|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah,
in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful |
||
|
Your
Questions & Comments Don't suppress questions!
Questions are good for your intellectual health!!! |
آپ کے
سوالات و
تاثرات سوالات
کو دبائیے نہیں!
سوالات ذہنی
صحت کی ضمانت
ہیں!!! |
|
اردو
اور عربی
تحریروں کو
بہتر دیکھنے
کے لئے نسخ
اور نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ
کیجیے
|
||
|
خواتین
کے سامنے قوت
خود اعتمادی Don't hesitate to
share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll
reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com . |
||
|
اسلام وعلیکم
مبشر صا حب کیسےہیں
آپ امید ہے کہ
ٹھیک ہو نگے۔ ۱۔ ہماری
سوسائٹی میں
مختلف قسم کے
شرک جیسے شرک
فی الذات
وصفات وغیرہ
جو آہستہ
آہستہ پھیل
رہے ہو جن میں
ہم آہستہ
آہستہ ملوث
ہو رہے ہوں
اور ہمیں پتہ
بھی نہ ہو، کیا
آپ اس قسم کے
شرک کے با رے میں
بتائیں گے؟ 2۔ ایک
مسئلہ ہے وہ یہ
ہے کہ پچاس
آدمیوں کے
سامنے تو کھل
کربغیر کسی
گھبراہٹ،ججھک
وغیرہ کے بات
ہو جاتی ہے لیکن
جب دوتین لڑکیاں
بیٹھی ہو تو
ان کے سامنے
بات نہیں ہو
پاتی۔ کیا یہ
اعتماد میں
کمی ہے ہا پھر
زہن یہ
سمجھتا ہے کہ
لڑکیاں کوئی
دوسری مخلوق
ہیں۔ عبداللہ،
سیالکوٹ،
پاکستان اکتوبر 2010 |
||
|
وعلیکم
السلام ورحمۃ
اللہ
وبرکاتہ اللہ کا
شکر ہے۔ آپ
سنائیے۔
جوابات یہ ہیں: ۱۔ شرک کی
بہت سی صورتیں
ہمارے
معاشروں میں
عام ہیں۔ ان میں
سب سے نازک
مسئلہ ریاکاری
کا ہے جسے حدیث
میں شرک اصغر
کہا گیا ہے یعنی
انسان اللہ
تعالی کے لئے
نیک عمل کرنے
کی بجائے اس
لئے عمل کرے
کہ لوگ مجھے دیکھیں
اور میری تعریف
کریں۔ اس کے
علاوہ ہمارے
ہاں قبروں پر
جا کر سجدے
کرنا، صاحب
قبر سے مرادیں
مانگنا،
صاحب قبر کے
لئے نذر دینا
وغیرہ ایسے
معاملات ہیں
جن میں اس
پہلو سے شرک
پایا جاتا ہے
کہ یہ
معاملات
اللہ تعالی
کے ساتھ خاص
عبادت کے
اعمال ہیں۔
ہمیں اس سے
پناہ مانگنی
چاہیے اور دیکھنا
چاہیے کہ ہم
جو کر رہے ہیں،
کہیں اس میں
اللہ تعالی
کے ساتھ ساتھ
کسی اور کو تو
شریک نہیں کر
رہے۔ اگر ایسا
ہو تو فوراً
اپنی اصلاح
کرنی چاہیے۔ ۲۔ ہر شخص
کا معاملہ
مختلف ہوتا
ہے۔ جو مسئلہ
آپ نے بتایا
ہے اس کی وجہ
ہمارا
معاشرتی
نظام ہے جس میں
خواتین کے
بارے میں الگ
مخلوق ہونے
کا تصور پایا
جاتا ہے۔ اس
کا حل یہ ہے کہ
انہیں بھی
اپنے جیسا
انسان ہی
سمجھیے۔ اگر
ان کے سامنے
بات کرتے
ہوئے کوئی
غلطی ہو گئی تو
یہ ایسے ہی ہے
جیسے مردوں
کے سامنے غلطی
ہو گئی ہو۔ اس
سے زیادہ کچھ
نہیں ہو گا۔
اس سے اعتماد
پیدا ہو گا۔ ہاں دین
نے ہمیں شرم و
حیا کے کچھ
تقاضے بتائے
ہیں۔ اگر
خواتین و مرد
ایک جگہ پر
موجود ہوں تو
ان دونوں کو
اس کا خیال
رکھنا چاہیے۔
اس کی تفصیل
آپ سورۃ نور کی
آیت ۳۰، ۳۱ میں دی گئی
ہے۔ ان کا
خلاصہ یہ ہے
کہ مرد و خواتین
دونوں کو باحیا
لباس پہننا
چاہیے۔ مرد و
خواتین
دونوں ہی کو
اپنی نظر باحیا
رکھنی چاہیے
اور اپنی شرم
کی جگہوں کو
چھپا کر
رکھنا چاہیے۔
خواتین کے
لئے اضافی
حکم یہ ہے کہ
انہیں اپنے
سر اور سینے
کو اچھی طرح
ڈھانپ کر
رکھنا چاہیے
اور اپنے فیشن
کی نمائش نہیں
کرنی چاہیے۔ والسلام مبشر |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں Quranic
Arabic Program
/ Quranic Studies
Program / علوم
القرآن
پروگرام / قرآنی
عربی
پروگرام /
سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور
ذہنی، فکری
اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں /
علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی
کی اصول فقہ
پر پہلی کتاب
کا اردو
ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے جائزہ
/ الحاد
جدید کے
مغربی اور
مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی
تعمیر کیسے
کی جائے؟ /
مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ /
دور
جدید میں
دعوت دین کا
طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض
ایک وہم یا
حقیقت
/ Quranic Concept of Human Life Cycle /
Empirical Evidence of God’s Accountability
|
||