بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلاَّ اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَاناً وَذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْناً وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلاَّ قَلِيلاً مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مُعْرِضُونَ۔ (البقرۃ 2: 83)

یاد کرو، ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا، والدین، رشتے داروں، یتیموں اور مسکینوں سے اچھا سلوک کرنا، لوگوں سے بھلی بات کہنا، نماز قائم کرنا اور زکوۃ دینا۔ پھر تھوڑے سے افراد کے سوا تم اس عہد سے پھر گئے اور تم خود اس بات کے گواہ ہو۔

رات کو عبادت بھی کرو، اور نیند بھی لو۔ نفلی روزے بھی رکھو اور بغیر روزوں کے بھی رہو کیونکہ تم پر تمہارے جسم کا، آنکھوں کا، ملاقات کے لئے آنے والوں کا اور تمہاری بیوی کا حق ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم

بنی اسرائیل سے لیا جانے والا یہ عہد یہاں مختصراً بیان ہوا ہے۔ تورات میں اس کی تفاصیل احکام عشرہ (Ten Commandments) کے ساتھ اب بھی موجود ہیں۔

1.    میرے حضور تم غیر معبودوں کو نہ ماننا۔

2.    تم کسی بھی چیز کی صورت کا خواہ وہ اوپر آسمانوں میں یا نیچے زمین پر یا پانیوں میں ہو، بت نہ بنانا۔

3.    تم خداوند اپنے خدا کا نام بری نیت سے نہ لینا کیونکہ جو اس کا نام بری نیت سے لے گا، خدا اسے بے گناہ نہ ٹھہرائے گا۔

4.    سبت (ہفتے) کے دن کو یاد سے پاک رکھنا۔ چھ دن تم محنت سے کام کرنا لیکن ساتواں دن خداوند تمہارے خدا کا سبت ہے۔ اس دن نہ تو تم کوئی کام کرنا اور نہ ہی تمہارا بیٹا یا بیٹی، نوکر یا نوکرانی، تمہارے چوپائے اور تمہارے پاس مقیم مسافر کوئی کام کریں۔

5.    اپنے باپ اور ماں کی عزت کرنا تاکہ تمہاری عمر اس ملک میں جو خداوند تمہارا خدا تمہیں دیتا ہے، دراز ہو۔

6.    تم (کسی کا) خون نہ کرنا۔

7.    تم زنا نہ کرنا۔

8.    تم چوری نہ کرنا۔

9.    تم اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹی گواہی نہ دینا۔

10.                                                                                                                                                                                                                                                                                                      تم اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا۔ تم اپنے پڑوسی کی بیوی (کے حصول) کا لالچ نہ کرنا اور نہ ہی اس کے غلام یا کنیز کا، نہ اس کے بیل یا گدھے کا اور نہ ہی کسی اور چیز کا۔ (کتاب خروج 20:3-17)

اسلام میں جسمانی و نظریاتی غلامی کے انسداد کی تاریخ۔ غلامی کا آغاز کیسے ہوا؟ دنیا کے قدیم معاشروں میں غلامی کیسے پائی جاتی تھی؟ اسلام نے غلامی سے متعلق کیا اصلاحات کیں اور ان کے کیا اثرات دنیا پر مرتب ہوئے؟ موجودہ دور میں غلامی کا خاتمہ کیسے ہوا۔ پڑھنے کے لئے کلک کیجیے۔

نماز اور زکوۃ کا حکم تورات میں اور مقامات پر آیا ہے۔ بائبل میں موجود اسرائیلی تاریخ گواہ ہے کہ سوائے نیک لوگوں کے ایک گروہ کے ان کی اکثریت نے اس عہد کی نافرمانی کی۔ یہی عہد اللہ تعالی نے ہم سے لیا ہے۔ یہ اخلاقیات کے وہ بنیادی اصول ہیں جو پوری نسل انسانیت کا سرمایہ ہیں۔ ہمارے ہاں بھی ان احکامات کی نافرمانی کرنے والوں کی تعداد کم نہیں۔

اللہ کو ماننا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا حقوق اللہ کی بنیادی اخلاقیات میں سے ہے۔ اسی اللہ کی عبادت کے لئے نماز قائم کرنا بھی اخلاقیات ہی کا تقاضا ہے کیونکہ جو رب ہم پر اتنے احسان فرماتا ہے، ہمیں بھی اس کی بندگی کرنی چاہیے۔ اس کے بعد حقوق العباد کی تفصیلات ہیں جن میں والدین اور دیگر انسانوں کے حقوق ادا کرنے اور ان کے ساتھ احسان سے پیش آنے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ بات کسی تفصیل کی محتاج نہیں کہ انہی احکامات پر عمل کرنے کے نتیجے میں ایسا معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے جہاں انسان سکون سے رہ سکیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے دین میں انسانیت کتنی اہم قدر ہے کہ بنیادی عہد میں اس کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں ان احکامات کو جاری و ساری کریں اور انہیں اپنی شخصیت کا حصہ بنائیں۔

(مصنف: محمد مبشر نذیر)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      بنی اسرائیل کو جو دس احکام دیے گئے، ان کا قرآن کی شریعت سے تقابل کیجیے۔

      ان احکام میں سے ہر ایک کی معاشرتی حیثیت کو بیان کیجیے۔

اپنے جوابات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ |