|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
||
|
Your
Questions & Comments Don't suppress questions!
Questions are good for your intellectual health!!! |
آپ کے
سوالات و
تاثرات سوالات
کو دبائیے نہیں!
سوالات
ذہنی صحت کی
ضمانت ہیں!!! |
|
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
||
|
کیا
زبان سے نیت
کرنا ضروری
ہے؟ Don't hesitate to
share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll
reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com . |
||
|
سوال:
جمعہ کی نماز
کی نیت کس طرح
کریں گے؟ کیا
میں نیت کرتا
ہوں چار رکعت
نماز سنت وقت
ہے جمعہ کے واسطے
اللہ کے، رخ میرا
کعبہ شریف کی
طرف،
اسی طرح
فرض، نفل کی نیت
کریں گے۔ جس
طرح ظہر کی
نماز میں یہ
کہتے ہیں کہ
وقت ہے ظہر
کا، کیا اسی
طرح
جمعہ کی
نماز میں یہ
بولیں گے کہ وقت
ہے جمعہ کا؟ عبداللہ،
سیالکوٹ،
پاکستان |
||
|
جواب:
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ
وسلم نے کبھی
زبان سے نیت
نہیں فرمائی۔
نیت دل کے
ارادے کا نام
ہے۔ آپ نے دل میں
جو ارادہ کیا
ہے کہ میں
جمعہ کی نماز
پڑھنے جا رہا
ہوں۔ یہ
ارادہ ہی نیت
ہے۔ ہر نماز
کے لئے دل کا
ارادہ ہی نیت
ہوتی ہے اور یہی
سنت ہے۔
ہمارے ہاں
اردو یا
پنجابی میں
جس طرح طویل نیت
کی جاتی ہے،
وہ نہ تو رسول
اللہ صلی
اللہ علیہ
وآلہ وسلم سے
ثابت ہے اور
نہ ہی آپ کے
صحابہ سے۔ آپ
نے دل میں جو
ارادہ کیا ہے
کہ "میں جمعہ یا
ظہر کی نماز
پڑھنے لگا
ہوں" بس یہی
کافی ہے۔ محمد
مبشر نذیر (جنوری
2010) |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام /
قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت / Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
||