|
بِسمِ
اللهِ
الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ Allah, in the name of, the Most
Affectionate, the Eternally Merciful |
||
|
Your
Questions & Comments Don't suppress questions!
Questions are good for your intellectual health!!! |
آپ کے
سوالات و
تاثرات سوالات
کو دبائیے نہیں!
سوالات
ذہنی صحت کی
ضمانت ہیں!!! |
|
اردو
اور عربی تحریروں کو بہتر
دیکھنے کے
لئے نسخ اور
نستعلیق
فانٹ یہاں سے
ڈاؤن لوڈ کیجیے
|
||
|
بری صحبت
سے کیسے بچا
جائے؟ Don't hesitate to
share your questions and comments. They will be highly appreciated. I'll
reply ASAP if I know the answer. Send at mubashirnazir100@gmail.com . |
||
|
سوال:
السلام
علیکم! مبشر بھائی کیا
حال ہے۔ اللہ
آپ کو خوش
رکھے۔ آمین۔ مبشربھائی!
آپ کی ای میل
آئی۔ بہت
مہربانی کہ
آپ نے اپنی
مصروفیات
میں سے ٹائم
نکالا۔ آج
میں آپ کے
ساتھ ایک اور
مسئلہ شیئر
کرنا چاہتا
ہوں۔ اس کا حل
بھی مہربانی
کر کے بتا
دیں۔ میں ایک
جگہ دو سال سے
کام کر رہا
تھا کہ مستری
نے کہا کہ تم
دوسری جگہ
کام پر چلے
جاؤ۔ اب جس
جگہ میں کام
پر آیا ہوں،
یہ لوگ ایک
دوسرے کو
گالیاں دیتے
ہیں،
لڑائیاں کرتے
ہیں، گندی
گفتگو کرتے
ہیں۔ میں ان
کے ساتھ چھ
مہینے سے کام
کر ررہا ہوں
مگر میری ان
میں سے ایک کے
ساتھ بھی
دوستی نہیں
ہوئی۔ میں
اکیلا کام
کرتا ہوں اور
وہ سارے مل کر
کام کرتے
ہیں۔ میں
جہاں پہلے
کام کرتا
تھا، وہ لوگ ٹھیک
تھے۔ اب آپ یہ
بتائیں کہ
میں کیا
کروں؟ ان کے
ساتھ دوستی
کیسے کروں۔
کچھ حل بتا
دیں۔ کیوں کہ
ہماری ڈیوٹی
۱۰ گھنٹے کی
ہوتی ہے تو دس
گھنٹے میں
اکیلا رہ کر
تنگ آ جاتا
ہوں۔ یہاں آپ
کے دل میں
شاید یہ آ رہا
ہو کہ میں
مغرور ہوں تو
یہ بھی غلط
ہے۔ میں اللہ
سے ڈرنے والا
آدمی ہوں۔
اسی لئے تو نہ
گندی گفتگو
کرتا ہوں اور
نہ کسی کے
ساتھ زیادتی
کرتا ہوں۔ دوسری
مہربانی یہ
کریں کہ اپنی
پرسنالٹی کو
بہتر بنانے
کے لئے کیا
کروں؟ اس
احساس کمتری کی
وجہ سے میں
کسی سے بات نہیں کر
سکتا نہ اور
نہ مجھے
لوگوں سے ملنا
اچھا لگتا
ہے۔ ایسا
کیوں ہے؟ ذرا
تفصیل سے
جواب دیں۔
میں انتظار
کروں گا۔
پلیز ہر
مسئلے کا حل
تفصیل سے دیں
۔ شکریہ۔
اللہ آپ کو آپ
کی فیملی کو
خوش رکھے۔
آمین۔
والسلام۔ |
||
|
جواب:
محترم بھائی السلام
علیکم ورحمۃ
اللہ
وبرکاتہ آپ
جس مسئلے سے
گزر رہے ہیں،
اس سے ایک
مرتبہ مجھے
بھی گزرنا
پڑا ہے۔ اس
مسئلے کے دو
حل ہیں: ۱۔ طویل
المدت حل یہ
ہے کہ آپ اپنی
تعلیم پر
توجہ دیجیے
اور اپنی
صورتحال
بہتر بنانے کی
کوشش کیجیے۔
اس سے یہ ہو گا
کہ کچھ ہی
عرصے میں آپ
اس ماحول سے
مکمل طور پر
نجات حاصل کر
لیں گے۔ ۲۔ فوری حل یہ
ہے کہ اپنے
ساتھیوں میں
دیکھیے کہ ان
میں کون
نسبتاً بہتر
ہے۔ یقینی
طور پر ان میں
کوئی نہ کوئی
ایسا ہو گا جو
فحش گفتگو کم
کرتا ہو گا۔
اس سے دوستی
کر لیجیے۔
باقی سب سے بھی
اچھی سلام
دعا رکھیے۔
ان کی گفتگو
کو صبر کے
ساتھ برداشت
کیجیے۔ بس
خود اس میں شریک
نہ ہوں۔ کسی
سے لڑائی
جھگڑا کرنے
کا کوئی
فائدہ نہیں
ہے۔ اگر ہو
سکے تو اپنے
ادارے کے
مالک سے بات کیجیے
اور کسی
اورجگہ کام
پر لگانے کا
کہیے۔ تعمیر
شخصیت اور
احساس کمتری
سے نجات کے
لئے اگر آپ یہ
تحریر پڑھ سکیں
تو انشاء
اللہ آپ کافی
فائدہ محسوس
کریں گے۔ http://www.mubashirnazir.org/ER/L0009-00-Personality.htm دعاؤں
کی درخواست
ہے۔ والسلام محمد
مبشر نذیر (فروری 2010) |
||
|
مصنف
کی دیگر تحریریں قرآنی
عربی
پروگرام / سفرنامہ
ترکی
/ مسلم
دنیا اور ذہنی،
فکری اور نفسیاتی
غلامی
/ اسلام
میں جسمانی و
ذہنی غلامی
کے انسداد کی
تاریخ / تعمیر
شخصیت
پروگرام /
قرآن اور
بائبل
کے دیس میں / علوم
الحدیث: ایک
تعارف / کتاب
الرسالہ:
امام شافعی کی
اصول فقہ پر
پہلی کتاب کا
اردو ترجمہ و
تلخیص
/ اسلام
اور دور حاضر
کی تبدیلیاں / ایڈورٹائزنگ
کا اخلاقی
پہلو سے
جائزہ / الحاد
جدید کے مغربی
اور مسلم
معاشروں پر
اثرات / اسلام
اور نسلی و
قومی امتیاز / اپنی
شخصیت اور
کردار کی تعمیر
کیسے کی
جائے؟
/ مایوسی
کا علاج کیوں
کر ممکن ہے؟ / دور جدید
میں دعوت دین
کا طریق کار / اسلام
کا خطرہ: محض ایک
وہم یا حقیقت / Quranic Concept of Human Life Cycle
/ Empirical
Evidence of God’s Accountability
|
||