بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

اورنگ زیب عالمگیر کا شکوہ

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

فرانکوس برنیئر، جو کہ فرانس کے مشہور سیاح گزرے ہیں، نے 1657 سے لے کر 1668 کے دوران ہندوستان کا سفر کیا۔ اس وقت برصغیر پر اورنگ زیب عالمگیر (d. 1707) کی حکومت تھی جو کہ ہندوستان کے آخری مضبوط بادشاہ ہوئے ہیں۔ جب اورنگ زیب ہندوستان کے شہنشاہ بنے، تو ان کے ایک استاذ دربار میں اعلی عہدے کی آرزو لئے بادشاہ کے پاس آئے اور ان کی خوشامد شروع کر دی۔

اورنگ زیب نے اپنے استاذ سے اس زمانے کے تعلیمی نظام کے مسائل پر گفتگو کی۔ ان کے خیالات سے ہمارے نظام تعلیم کی خامیاں بھی سامنے آ جاتی ہیں۔ پچھلے ساڑھے تین سو برس میں یہ صورتحال بہتر نہیں ہو سکی ہے۔ برنیئر جو کہ اس موقع پر موجود تھے، اورنگ زیب کی تقریر کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

علوم الحدیث کیا ہیں؟ ان میں کن مباحث کی تعلیم دی جاتی ہے؟ صحیح و ضعیف حدیث میں کیا فرق ہے؟ صحیح اور من گھڑت احادیث میں فرق کیسے کیا جاتا ہے؟ اس کی تفصیل کے لئے "علوم الحدیث: ایک تعارف" کا مطالعہ فرمائیے۔

ملا جی! کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو سلطنت کا اعلی ترین عہدہ دے دوں؟ تو آئیے ہم آپ کے ممتاز مقام کا جائزہ لیتے ہیں۔ مجھے اس سے انکار نہیں ہے کہ آپ اس عہدے کے حق دار تھے اگر آپ نے میرے ناپختہ ذہن میں کام کی معلومات کی آبیاری کی ہوتی۔ آپ مجھے ایک بھی اعلی تعلیم یافتہ نوجوان سے ملا دیجیے تو میرے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گا کہ اس کی تعلیم میں اس کے باپ کا حصہ زیادہ ہے یا اس کے استاذ کا۔ میں نے آپ کے زیر تعلیم رہ کر کیا علم حاصل کیا؟

آپ نے مجھے یہ بتایا تھا کہ فرنگستان (اس دور میں پورے یورپ کو فرنگستان کہا جاتا تھا) محض ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جہاں سب سے زیادہ طاقتور بادشاہ پرتگال کا تھا، اس کے بعد ہالینڈ کا بادشاہ طاقتور ہوا اور اب انگلینڈ کا بادشاہ سب سے زیادہ طاقتور ہے۔ یورپ کے دیگر فرمانرواؤں جیسے اسپین اور فرانس کے بادشاہ کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ وہ ہمارے چھوٹے موٹے راجاؤں کی طرح ہیں۔

آپ نے فرمایا کہ ہندوستان کے شہنشاہ پوری دنیا سے زیادہ عظیم اور باجبروت ہیں۔ صرف یہی ہیں جو کہ ہمایوں، جہانگیر اور شاہ جہاں ہوئے۔ یہی وہ عظیم بادشاہ ہیں جنہوں نے پوری دنیا کو فتح کیا اور ساری دنیا کے بادشاہ ان کے باجگزار ہیں۔ ایران، ازبکستان، تاتارستان، برما، پیگو، تھائی لینڈ، چین اور ملائشیا کے بادشاہ تو ہندوستان کے بادشاہ کا نام سن کر ہی کانپنے لگتے ہیں۔

آپ کا علم جغرافیہ قابل تعریف ہے۔ تاریخ پر آپ کی نظر بہت ہی گہری ہے۔ کیا میرے استاذ کے لئے یہ ضروری نہیں تھا کہ وہ مجھے روئے زمین کی ہر قوم کی خصوصیات سے آگاہ کرتا؟ ہر قوم کے وسائل کیا ہیں؟ اس کی قوت کس چیز میں پوشیدہ ہے؟ اس کی جنگ کا طریقہ کیا ہے؟ اس کا مذہب اور اخلاق و آداب کیا ہیں؟ اس ملک میں کس طرز کی حکومت قائم ہے اور اس کے مفادات کہاں کہاں واقع ہیں؟ تاریخ کے مسلسل مطالعے کے ذریعے آپ کو مجھے اس بات سے آگاہ کرنا تھا کہ حکومتیں کس طرح بنتی ہیں، انہیں کس طرح عروج حاصل ہوتا ہے اور وہ کن عوامل کے باعث زوال پذیر ہوا کرتی ہیں۔ ایسے کون سے واقعات، حوادث اور غلطیاں ہوا کرتی ہیں جن کی بدولت بڑی تبدیلیاں اور عظیم انقلاب رونما ہوا کرتے ہیں؟

انسانیت کی تاریخ کا یہ تفصیلی علم تو بہت دور کی بات ہے، میں تو آپ سے اپنی اس سلطنت کے بانیوں اور اپنے آباؤاجداد کے نام تک نہیں سیکھ سکا۔ آپ نے مجھے ان کی زندگیوں سے مکمل طور پر لاعلم رکھا۔ ان پر کیا واقعات گزرے؟ اور ان کی وہ کیا غیر معمولی صلاحیتیں تھیں جن کی بدولت انہوں نے بے پناہ فتوحات حاصل کیں؟ یہ سب آپ نے مجھے نہیں بتایا۔

ایک بادشاہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے گرد و نواح میں بسنے والی اقوام کی زبانوں سے واقف ہو۔ آپ نے مجھے عربی پڑھنا اور لکھنا سکھائی۔ آپ نے میری زندگی کا بڑا حصہ ایسی زبان کی تعلیم میں صرف کر دیا جسے دس سے بارہ سال تک استعمال کئے بغیر کوئی شخص بھی اس میں مہارت کا دعوی نہیں کر سکتا۔۔۔۔

ایک شہزادے کی تعلیم میں کیا کیا مضامین پڑھائے جانے چاہییں۔ آپ نے اسے مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اسے ضروری قرار دیا کہ اس شہزادے کو صرف و نحو اور فقہ میں مہارت حاصل ہونی چاہیے۔ اس علم کی ضرورت ایک قاضی کو تو ہو سکتی تھی مگر آپ نے میری جوانی کا بہترین وقت الفاظ کو سیکھنے کے اسی خشک اور بے فائدہ میں ضائع کر دیا۔

آپ نے میرے والد، شاہ جہاں کو بتایا کہ آپ مجھے فلسفے کی تعلیم دے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کے علم کو میں کئی سال تک رٹتا رہا جس کے نتیجے میں بے کار اور احمقانہ مسائل میرے دماغ کو چھلنی کرتے رہے۔ ان مسائل کے حل سے کوئی ذہنی سکون حاصل نہ ہو سکتا تھا۔ ان مسائل کا کوئی تعلق عملی زندگی سے نہ تھا۔ ان مشکل اور فضول مسائل کو انتہائی محنت سے سمجھا جا سکتا تھا اور جیسے ہی یاد کر لیا جاتا، یہ ذہن سے فوراً محو ہو جاتے تھے۔ اس کا نتیجہ سوائے ذہنی مشقت اور عقل کی تباہی کے اور کچھ نہ تھا۔ اس کے نتیجے میں ایک شخص باغی اور ذہنی مریض ہی بن سکتا تھا۔ (ان کے فلسفے میں ہمارے فلسفے سے بھی زیادہ نامعقول اور احمقانہ تصورات موجود تھے، برنیئر)

جی ہاں، آپ نے میری زندگی کے قیمتی ترین سال اپنے پسندیدہ مسائل اور نظام میں کھپا دیے اور جب میں آپ سے فارغ التحصیل ہوا تو ان فضول اور نامعقول اصطلاحات کے ساتھ اہم علوم میں کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکتا تھا۔ یہ اصطلاحات تو ایک نوجوان کی مردانہ صلاحیتوں کو زنگ لگا دینے اور اس کے حوصلوں کو پست کر دینے کے لئے کافی تھیں۔ (ان کے فلسفی ہمارے فلسفیوں سے زیادہ الٹے سیدھے تصورات پیش کیا کرتے تھے، برنیئر)۔

فلسفے کی یہ اصطلاحات اس لئے ایجاد کی گئیں تاکہ فلسفے سے ناآشنا افراد پر جھوٹا رعب جمایا جا سکے۔ آپ کے جیسے حضرات یہ خیال دوسروں پر مسلط کرتے ہیں کہ صرف ہمیں ہی ایسی حکمت و دانش حاصل ہے۔ ان کا فلسفے کا یہ ذخیرہ تاریک اور غیر واضح ہے جو ان پراسرار علوم کو چھپائے ہوئے ہے جو صرف ان فلسفیوں ہی کو معلوم ہیں۔

ہماری عظمت اس میں نہیں ہے کہ ہم کبھی نہ گریں، بلکہ ہماری عظمت اس میں ہے کہ ہر مرتبہ گرنے کے بعد ہم اٹھ کھڑے ہوں۔ کنفیوشس

اگر آپ نے مجھے ایسے فلسفے کی تعلیم دی ہوتی جو کہ ذہن کو معقول انداز میں سوچنے کے قابل بناتا اور صرف مضبوط دلائل کی بنیاد پر ہی مطمئن ہو سکتا، اگر آپ نے مجھے ایسا سبق دیا ہوتا جو کہ روح کا تزکیہ کرتا اور اسے اتنا مضبوط بناتا کہ یہ تقدیر کے لکھے ہوئے کو باآسانی سہہ جائے، اگر آپ مجھے انسان کی فطرت سے ہی آگاہ کر دیتے، مجھے کائنات کی فطرت کے بنیادی اصولوں سے ہی روشناس کروا دیتے، آفاق کا حقیقی اور یقینی علم مجھے عطا کرتے اور یہ بتا دیتے کہ اس کائنات کے مختلف حصے کس طرح ایک ترتیب کے ساتھ حرکت میں ہیں، تو میں آپ اس سے زیادہ احسان مند ہوتا جیسا کہ اسکندر، ارسطو کا احسان مند تھا۔ میں آپ کو اس سے کہیں مختلف انعام دیتا جو ارسطو کو اسکندر سے ملا تھا۔

میری خوشامد کرنے والے استاذ صاحب! مجھے جواب دیجیے۔ کیا آپ کی یہ ذمہ داری بھی نہ تھی کہ کم از کم زندگی میں ایک ہی بار مجھے وہ علوم ہی سکھا دیے ہوئے جو کہ ایک بادشاہ کے لئے ضروری ہیں۔ آپ مجھے یہی بتا دیتے کہ مستقبل میں مجھے اپنی بقا اور تخت و تاج کے لئے اپنے ہی بھائیوں کے خلاف تلوار اٹھانا پڑے گی۔ یہ بات تو اتنی معروف ہے کہ ہندوستان کے ہر بادشاہ کے بیٹوں کا مقدر یہی بن چکا ہے۔

کیا آپ نے کبھی بھی مجھے جنگی علوم کی تعلیم دی؟ کسی شہر کا محاصرہ کیسے کرنا ہے؟ میدان جنگ میں افواج کو کس طرح ترتیب دینا ہے؟ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ ان معاملات میں میں نے آپ سے زیادہ عقل مند دماغوں سے مشورہ کر لیا۔ اب بہتر یہی ہے کہ آپ اپنے گاؤں تشریف لے جائیں تاکہ کسی شخص کو یہ معلوم نہ ہو سکے آپ کیا ہیں اور آپ کے علم کے نتائج کیا ہیں۔

(فرانکوس برنیئر، مغل سلطنت میں سفر سے اقتباسات، ترجمہ: محمد مبشر نذیر)

اپنے خیالات اور تجربات شیئر کرنے کے لئے ای میل بھیجیے۔ اگر آپ کو تعمیر شخصیت سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      مغل بادشاہ نے اپنے دور کے تعلیمی نظام میں موجود جن خامیوں کا ذکر کیا ہے، ان کی ایک فہرست تیار کیجیے۔

      ہمارے نصاب تعلیم میں کیا اصلاحات درکار ہیں؟

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے