|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah,
in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful |
||
|
Your
Questions & Comments Don't suppress questions! Questions are good for your intellectual health!!! |
آپ کے
سوالات و
تاثرات سوالات
کو دبائیے نہیں!
سوالات ذہنی
صحت کی ضمانت
ہیں!!! |
|
اردو
اور عربی تحریروں
کو ڈاؤن لوڈ
کرنے کے لئے
نستعلیق فانٹ
یہاں سے ڈاؤن
لوڈ کیجیے۔
|
||
|
New articles and books are
added this website on 1st of each month. ترمذی،
مشکوۃ اور
اسماء الرجال Don't hesitate to share your
questions and comments. They will be highly appreciated. I'll
reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com . |
||
|
اسلام علیکم
ورحمتہ اللہ کیا اسماء
الرجال پر
ایسی کوئی
کتاب اردو
میں موجود ہے جس
میں راویت
کرنے والوں
کے حالات کے
بارے میں
معلومات دی
گئی ہوں اور
اس بحث کے نتیجہ
میں ان راویوں
میں سے ثقہ
اور ضعف کی
نشان دہی کی
گئی ہو۔ ایک
اور سوال
پوچھنا
چاھتا ہوں،
وہ یہ ہے کے حدیث
کی دو اور
کتابیں ہیں
ترمذی اور
مشکوٰۃ مصابیح۔
ان کا
درجہ کیا ہے
حدیث کے
معاملہ میں؟اور
یہ کب لکھی گئی
ہیں اور ان کو
کن لوگوں نے
لکھا ہے اور
وہ درجہ کے حساب
سے کسے ہیں؟ والسلام محمد جاوید
اختر جولائی 2011 |
||
|
وعلیکم
السلام ورحمۃ
اللہ اردو میں
راویوں کے
تفصیلی
حالات پر کوئی
کتاب میرے
علم میں نہیں
ہے۔ ہاں خاص
خاص صحابہ
اور تابعین
کے حالات
زندگی پر کتب
ملتی ہیں جو
انہی کتب
رجال سے
ماخوذ ہوتی ہیں۔
ان کا مقصد بھی
راوی کی چھان
بین نہیں
بلکہ ان کے
حالات زندگی
کو سبق سیکھنے
کے لیے بیان
کرنا ہوتا
ہے۔ انشاء
اللہ جیسے ہی
آپ علوم سیرت
کا مطالعہ
شروع کریں گے
تو میں آپ کو
ان میں سے کچھ
کتابیں recommend کر دوں
گا۔ اس کی وجہ
یہ ہے کہ جن
لوگوں کو
اسماء
الرجال میں
کام کرنا
ہوتا ہے، وہ
عربی سے پہلے
ہی واقف ہوتے
ہیں۔ ترمذی
درجہ دوم میں
آتی ہے جو کہ
بخاری، مسلم
اور موطاء کے
بعد کا درجہ
ہے۔ اس میں صحیح
و ضعیف ہر طرح
کی احادیث ہیں
اور علامہ
البانی نے
کچھ عرصہ
پہلے انہیں
الگ کر دیا
ہے۔ امام
ترمذی کا سن
وفات 279ھ ہے اور
ان کا تعلق
موجودہ
ازبکستان کے
شہر ترمذ سے
تھا۔ البانی کا
کام اس لنک پر
موجود ہے: http://www.waqfeya.com/book.php?bid=1324 مشکاۃ کتب
حدیث کسی
درجے میں نہیں
آتی کیونکہ یہ
اس طرح کا
احادیث کا
مجموعہ نہیں
ہے جیسے اور ہیں۔
یہ ان
مجموعوں میں
سے ایک
انتخاب ہے
اور اپنی تعلیمی
اہمیت کی وجہ
سے بہت مقبول
رہا ہے۔ اس کے
مصنف خطیب
تبریزی تھے
جو ایران کے
شہر تبریز سے
تعلق رکھتے
تھے اور 502ھ میں
فوت ہوئے۔ انہوں
نے ہر باب کی تین
فصلیں (sections) بنائیں۔
پہلی فصل میں
صرف وہ احادیث
درج کیں جو
درجہ اول کی
کتب میں تھیں۔
دوسری فصل میں
درجہ دوم اور
تیسری فصل میں
تیسرے اور
چوتھے درجے کی
کتب حدیث سے
احادیث نقل کیں۔
ان کی
کتاب کا مقصد
شاید یہ تھا
کہ طلباء و
طالبات کو
ایک نصابی
کتاب فراہم
کر دی جائے جس
میں صحیح و
حدیث ہر قسم
کی احادیث
ہوں اور وہ ان
پر کام کر کے
علوم حدیث
میں اپنی
پریکٹس کر
لیں۔ علامہ
البانی نے اس
پر بھی کام کر
کے صحیح و ضعیف
روایات کو
الگ کر دیا
ہے۔ ان کا یہ
کام اس لنک پر
دستیاب ہے: http://www.waqfeya.com/book.php?bid=708 آپ اگر
کچھ نہ کچھ
عربی سمجھنے
لگے ہیں تو
مکتبہ وقفیہ
سے یہ سب کتب
ڈاؤن لوڈ کر
کے اپنی
لائبریری
بنانا شروع
کر دیجیے۔ والسلام مبشر |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں Quranic Arabic Program / Quranic
Studies Program / علوم
القرآن
پروگرام / قرآنی
عربی
پروگرام /
سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں /
علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ /
دور
جدید میں
دعوت دین کا
طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت /
Quranic Concept of Human Life Cycle /
Empirical Evidence of Man’s Accountability
|
||