوی کے
بارے میں
معلوم ہو
جاتا ہے کہ وہ
روایت حدیث میں
کس حد تک قابل
اعتماد ہے۔ محض گواہی
پر کبھی بھی
راوی کے ثقہ یا
عدم ثقہ ہونے
کا فیصلہ نہیں
ہو سکتا۔ خاص
کر ایسے شخص کی
گواہی جو
متعلقہ شخص
کو براہ راست
نہ جانتا ہو۔
اگر کوئی
صاحب اس گواہی
کی بنیاد پر
مانتے ہیں تو
آپ کے سوال کا
جواب انہی کی
ذمہ داری ہے۔
میں چونکہ اس
کا قائل نہیں،
تو کیا عرض کر
سکتا ہوں۔
ہاں کوئی ایسا
شخص ہو، جو اس
شخص کو براہ
راست جانتا
ہو، تو اس کی
گواہی کی اپنی
اہمیت ہے۔ میرے نزدیک objective
طریقہ یہی ہے
کہ ایک راوی کی
روایات میں deviation
کو دیکھا
جائے۔ ایک
آدھ روایت میں deviation
سے فرق نہیں
پڑتا لیکن جو
راوی بہت سی
روایتوں میں
اپنے ہم سبق
افراد سے بہت
مختلف بات
کہہ رہا ہو،
وہ مشکوک
ہوتا ہے۔ اس
کے بعد رجال کی
معلومات سے اس
شک کو مزید corroborate
کیا جا سکتا
ہے۔ تفصیل کے
لیے آپ امام
مسلم کی ایک
کتاب دیکھ
سکتے ہیں (مجھے
اس وقت نام یاد
نہیں آ رہا،) اس
میں انہوں نے
راویوں کی
چھان بین کے
اس طریقے پر
بحث کی ہے۔ متعلقہ
راوی پر تحقیق
کر کے دیکھنا
ہو گا کہ امام
رازی کے نقطہ
نظر کی بنیاد
کیا ہے۔ اگر
ان کے نقطہ
نظر کی بنیاد
نہیں ملتی تو
پھر اسے ان کی
غلطی قرار دیا
جائے گا۔ ان
کا اقتباس
اور کتاب کا
نام بھیج سکیں
تو کچھ عرض کر
سکتا ہوں۔ والسلام مبشر |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں تقابلی
مطالعہ
پروگرام /Quranic Arabic Program / Quranic
Studies Program / علوم
القرآن
پروگرام / قرآنی
عربی
پروگرام /
سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں /
علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ /
دور
جدید میں
دعوت دین کا
طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle /
Empirical Evidence of Man’s Accountability
|
||