بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

(جوان ہوتے) بچوں سے اپنا قلبی و ذہنی تعلق مضبوط کرنے کے لئے گھر میں قرآن و سنت کی ہفتہ وار مجلس رکھی جائے۔ ضروری نہیں کہ اس میں خشک اور یبوست زدہ ماحول ہی ہو۔ خوشگوار ماحول کے ساتھ علمی و ادبی گفتگو اور مسائل پر تبادلہ خیال ہو۔ بچوں کے آپس کے تنازعات پہ افہام و تفہیم ہو۔

عہد توڑنے والے کے لئے روز قیامت ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی عہد شکنی کا نشان ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم

بچوں کو دوسروں کی طرف سے صرف اپنی تعریف سننے کا عادی نہ بنایا جائے۔ وہ بچہ جو صرف اپنی تعریف سننا چاہتا ہو، تنقید، محاسبہ یا نصیحت سننا گوارا نہ کرتا ہو اور دوسروں کی اخلاقی برتری برداشت نہ کرتا ہو، وہ کبھی اپنے کردار کو خوب سے خوب تر نہیں بنا سکتا۔ عمر کے ساتھ ساتھ یہ عادت اپنے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی باعث تکلیف و آزار بن جاتی ہے۔ بچوں میں اس بات کا شعور ہونا چاہیے کہ غلطی کی سزا ملنا عدل ہے اور حوصلہ افزائی کے لئے اچھے کام پر انعام دینا بچوں کا حق ہے۔

والدین بچوں کی بہت سے عادات کو کھیل کود کی عمر کہہ کر نظر انداز کرتے رہتے ہیں، مگر بالغ ہو جانے پر ایک دم ان کو احساس ہوتا ہے کہ یہ تو غلط رخ پر جا رہے ہیں۔ پھر وہ راتوں رات ان کو ہر لحاظ سے معیاری درجے پر دیکھنا چاہتے ہیں، یہی ناسمجھی کی بات ہے۔ بچے کی پرورش، تعلیم و تربیت ہر سال، ہر دن اور ہر لحظہ کی ختم نہ ہونے والی منصبی ذمہ داری ہے۔ مغربی تہذیب میں بلوغت کی عمر کے بعد (اور اب پہلے بھی) بچوں کو توجہ کے قابل تو کیا، گھروں میں رکھنے کے قابل تک نہیں سمجھا جاتا۔ اس غلطی کا خمیازہ وہ تہذیب بھگت رہی ہے۔ اسلام نے اولاد اور والدین کا تعلق دنیا سے لے کر آخرت تک قائم رکھا ہے۔ وہ دونوں جہانوں میں ایک دوسرے کا قرب پا کر ہی تکمیل پائیں گے۔

خود مختاری، اظہار رائے کی آزادی، معاشی طور پر خود کفیل ہونا، سماجی طور پر اپنا مقام بنانا، اپنے شریک زندگی کے بارے میں اپنی رائے رکھنے جیسے انفرادی حقوق اسلام نے عطا کئے ہیں، مگر اجتماعیت کا جو تصور اسلام نے دیا ہے، اس میں حسن بھی ہے، تکمیل بھی اور اعتدال بھی۔ حقیقت میں کسی بھی کام اور چیز میں اعتدال ہی اس کا حقیقی حسن ہے۔ 14 سے 16 اور 18 سے 22 سال تک کی عمر نئی جہتیں سامنے لاتی ہے۔ اس عمر میں والدین کی اپنے بچوں کے ساتھ دل وابستگی سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

جس طرح زمین کے اندر بیج ہر قسم کے موسم اور مصائب و آلام سے گزر کر ایک پھل دار درخت بنتا ہے، اس درخت کو پہلے سے زیادہ حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے ثمرات کو سمیٹنا اور آئندہ کی منصوبہ بندی کرنا ہی عقل مندی کی نشانی ہے، اسی طرح جوان اولاد، والدین کے لئے پھل دار باغ ہے۔ اس کو ضائع کرنا، اس سے لاپرواہ ہونا، غیروں کے رحم و کرم پہ چھوڑ دینا، ساری محنت اکارت کر دینے کے مترادف ہے۔

نفسیاتی، ذہنی، جسمانی و صنفی تبدیلیاں بچوں کو ایک نئے موڑ پہ لا کھڑا کرتی ہیں۔ اس وقت والدین کی شفقت، اعتماد اور گھر کے ماحول میں بچوں کی اہمیت انہیں سکون مہیا کرتی ہے۔ اس دور کے ذہنی، جسمانی اور ارتقائی مراحل، قابل اعتماد رشتے کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ لڑکے کے لئے باپ کی بھرپور توجہ، رہنمائی اور محبت، بھٹکنے سے بچا لیتی ہے۔ صنف مخالف کی توجہ حاصل کرنا، اس عمر کا ایک فطری مسئلہ ہے۔

اسلام میں جسمانی و نظریاتی غلامی کے انسداد کی تاریخ۔ غلامی کا آغاز کیسے ہوا؟ دنیا کے قدیم معاشروں میں غلامی کیسے پائی جاتی تھی؟ اسلام نے غلامی سے متعلق کیا اصلاحات کیں اور ان کے کیا اثرات دنیا پر مرتب ہوئے؟ موجودہ دور میں غلامی کا خاتمہ کیسے ہوا۔ پڑھنے کے لئے کلک کیجیے۔

الل ٹپ پرورش پانے والے بچے غلط انداز فکر میں کھو کر اپنا بہت کچھ ضائع کر بیٹھتے ہیں۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے نوجوانوں کو انتہائی گھٹیا اور پست سوچ کا حامل بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی، بلکہ بچے اور بوڑھے بھی اسی پستی کا شکار نظر آتے ہیں۔ صنفی جذبات میں اکساہٹ پیدا کرنے والے عوامل پیش کرنا شیطانی کام ہے۔ وہ سب لوگ جو فواحش کو پھیلاتے ہیں، لعنت کے مستحق ہیں۔

معاشرے میں جس بے راہ روی کو فروغ دیا جا رہا ہے، وہ ہماری معاشرتی زندگی کا المیہ ہے۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو راہ راست پر لانے کے لئے خصوصی منصوبہ بندی اور فوری عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ بچوں کو اس کے متبادل چیزیں لا کر دینے میں دیر کرنا بہت بڑے نقصان کا باعث ہو سکتا ہے۔

عموماً محرم رشتے دار، جوان اولاد کے بہت سے مسائل حل کرنے کے لئے باہم اعتماد کی فضا قائم نہیں کر پاتے۔ بے وجہ کی جھجک بڑی گہری دوریاں پیدا کرتی ہے جس سے شخصیت میں ایک خلا رہ جاتا ہے۔ محصنات اور محصن شخصیت پورے خاندان کی بھرپور توجہ، محبت، شفقت، نگہبانی و اعتماد کے نتیجے میں سامنے آتی ہے۔ یہی "خاندانی" لوگ اخلاقی اقدار کی ایک محفوظ پناہ گاہ میں تعلیم و تربیت حاصل کرنے والے ہوتے ہیں۔ اگر وہ مددگار و معاون اور مخلص رشتے بے جا گریز کی بند کوٹھڑیوں میں دبکے اور گونگے بنے رہیں تو پھر نوجوان بچوں کی زندگی میں ایک خوفناک خلا پیدا ہوتا ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لئے ناقابل اعتماد اور اپنے جیسے کچے ذہنوں کی مشاورت انہیں بڑی غلط راہوں پہ لے جاتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس عمر میں بچوں کو گھر کے ماحول سے سکون و طمانیت ملے۔ ننھیال، ددھیال میں ان کی شخصیت کو مانا اور تسلیم کیا جائے۔ لڑکے کو گھر کی خواتین والدہ، بہنیں، خالائیں، پھپھیاں غرض محرم خواتین شفقت و محبت دیں۔ والد اسے اپنا دست و بازو گردانے تو اس کی ایک پراعتماد شخصیت سامنے آتی ہے۔ اسی طرح لڑکی کو گھر کے مرد، والد، بھائی، ماموں، چچا اپنے دست شفقت سے نوازیں اور والدہ اور دیگر رشتہ دار خواتین اس کی شخصیت کو تسلیم کریں تو شائستہ اطور اور زیادہ نکھر کر سامنے آئیں گے۔

(مصنفہ: بشری تسنیم، بشکریہ www.quranurdu.com )

اس ضمن میں چند تجاویز پیش خدمت ہیں جو انتہائی اہمیت کی حامل ہیں:

      والدین اور دیگر رشتے داروں کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ہمیشہ شرمندگی سے بچائیں۔ بعض والدین بچوں کی نافرمانیوں سے تنگ آ کر انہیں ہر مہمان کے سامنے رسوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا کہ بچے اور والدین میں فاصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ بچوں کو تنہائی میں مناسب تنبیہ کیجیے اور ان کی اصلاح کی کوشش جاری رکھیے۔

      والدین اور دیگر رشتہ داروں کا تعلق بچے سے اعتماد کا ہونا چاہیے۔ اگر بچہ کبھی کوئی غلطی کر بیٹھے تو وہ محض بڑوں کی مار یا ڈانٹ سے بچنے کے لئے اسے چھپانے کی کوشش نہ کرے۔ اگر بچہ خود اپنی غلطی کا اعتراف کر رہا ہو تو والدین کو چاہیے کہ وہ اسے کھلے ظرف کے ساتھ معاف کر دیں۔ اس سے باہمی اعتماد میں اضافہ ہو گا۔

      والدین اور دیگر بزرگوں کو چاہیے کہ وہ سیکس سے متعلق موضوعات پر جوان ہوتے بچوں سے گفتگو کرتے ہوئے کبھی نہ ہچکچائیں بلکہ ان کے ہر سوال کا معقول اور تسلی بخش جواب دیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو وہ بچہ دوستوں یا انٹرنیٹ سے غلط سلط معلومات لے کر گمراہ ہو جائے گا۔

      بہت سے والدین اور اساتذہ زیادہ سوالات اٹھانے والے بچوں کو پسند نہیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے ذہن پر جواب دینے کی مشقت لادنا نہیں چاہ رہے ہوتے۔ یاد رکھیے کہ زیادہ سوال وہی بچہ کرتا ہے جو ذہین ہوتا ہے۔ زیادہ سوالات اٹھانے پر بچوں کی حوصلہ افزائی ان کی تخلیقی قوتوں کو جلا بخشتی ہے۔

(محمد مبشر نذیر)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      اگر ایک بیٹے یا بیٹی کو باقی پر ترجیح دی جائے تو اسی بیٹے یا بیٹی کی شخصیت پر کیا منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

      اولاد میں انصاف نہ کرنے کے دنیاوی و اخروی نتائج بیان کیجیے۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے