بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

عظمت والدین کا قرآنی تصور

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

(دین میں) عقیدے کے بعد سب سے بڑا (اور اہم) خاندانی تعلق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رب العزت نے اپنی عبادت کے ساتھ والدین سے حسن سلوک کا حکم دیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک اللہ پاک کے نزدیک بہت بڑا درجہ رکھتا ہے۔

وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَاناً إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاهُمَا فَلا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلاً كَرِيماً۔ وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنْ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيراً۔ (بنی اسرائیل 17:23-24)

اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اگر بڑھاپے کو پہنچ جائیں تیری زندگی میں ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں، تو انہیں اف تک مت کہو۔ اور انہیں مت جھڑکو اور جب ان سے بات کرو، تو بڑی تعظیم سے بات کرو، اور جھکا دو ان کے لئے توضع اور انکساری کے پر رحمت (محبت) سے اور عرض کرو، 'اے میرے پروردگار! ان دونوں پر رحم فرما جس طرح انہوں نے بڑی محبت و پیار سے مجھے پالا تھا جب میں بچہ تھا۔

مجرد خیالات کو حقیقی اشیاء میں تبدیل کرنا ہی کامیابی کا راز ہے۔ ہنری وارڈ

اس شگفتہ عبارت اور حیات بخش صورت کے ساتھ قرآن ہمارے دلوں میں محبت و رحمت کے جذبات کو مستحسن قرار دیتا ہے کیونکہ زندوں کے ساتھ اسی بنا پر زندگی اپنے راستے پر گامزن ہے۔ اور زندگی اسی قوی اہتمام کو نئی نسل، اولاد اور نئی پود تک بڑھا رہی ہے۔

فطرتی طور پر والدین اپنی ذات بلکہ ہر چیز کی قربانی دے کر اپنی اولاد کی پرورش کرتے ہیں۔ اس کی مثال کو یوں سمجھیے کہ جس طرح تر و تازہ شاخ اپنی ساری غذا دانے سے حاصل کرتی ہے۔ جس کی بنا پر دانہ ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔ اور چوزہ اپنی ساری خوراک انڈے سے حاصل کرتا ہے جس کی بنا پر انڈا چھلکا رہ جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح اولاد ہر قسم کی محبت و الفت، سعی و کوشش والدین سے حاصل کرتی ہے جس کی بنا پر والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ اور اگر موت کچھ مہلت دے تو اس بڑھاپے کے ہوتے ہوئے بھی خوش دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے برعکس اولاد تمام نوازشات کو بہت جلد بھول جاتی ہے۔ اور اپنے گھروں کی تعمیر، بیویوں اور اولاد کے معاملات میں مشغول رہتی ہے اور اسی مشغولیت میں زندگی پوری ہو جاتی ہے۔

اس مذکورہ آیت پاک میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا اور عبادت کے بعد سب سے زیادہ تاکید والا حکم یہی ہے۔ مزید ساتھ ساتھ لطیف ترین سایہ ماحول پر ڈالا جا رہا ہے اور بچپن کی یادوں کو محبت و احساسات کے ساتھ ابھارا جا رہا ہے۔ فلا تقل لھما اف و لا تنھرھما (یعنی انہیں اف تک نہ کو اور نہ ہی انہیں جھڑکو۔) یہ رحمت و ادب کا اعلی ترین مرتبہ ہے کہ اولاد کے منہ سے ایسی کوئی بات نہ نکلے جو والدین کی تنگی اور اکتاہٹ پر دلالت کرے۔ اور جس سے اہانت اور سوء ادب کا پہلو نکلتا ہو۔

دنیا کے سات جدید عجائب میں پیٹرا کا شمار بھی ہوتا ہے۔ پیٹرا قدیم دور کی اس واحد سلطنت کا دارالحکومت تھا جو کہ فوج کی بجائے تجارت کی بنیاد پر قائم تھی۔ دنیا کے قدیم اور خوبصورت ترین آرکیٹیکچر پر مشتمل اس مقام کا سفرنامہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجیے۔

قل لھما قولا کریما (یعنی جب ان سے بات کرو تو بڑی تعظیم سے بات کرو۔) یہ مثبت فکر کا اعلی ترین درجہ ہے کہ والدین کے ساتھ گفتگو بھی تعظیم و احترام کے ساتھ کی جائے۔ واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ (اور جھکا دو ان کے لئے توضع اور انکساری کے پر رحمت سے) یہاں تعبیر شفاف، لطیف اور بلیغ ہے جو دل کی اتھاہ گہرائیوں تک پہنچ رہی ہے۔ یہ ایسی رحمت ہے جو رقیق بھی ہے اور لطیف بھی اور یہ ایسی رحمت ہے جس کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی حکم کی خلاف ورزی کر سکتا ہے۔

قل رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا (اور عرض کرو، 'اے میرے پروردگار! ان دونوں پر رحم فرما جس طرح انہوں نے بڑی محبت و پیار سے مجھے پالا تھا جب میں بچہ تھا) یہ محبت بھری یاد ہے اور بچپن کی اس کمزوری کا تصور ہے جس کمزوری میں والدین نے پرورش کی۔ اور اب والدین بھی بالکل اسی طرح کمزور اور ضعیف ہیں جس طرح ان کی اولاد تھی اور بالکل اسی طرح جس طرح اولاد کو بچپن میں والدین کی توجہ کی ضرورت تھی بعینہ اسی طرح اب والدین کو بچوں کی طرف سے توجہ کی ضرورت ہے۔ اور اب بچوں کی طرف سے رب کریم کے حضور عرض ہے، کہ اے رب کریم، ان پر اسی طرح رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں ہم پر رحم فرمایا تھا۔۔۔۔۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ آدمی کا اپنے والدین کو گالی دینا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی۔ آدمی اپنے والدین کو کیسے گالیاں دے سکتا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کے باپ کو گالیاں دیتا ہے پس وہ جواباً اس کے ماں باپ کو گالیاں دیتا ہے۔۔۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ والدین کے حوالے سے بیٹے کے دس فرائض ہیں:

      والدین اگر کھانے کے محتاج ہوں تو انہیں کھانا کھلائے۔

      اگر وہ کپڑے کے محتاج ہوں تو حسب استطاعت کپڑا پہنانا۔

      جب وہ خدمت کے محتاج ہوں تو ان کی خدمت کی جائے۔

      جب وہ بلائیں تو فوراً جواب دیا جائے اور ان کی خدمت میں حاضر ہوا جائے۔

      جب وہ حکم دیں تو فوراً اطاعت کی جائے۔ ہاں اگر برائی کا حکم دیں تو ان کی اطاعت ضروری نہیں۔

      جب ان کے ساتھ گفتگو کی جائے تو ہمیشہ نرم اور شیریں لہجے میں بات کی جائے۔

      جب اپنے لئے دعا کی جائے تو والدین کا بھی خیال رکھا جائے اور ان کے لئے بھی دعا کی جائے۔

(مصنف: محمد کرم شاہ الازہری، بشکریہ www.zia-ul-ummat.com )

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      والدین کے حقوق دین نے ہمارے ذمہ عائد کیوں کیے ہیں؟

      والدین کے اولاد پر تین احسانات بیان کیجیے۔

اپنے جوابات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے