|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah,
in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful |
||
|
Your
Questions & Comments Don't suppress questions!
Questions are good for your intellectual health!!! |
آپ کے
سوالات و
تاثرات سوالات
کو دبائیے نہیں!
سوالات ذہنی
صحت کی ضمانت
ہیں!!! |
|
اردو
اور عربی
تحریروں کو
ڈاؤن لوڈ
کرنے کے لئے
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ
کیجیے۔
|
||
|
New articles and books are added this website on
1st of each month. بحث و مباحثہ Don't hesitate to share
your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply ASAP
if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com
. |
||
|
السلام علیکم
ورحمۃ اللہ میری حیات
النبی کے مسئلے
پر کچھ علماء
کے ساتھ بحث
چل رہی ہے۔ اس
کے لیے ابن
قیم کی کتاب
الروح مطلوب
ہے تاکہ
مخالفین کو
منہ توڑ جواب
دیا جا سکے۔ ایک دوست حیدر آباد،
پاکستان فروری 2011 |
||
|
السلام
علیکم ورحمۃ
اللہ
وبرکاتہ کتاب
الروح کا پی ڈی
ایف ورژن اس
لنک پر دستیاب
ہے: http://www.al-mostafa.info/data/arabic/depot3/gap.php?file=m000184.pdf ورڈ ورژن
اٹیچ کر رہا
ہوں جو مکتبہ
مشکاۃ
الاسلامیہ
پر دستیاب
ہے۔ مکتبہ
مشکاۃ، وقفیہ،
المصطفی اور
صید الفوائد
پر کم و بیش ہر
مشہور کتاب
مل جاتی ہے۔ جہاں تک
مسئلہ حیات
النبی صلی
اللہ علیہ
وسلم پر بحث
کا تعلق ہے تو
اس مسئلے پر
سبھی متفق ہیں
کہ برزخی
زندگی ہر
انسان کو
حاصل ہوتی
ہے۔ شہداء کے
بارے میں تصریح
ہے کہ وہ اپنے
رب کے پاس رزق
پاتے ہیں اور
اعلی درجے کی
زندگی
گزارتے ہیں
مگر ہمیں اس
کا کوئی شعور
نہیں ہے۔ اسی
پر انبیاء
کرام کو قیاس
کر لیا جاتا
ہے۔ اختلاف
نبی صلی اللہ
علیہ وسلم کے
حیات ہونے پر
نہیں بلکہ اس
پر ہے کہ کیا یہ
حیات اس نوعیت
کی ہے کہ جس میں
آپ اپنے امتیوں
کی فریاد سنیں
اور ان کی مدد
کو پہنچیں۔
اس بارے میں
کوئی دعوی
کرنے کی
بجائے مخالفین
سے دلیل طلب
کریں تو وہ
کوئی دلیل پیش
نہ کر سکیں
گے۔ جہاں
تک اس ضمن میں
میری مدد کا
تعلق ہے تو میں
نے ایک عرصہ
تک بحث و
مباحثہ کا
تجربہ کر کے دیکھ
لیا کہ اس کا
کوئی فائدہ
نہیں ہوتا
ہے۔ ہر مکتب
فکر کے لوگوں
کا ذہن یہی
ہوتا ہے کہ بس
"ہر قیمت پر
مخالف کو منہ
توڑ جواب دینا
ہے" اور اسی میں
جانبین کی
زندگیاں گزر
جاتی ہیں مگر
جواب در جواب
کا ایک
لامتناہی
سلسلہ چلتا
رہتا ہے۔
انسان اگر یہ
ٹھان لے کہ اس
نے دلیل کو
قبول نہیں
کرنا ہے تو وہ
اس کے حق میں
بہت سے دلائل
تراش لیتا ہے
اور اپنے
مسلک پر جما
رہتا ہے۔ یہی وجہ
ہے کہ میں اب
بحث و مباحثہ
سے ہمیشہ
اجتناب کرتا
ہوں اور یہ
احساس پیدا
کرنے کی کوشش
کرتا رہتا
ہوں کہ ہم
اللہ تعالی
کے سامنے
جوابدہ ہیں۔
ہماری
وابستگی حق
کے ساتھ ہونی
چاہیے نہ کہ
کسی خاص نقطہ
نظر یا مسلک
کے ساتھ۔ جس
مسلک کی جو
بات قرآن و
سنت کی روشنی میں
درست معلوم
ہو، اسے اختیار
کر لینا چاہیے
اور رجوع کا
دروازہ ہمیشہ
کھلا رکھنا
چاہیے تاکہ
جب کبھی بھی
ہم پر اپنی
غلطی واضح ہو
تو اس پر رجوع
کر لیں۔ اگر میں
محسوس کروں
کہ سامنے
والا اسی رویہ
کا حامل ہے تو
اس سے بحث کی
بجائے ڈائیلاگ
کر لیتا ہوں
جس کا مقصد فریق
مخالف کو منہ
توڑ جواب دینا
نہیں بلکہ
صرف اپنی
اصلاح کرنا
ہوتا ہے۔ اس میں
جذبہ یہ نہیں
ہوتا کہ فریق
مخالف کو
بدلنا ہے
بلکہ جذبہ یہ
ہوتا ہے کہ
مجھ پر اگر حق
واضح ہو جائے
تو میں اپنی
بات سے رجوع
کر لوں گا۔
رہا فریق
مخالف کا
معاملہ کہ وہ
قائل ہوتا ہے یا
نہیں تو وہ اس
کا اپنا ذاتی
معاملہ ہے۔
اگر میں یہ
محسوس کروں
کہ فریق
مخالف کا رویہ
یہ نہیں ہے
بلکہ اس کے پیش
نظر صرف اپنے
مسلک کی حمیت
و حمایت ہے تو
پھر میں اس سے
کبھی بحث نہیں
کرتا اور
سلام کہہ کر
رخصت اختیار
کر لیتا ہوں۔ میرا
مشورہ ہے کہ
آپ بھی بحث و
مباحثہ کو
چھوڑ کر اگر
حق پرستی کا
رویہ پیدا
کرنے کی کوشش
کریں تو اس سے
کم وقت میں کہیں
زیادہ فائدہ
ہو گا۔ دعاؤں کی
درخواست ہے۔ والسلام مبشر |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں Quranic
Arabic Program
/ Quranic Studies
Program / علوم
القرآن
پروگرام / قرآنی
عربی
پروگرام /
سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور
ذہنی، فکری
اور نفسیاتی غلامی /
اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں /
علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی
کی اصول فقہ
پر پہلی کتاب
کا اردو
ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے
مغربی اور
مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی
تعمیر کیسے
کی جائے؟ /
مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ /
دور
جدید میں
دعوت دین کا
طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض
ایک وہم یا
حقیقت
/ Quranic Concept of Human Life Cycle /
Empirical Evidence of God’s Accountability
|
||