بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

مصر اور اسپین

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

مصر کا شمار دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں ہوتاہے۔ یہاں ہزاروں برس سے قبطی قوم آباد ہے جوحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت مسیحی مذہب کی پیرو تھی۔ عربوں نے اس خطے کوحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں فتح کیا۔ جس کے بعد یہ قوم جو صرف مذہب میں نہیں بلکہ تہذیب، ثقافت، زبان اور رسم و رواج ہر اعتبار سے عربوں سے مختلف تھی، عرب کلچر کا ایک حصہ بن گئی۔ مذہب سے لے کر زبان تک عربوں کے کلچر میں اس طرح ڈھلی کہ اب جغرافیائی طور پر بھی مصر کو مڈل ایسٹ میں شمار کیا جاتا ہے حالانکہ اصلاً یہ براعظم ایشیا کا نہیں بلکہ افریقہ کا ایک ملک ہے۔

کون کہہ سکتا ہے کہ میں نے اپنے دل کو پاک کر لیا ہے اور اب ہر طرح کے گناہ سے پاک ہو چکا ہوں؟ سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام

خلفائے راشدین کے بعد جو پہلا بڑا ملک مسلمانوں کی سلطنت میں شامل ہوا وہ اسپین تھا۔ عربوں نے اسپین کو 92ھ ( 711ء) میں فتح کیا۔ یہاں مسلمانوں کا اقتدار 896ھ ( 1492ء) تک قائم رہا۔ مسلمانوں نے اسپین میں اپنے آٹھ سو سالہ دورِ اقتدار میں بڑے بڑے کارنامے سر انجام دیے۔ فلسفے اور سائنس کی عظیم دریافتیں اور تعمیر و ترقی کے ان گنت نمونے اسپین میں عربوں ہی سے منسوب ہیں۔ وہ کئی اعتبار سے دنیا بھر کے مسلمانوں سے آگے تھے۔ مگر مصر کے برعکس جہاں آج تک عربوں کی چھاپ لگی ہوئی ہے، اسپین کے عرب حرفِ غلط کی طرح اس سرزمین سے مٹادیے گئے۔

سوال یہ ہے کہ مصر کے مقابلے میں اسپین کے عربوں کا انجام کیوں مختلف ہوا۔ اس کا واضح جواب یہ ہے کہ مصر صحابہ کرام نے فتح کیا تھا۔ وہ عرب بعد میں تھے، اسلام کے داعی پہلے تھے۔ ان کی دلچسپی اپنے اقتدار سے زیادہ بندوں کو خدا کی غلامی میں لانے سے تھی۔ انہوں نے مفتوح قوم پر اپنا اقتدار قائم کرنے کے بجائے اسلام کا اقتدارقائم کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام مفتوح قوم کے لیے حکمرانوں کا دین نہیں رہا بلکہ ان کا اپنا دین بن گیا۔ یہ تبدیلی اس مقام تک پہنچی کہ ہزاروں برس سے قائم قبطی تہذیب آج ماضی کی تاریخ کا ایک واقعہ ہے اور دنیا مصریوں کو عالم عرب کے ایک اہم حصے کے طور پر پہچانتی ہے۔

اس کے برعکس اسپین میں عربوں کے اقتدار کا تمام تر انحصار ان کی سیاسی قوت پر تھا۔ اسپین میں مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ تاریخ اس پر گواہ ہے کہ وہ اس عرصے میں اندرونی بغاوتیں کچلتے رہے یا پھر یورپ کی مسیحی قوتوں کا مقابلہ کرتے رہے۔ اپنے دورِ عروج میں وہ اپنی طاقت کی بنیاد پر مخالفین پر غالب رہے۔ انہوں نے علم و فن اور تعمیر و ترقی میں عظیم کارنامے سرانجام دیے۔ وہ مذہب سے بھی غافل نہ تھے اور علمی اور عملی طور پر دین سے وابستہ رہے۔ اسلامی تاریخ کے کئی نامور اہل علم کا تعلق اسپین سے تھا۔ مگر دین سے ان کی یہ وابستگی زیادہ تر دین کو سمجھنے، اس کے تحفظ اور اس پر عمل تک رہی۔ مگر انہوں نے کبھی اسلام کی دعوتی طاقت سے اہل یورپ کو مسخر کرنے کی کوشش نہ کی۔ انہوں نے ہمیشہ اہل یورپ کو ایک سیاسی حریف سمجھا، انہیں اسلام کا مدعو بنانے کی حقیقی کوشش کبھی نہ کی۔

اسلام میں جسمانی و نظریاتی غلامی کے انسداد کی تاریخ۔ کیا اسلام نے غلامی کے خاتمے کے لئے کچھ اقدامات کیے یا اسلام غلامی کی حمایت کرتا ہے؟ موجودہ دور میں غلامی کی تحریک مغربی دنیا سے شروع کیوں ہوئی؟ مسلم دنیا میں غلامی کا خاتمہ کیسے اور کیوں ہوا؟ مسلم اور مغربی دنیاؤں میں موجود غلامی میں کیا فرق تھا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دنیا میں غلامی کے خاتمے سے متعلق کیا کردار ادا کیا؟

اس بات کا اندازہ ابتدائی عربوں اور بعد کے عربوں کی غیر مسلم خواتین سے شادیوں کے نتائج سے کیا جاسکتا ہے۔ قرآن نے مسلمانوں کو اہل کتاب عورتوں سے شادی کرنے کی اجازت اس لیے دی تھی کہ محبت کا یہ تعلق انھیں اسلام کی طرف راغب کردے گا۔ چنانچہ ابتدائی عربوں نے اسی داعیانہ جذبے سے غیر مسلم خواتین سے شادیاں کیں اور انہیں اسلام کے حلقے میں لے آئے۔ مگر اسپین میں مسلمانوں نے مسیحی خواتین سے شادیاں انہی انسانی جذبات کی بنا پر کیں، جن کی بنا پر لوگ شادیاں کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ خواتین مسیحی ہی رہیں اور بارہا ان کے خیالات مسلمانوں میں فروغ پائے اور کئی دفعہ یہ مسلمانوں میں خانہ جنگی اور بغاوت کا سبب بن گئیں۔ چنانچہ جب تک مسلمانوں کی سیاسی قوت باقی رہی، ان کا اقتدار قائم رہا اور اس کے بعد وہ ماضی کی ایک داستان بن گئے۔

مصر اور اسپین کا یہ موازنہ بتاتا ہے کہ مسلمانوں کی اصل طاقت سیاسی نہیں بلکہ نظریے کی طاقت ہے جو اگر ان کے دور عروج میں ان کے لیے بڑی اہم تھی تو ان کے دورِ زوال میں یہ اہم تر ہے۔ آج فرض کے درجے میں مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی دعوت کو اقوام عالم تک پہنچائیں۔ یہ ان کی ذمہ داری ہی نہیں ان کے زوال کے خاتمے کا سب سے موثر طریقہ بھی ہے۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اپنے خیالات اور تجربات شیئر کرنے کے لئے ای میل بھیجیے۔ اگر آپ کو تعمیر شخصیت سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      مصر اور اسپین میں مسلمانوں نے تاریخ میں کیا فرق روا رکھا اور اس کے نتائج کیا نکلے؟

      اس سے ہمارے لئے موجودہ دور میں کیا سبق ہے؟

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے