|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah,
in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful |
||
|
Your
Questions & Comments Don't suppress questions!
Questions are good for your intellectual health!!! |
آپ کے
سوالات و
تاثرات سوالات
کو دبائیے نہیں!
سوالات ذہنی
صحت کی ضمانت
ہیں!!! |
|
اردو
اور عربی
تحریروں کو
بہتر دیکھنے
کے لئے نسخ
اور نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ
کیجیے
|
||
|
کیا
بینک کی
نوکری اور
کریڈٹ کارڈ استعمال
کرنا حرام
ہے؟ Don't hesitate to
share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll
reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com . |
||
|
السلام علیکم
ورحمۃ اللہ
وبرکاتہ محترم مبشر بھائی ۱۔ کیا بینک
کی نوکری
حلال ہے یا
حرام؟ اکثر اسلامی
اسکالر کہتے
ہیں کہ بینک
کی کسی قسم کی نوکری
بھی جائز
نہیں ہے مگر
میں نے دیکھا
ہے کہ بہت سے
مذہبی لوگ
بینک میں کام
کرتے ہیں۔ ۲۔ کیا
کوئی کریڈٹ
کارڈ سود کے
بغیر مل سکتا
ہے؟ کیا اس
کا استعمال
جائز ہے؟ ۳۔ جہاں
میں جاب کرتا
ہوں، وہاں
باس نے مجھ سے
پوچھا کہ فرض
کرو کہ تم نے
کسی نے 2000 روپے
دینے ہیں اور
تم پوری رقم
نہیں دینا
چاہتے
اور اتنی رقم
دے دیتے ہو کہ
وہ مطمئن ہو
جائے۔ آپ
بزنس کی فیلڈ
میں ہیں۔
بتائیے کہ اس
طرح کی سچویشن
میں کیا کیا
جاتا ہے؟ عبداللہ،
سیالکوٹ،
پاکستان ستمبر 2010 |
||
|
وعلیکم
السلام ورحمۃ
اللہ جوابات
حاضر ہیں: ۱۔ تمام
اہل علم اس پر
متفق ہیں کہ بینک
کا سود حرام ہی
ہے۔ بینک
کی نوکری اس
نظام کی خدمت
ہو تو ہے۔ اس
وجہ سے اس
نظام کی خدمت
سے بھی
اجتناب کرنا
چاہیے۔ جو
مذہبی لوگ بینک
میں نوکری
کرتے ہیں، ان
کا معاملہ
اللہ تعالی
کے سپرد ہے۔ بعض
لوگ کہتے ہیں
کہ سود سے
کہیں نہیں
بچا جا سکتا،
اس وجہ سے بینک
ہی میں نوکری
کر لی جائے تو
کیا حرج ہے۔
ان کی بات غلط
ہے۔ براہ
راست سود میں
اپنی مرضی سے
انوالو ہونا
اور بات ہے
اور کہیں آپ
مجبوراً
ایسے معاملے
میں پھنس
جائیں تو اور
بات ہے۔ اس
وجہ سے ایک
خدا سے ڈرنے
والے شخص کو
بینک کی
نوکری نہیں
کرنی چاہیے۔ ۲۔ کوئی کریڈٹ
کارڈ بغیر
سود کے نہیں
ہوتا۔ ہاں ڈیبٹ
کارڈ بغیر
سود کے ہوتا
ہے۔ اگر
انٹرنیشنل پیمنٹس
کے لئے اس کا
استعمال
کرنا ضروری
ہو تو اس کی ڈیو
ڈیٹ سے پہلے
ادائیگی کر دیں
تاکہ سود سے
بچا جا سکے۔ ۳۔ سوال یہ
پیدا ہوتا ہے
کہ پوری رقم کی
ادائیگی کیوں
نہ کی جائے۔
اگر کسی متعین
تاریخ کا
معاہدہ ہے تو
پھر ہر حال میں
ادائیگی کرنی
چاہیے۔
کاروباری
لوگ حیلے
بہانے سے
وعدے کے
مطابق ادائیگی
میں جو تاخیر
کرتے ہیں، اس
کی دین میں
کوئی گنجائش
نہیں ہے۔ دین
ہمیں آخری حد
تک معاہدے کی
پابندی کا
حکم دیتا ہے۔
یہاں تک کہ
دشمن سے بھی
اگر کوئی معاہدہ
ہو تو اس کی
خلاف ورزی اس
وقت تک نہیں
ہو سکتی جب تک
کہ وہ دشمن
خود اس
معاہدے کی
خلاف ورزی نہ
کر دے۔ والسلام مبشر |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں Quranic
Arabic Program
/ Quranic Studies
Program / علوم
القرآن
پروگرام / قرآنی
عربی
پروگرام /
سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور
ذہنی، فکری
اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام / قرآن اور
بائبل
کے دیس میں /
علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی
کی اصول فقہ
پر پہلی کتاب
کا اردو
ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے
مغربی اور
مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی
تعمیر کیسے
کی جائے؟ /
مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ /
دور
جدید میں
دعوت دین کا
طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض
ایک وہم یا حقیقت / Quranic Concept of Human Life Cycle /
Empirical Evidence of God’s Accountability
|
||