|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
||
|
Your
Questions & Comments Don't suppress questions!
Questions are good for your intellectual health!!! |
آپ کے
سوالات و
تاثرات سوالات
کو دبائیے نہیں!
سوالات
ذہنی صحت کی
ضمانت ہیں!!! |
|
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
||
|
کیا
نوکری کرنا
غلامی ہے؟ Don't hesitate to
share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll reply
ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com
. |
||
|
سوال:
السلام علیکم
کیا
حال ہے آپ کا؟
امید کرتا
ہوں کہ آپ ٹھیک
ہوں گے۔
آپ نے مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی کے بارے میں
کتاب لکھی
ہے، وہ مجھے
بہت پسند آئی
ہے۔ میں نے آپ
کی ویب سائٹ
سے اس کا پرنٹ
نکال کر کتاب
بنائی ہے اور
میں اسے
پڑھتا رہتا
ہوں۔ میں
ایک بات کہنا
چاہتا ہوں کہ یہ
جو لوگ
دوسروں کے
پاس جاب کرتے
ہیں اور سارا
دن کام کرتے ہیں
اور مجبوراً
انہیں نہ
چاہتے ہوئے
بھی دوسروں کی
نوکری کرنی
پڑتی ہے اور
تو کیا یہ
غلامی کی ایک
شکل نہیں ہے؟ آدمی نہ
بھی چاہے تو
اسے باس کا ہر
کام کرنا
پڑتا ہے اور
اس کی
فرمانبرداری
کرنی پڑتی ہے
اور روز ایک ہی
روٹین سے اور
ٹائم پر جاب
پر جانا پڑتا
ہے۔ اس طرح
اسے اللہ کیسے
یاد آئے؟ کیونکہ
اسے ہر وقت
مالک کے
سامنے ایکٹو
رہنا پڑتا ہے
اور مالک کے
سامنے آٹھ نو
گھنٹے پوری
توجہ سے کام
کرنا پڑتا ہے۔
کیا اس سے
اچھا اپنا
کاروبار نہیں؟
ضروری تو نہیں
کہ آدمی کا
بہت بڑا
کاروبار ہو،
ایک چھوٹی سی
دکان بھی تو
دوسروں کی
جاب سے بہتر
ہے۔ یہاں پر
والدین بھی
بچوں کے ذہن میں
یہ ڈالتے ہیں
کہ پڑھ لکھ کر
جاب ہی کرنی
ہے۔ یہ کوئی
نہیں کہتا کہ
پڑھ کر اپنا
کوئی کام
سٹارٹ کرنا
ہے۔ آپ
اس بارے میں کیا
کہتے ہیں؟ |
||
|
جواب: محترم بھائی السلام
علیکم و رحمۃ
اللہ و
برکاتہ آپ
کی ای میل اور
تاثرات کا
بہت بہت شکریہ۔
یہ بات میرے لئے
باعث مسرت ہے
کہ ذہنی غلامی
سے متعلق
کتاب آپ کو
پسند آئی ہے۔
مجھے آپ کی
بات سے مکمل
اتفاق ہے کہ
کسی کے پاس
نوکری کرنا
بڑی حد تک ۸۔۹ گھنٹے کی
غلامی ہے۔
نچلی سطح کے
ورکرز کے لئے یہ
غلامی زیادہ
سخت ہے۔ اس سے
استثنا بعض
ان نوکریوں
کو حاصل ہے جو
اپنی نیچر میں
ہائیلی پروفیشنل
یا ٹیکنیکل ہیں۔
اس غلامی میں
اور عام غلامی
میں فرق یہ ہے
کہ آپ جب چاہیں
اپنے مالک سے
نجات حاصل کر
سکتے ہیں مگر
عام غلامی میں
ایسا ممکن نہیں
ہے۔ یہ کہنا زیادہ
درست ہو گا کہ
ملازمت،
غلامی اور
آزادی کے درمیان
کی ایک چیز ہے۔ اپنے
کاروبار میں
بڑی حد تک
انسان اس قسم
کی غلامی سے
بچ جاتا ہے
مگر اس میں ایک
دوسری قسم کی
مشکل ہے اور
وہ یہ کہ آپ کو
اپنے کسٹمرز
کو ہر صورت میں
مطمئن کرنا
ہے۔ میرا
مشاہدہ ہے کہ
ملازمت میں
تو لوگ ۸۔۹ گھنٹے
بعد فارغ ہو
جاتے ہیں مگر
کاروبار میں
انہیں سولہ
سولہ گھنٹے
کام کرنا پڑتا
ہے۔ اصل
میں اللہ
تعالی نے اس
دنیا کا نظام
کچھ ایسا بنایا
ہے کہ ہماری
روزی روٹی کا
انحصار
دوسروں پر ہے
اور یہی
ہمارا
امتحان ہے۔ میں
نے خود اس
غلامی کو
اپنے کیرئیر
کے آغاز میں
بڑی شدت سے
محسوس کیا
اور اس سے
نجات حاصل
کرنے کے لئے
اپنی تعلیمی
قابلیت میں اضافہ
کرتا چلا گیا۔
اب اگرچہ میں
ملازمت کر
رہا ہوں مگر
غلامی کی سی کیفیت
نہیں ہے۔ اگر
آپ نے میری
کتاب "اسلام
میں ذہنی و
جسمانی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ" کا
مطالعہ کیا
ہو تو اس
مسئلے پر میں
نے باب ۱۸ میں
"سرمایہ
دارانہ غلامی"
کے عنوان کے
تحت بحث کی ہے۔
اس کا لنک یہ
ہے: http://www.mubashirnazir.org/ER/Slavery/L0018-18-Slavery.htm اپنے
تاثرات سے
آگاہ کرتے رہیے
اور دعاؤں میں
یاد رکھیے۔ والسلام محمد
مبشر نذیر (اکتوبر
2009) |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام /
قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت / Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
||