|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah,
in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful |
||
|
Your
Questions & Comments Don't suppress questions!
Questions are good for your intellectual health!!! |
آپ کے
سوالات و
تاثرات سوالات
کو دبائیے نہیں!
سوالات ذہنی
صحت کی ضمانت
ہیں!!! |
|
اردو
اور عربی
تحریروں کو
ڈاؤن لوڈ
کرنے کے لئے
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ
کیجیے۔
|
||
|
New articles and books are added this website on
1st of each month. انکار
حدیث اور درایت
کے اصول Don't hesitate to
share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll
reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com . |
||
|
السلام
علیکم ورحمۃ
اللہ
وبرکاتہ میری ایک
منکر حدیث
عالم سے
گفتگو ہوئی
جنہوں نے
اپنے نقطہ
نظر کے حق میں
یہ حدیث پیش
کی کہ نبی صلی
اللہ علیہ
وسلم پر جادو
ہوا۔ ان کا
کہنا یہ تھا
کہ یہ حدیث
قرآن کے خلاف
ہونے کی وجہ سے
غلط ہے۔ آپ اس
بارے میں کیا
کہتے ہیں؟ محمد علی حیدر آباد،
انڈیا اپریل 2011 |
||
|
وعلیکم
السلام ورحمۃ
اللہ
وبرکاتہ اگر آپ
اردو میں لکھ
سکیں تو آسانی
ہو جائے گی کیونکہ
طویل میل میرے
لیے رومن
اردو میں
پڑھنا مشکل
ہے۔ کمپیوٹر
میں اردو این
ایبل کرنے کا
طریقہ یہ ہے: http://www.mubashirnazir.org/Setting%20Up%20Your%20System%20For%20Urdu.htm منکرین
حدیث کا بنیادی
مسئلہ یہ ہے
کہ چند احادیث
اگر انہیں
قرآن یا عقل
عام کے خلاف
نظر آئیں تو
وہ انہیں لے
کر حدیث کے
پورے ذخیرے
کا انکار کر دیتے
ہیں۔ یہ روش
درست نہیں
ہے۔ انہوں نے
جو یہ کہا ہے
کہ قرآن یا
عقل عام سے
مخالفت پر حدیث
ترک کر دینے
کا حکم ہے تو یہ
بات اصولی
طور پر درست
ہے اور محدثین
اس اصول پر
عمل کرتے ہیں۔
آپ میری کتاب
کے آخری یونٹ
میں درایت کا
باب دیکھ لیجیے
جو کہ اس لنک
پر دستیاب ہے: http://www.mubashirnazir.org/ER/Hadith/L0004-1301-Hadith.htm اس میں
فن حدیث کی
امہات فن میں
سے کتاب
"الکفایہ" کے
حوالے سے یہ
پوری بحث
موجود ہے۔
ہاں ایک دم کسی
صحیح سند سے
منقول حدیث
کو مسترد کر دینا
ہرگز علمی رویہ
نہیں ہے بلکہ
اس سے پہلے ایک
پورے پراسیس
پر عمل کیا
جائے گا۔ اگر
کسی حدیث میں
کوئی بات سمجھ
میں نہیں آ رہی
تو اس کا صحیح
طریقہ یہ ہے
کہ اس کے تمام
طرق (مختلف
راویوں سے
حاصل کردہ
روایتیں) اکٹھے
کیے جائیں
اور بات کو
سمجھنے کی
کوشش کی
جائے۔ حدیث
کو قرآن کے
ساتھ ہم آہنگ
کرنے کے لیے
اس کے مختلف
پہلو دیکھے
جائیں، تاویل
اگر ممکن ہو
تو تاویل کر
کے دیکھا
جائے۔ اگر
پھر بھی بات
سمجھ میں نہ
آئے تو تب جا
کر یہ کہا
جائے گا کہ حدیث
قرآن یا عقل
عام کے خلاف
ہے اور اس وجہ
سے اس کی نسبت
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ
وسلم کی طرف
درست نہیں
ہے۔ جادو
سے متعلق
احادیث میں یہ
معلوم ہوتا
ہے کہ یہود
اور منافقین
نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم پر
جادو کرنے کی
کوشش کی۔ اس میں
انہیں کوئی
کامیابی
حاصل نہیں ہو
سکی اور نہ ہی
اللہ تعالی
اپنے پیغمبر
پر اس قسم کا
کوئی وار کامیاب
ہونے دیتا
ہے۔ کوشش تو
آپ کو شہید
کرنے کی بھی
ہوئی مگر
اللہ تعالی
نے واضح طور
پر قرآن مجید
میں یہ قانون
بیان کر دیا
ہے کہ اس کے
رسول پر کوئی
غالب نہیں آ
سکتا۔ اس وجہ
سے وہ احادیث
قرآن کے خلاف
نہیں ہے۔
احادیث میں
کفار کی کوشش
کا ذکر ہے اور
کوششیں کرنے
میں وہ آزاد
تھے۔ سوال یہ
ہے کہ احادیث
کے مطابق اس
جادو کا اثر
ہوا یا نہیں؟
اگر اثر ہوا
تھا تو پھر وہ
احادیث قرآن
کے خلاف ہوں گی
ورنہ تو ان میں
محض کفار کی ایک
چال کا بیان
ہے۔ انہوں نے
اپنے تئیں
کوشش کی اور
ناکام رہے۔ اگر
آپ اجازت دیں
تو ایک
برادرانہ
مشورہ دیتا
چلوں کہ
منکرین حدیث یا
کسی سے بھی بحث
و مناظرہ ایک
بے کار عمل
ہے۔ مناظرے
سے انسان کبھی
حق بات تک نہیں
پہنچتا۔
مناظرے کی
نفسیات یہ
ہوتی ہے کہ
دوسرے کو
ہرانا یا
خاموش کرنا
ہے۔ اس میں حق
طلبی کی نفسیات
نہیں ہوتی۔ ہمیں
مناظرے کی
بجائے تحقیق
اور حق طلبی
کا طریقہ اختیار
کیجیے۔ جس
شخص کی جو بات
بھی درست ہو،
اسے مان لیجیے۔
یہ نہ دیکھیے
کہ وہ معتزلی
ہے یا محدث، شیعہ
ہے یا سنی
بلکہ یہ دیکھیے
کہ جو بات کہی
جا رہی ہے، وہ
درست ہے یا نہیں۔
اس کے بعد جس
شخص کی جو بات
درست اور
قرآن و حدیث
کے مطابق ہو،
مان لیجیے۔ منکرین
حدیث سے
سوالات کے
ضمن میں اتنا
عرض کر دوں کہ
پہلے فن حدیث
کا پورا
مطالعہ کر لیجیے،
پھر خود بخود
آپ کو ان کے
نقطہ نظر کی
کمزوریاں
سمجھ میں آ
جائیں گی۔ ہاں
یہ بات
سمجھنا
ضروری ہے کہ
منکرین حدیث
کہتے کسے
ہیں؟ منکر
حدیث وہ شخص
ہے جو احادیث
کے پورے
مجموعے کا
انکار کر دے۔
کسی انفرادی
روایت پر
گفتگو سے
انسان منکر
حدیث نہیں بن
جاتا ہے۔ عین
ممکن ہے کہ ایک
عالم تحقیق
کر کے
ایک حدیث کو
صحیح قرار دے اور
دوسرا اسے ضعیف
سمجھے کیونکہ
دونوں کے
علم، عقل اور
انداز تجزیہ
میں فرق ہو
سکتا ہے۔ یہ
اختلاف حدیث
کے انکار یا
اقرار کا نہیں
ہے بلکہ اس
بات پر ہے کہ
اس حدیث کی
نسبت رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
وسلم کی جانب
درست ہے یا نہیں۔
ایک یا چند
احادیث میں
اختلاف کے
باعث کسی کو
منکر حدیث نہیں
کہنا چاہیے۔
منکرین حدیث
وہ لوگ ہیں جو
بحیثیت
مجموعی حدیث
اور سنت کے
پورے ذخیرے
کو دین کا
ماخذ نہیں
مانتے۔ دعاؤں
کی درخواست
ہے۔ والسلام مبشر |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں Quranic
Arabic Program
/ Quranic Studies
Program / علوم
القرآن
پروگرام / قرآنی
عربی
پروگرام /
سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور
ذہنی، فکری
اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں /
علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی
کی اصول فقہ
پر پہلی کتاب
کا اردو
ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے
مغربی اور
مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی
تعمیر کیسے
کی جائے؟ /
مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ /
دور
جدید میں
دعوت دین کا
طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض
ایک وہم یا
حقیقت
/ Quranic Concept of Human Life Cycle /
Empirical Evidence of Man’s Accountability
|
||