بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

یہی بہتر ہے۔۔۔

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

مئی کے مہینے کے تیسرے ہفتے میں ڈاکوؤں کو زندہ جلانے کے کئی واقعات شہر کراچی میں پیش آئے۔ دو واقعات میں ڈاکو ہلاک ہوئے اور تیسرے میں پولیس کی آمد کی بنا پر ڈاکو کی جان بچ گئی۔ اس کے علاوہ بعض دیگر واقعات میں مشتعل لوگوں نے شہریوں کو لوٹنے والے ڈاکوؤں کو گولی مار کر ہلاک اور زخمی کردیا۔

(بددیانت مذہبی راہنما) خدا کےگھر کو چوروں کی غار بنا دیتے ہیں۔ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام

ان واقعات کو دیکھنے کے ایک سے زیادہ زاویے ہیں۔

      ایک یہ کہ اخلاقی اور قانونی طور پر ایسا کرنا درست نہ تھا۔

      دوسرا یہ کہ یہ پولیس اور عدالت کے نظام پر لوگوں کے عدم اعتماد کا مظہر ہے۔

      تیسرا یہ کہ یہ واقعات امن و امان کی اُس بگڑتی ہوئی صورتحال کی عکاسی ہیں جس میں کوئی شخص محفوظ نہیں اور پریشان حال لوگوں نے تنگ آ کر اپنا انتقام خود لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

      چوتھا یہ کہ سیاسی عدم استحکام، مہنگائی، بدامنی اور عدم تحفظ کے شکار عام شہری اب مایوسی کی آخری سطح پر پہنچ رہے ہیں جس کا اظہار اس طرح کے واقعات ہیں۔

      پانچواں زاویہ یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات اسلامی شریعت میں مقرر کردہ اِن سزاؤں کی تائید کا کھلا اعلان ہیں، جو بظاہر بہت سخت لگتی ہیں اور انھیں ایک طبقہ وحشیانہ سزائیں سمجھتا ہے، مگر مجرموں کے خلاف عام لوگوں میں جو غصہ پایا جاتا ہے، وہ ہاتھ کاٹنے اور سنگسار کرنے جیسی سزاؤں کے سوا کم نہیں ہوتا۔ شرط یہ ہے کہ یہ کام عوامی عدالت کے بجائے قانونی عدالت کرے۔

ان واقعات کو دیکھنے کے یہ تمام زاویے اپنی جگہ اہم ہیں اور ان پر تفصیلی بات ہوسکتی ہے، مگر ہمارے نزدیک ایک اور زاویہ ایسا ہے جو ہمارے معروضی حالات میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ وہ یہ کہ اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ پاکستانی معاشرہ ایک آتش فشاں کے دہانے پر رکھا ہوا ہے۔ کسی روز یہ آتش فشاں پھٹے گا اور پھر ہر طرف آگ، خاک اور خون کی بارش شروع ہوجائے گی۔

دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار۔ یہ تحریر دعوت دین کی اہمیت، دین کا کام کرنے والوں کی شخصیت، دعوت دین کی منصوبہ بندی اور دعوتی پیغام کی تیاری کے عملی طریق ہائے کار کی وضاحت کرتی ہے۔ ان افراد کے لئے مفید جو کہ دعوت دین میں دلچسپی رکھتے ہوں۔

ہماری اس بات کا پس منظر یہ ہے کہ اس خطے کے مسلمان تقریباً تین صدیوں سے مسلسل اضطراب، بدامنی، شورش اور بے چینی کا شکار ہیں۔ اورنگزیب کے آخری دور سے شروع ہونے والی مستقل بدامنی، 1857 کی جنگ آزادی اور اس کے بعد کی تباہی، انگریزوں کی غلامی، آزادی کی جدوجہد، آزادی کے وقت ہونے والی قتل و غارت گری، قیام پاکستان کے بعد سے جاری مستقل سیاسی عدم استحکام اور ڈکٹیٹر شپ، مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بے اندازہ جانوں کا زیاں، روسی قبضے کے بعد افغانستان میں مستقل جنگ و جدل اور اس کے اثرات، 9/11 کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اثرات، یہ تین صدیوں کی داستان کا وہ مختصر بیان ہے جس میں امن، چین اور سکون کے وقفے شاذ ہی نظر آتے ہیں۔

اس تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ عوام کی قوت برداشت اب ختم ہوچکی ہے۔ انسانوں کو جلانا، چاہے وہ ڈاکو ہی کیوں نہ ہوں، کوئی معمولی بات نہیں۔ باشعور لوگ جو بھی کہیں، عوام کی اکثریت نے اس فعل کی تائید کی ہے۔ حتیٰ کہ ملک کے سب سے بڑے اخبار میں جو تصویر شائع ہوئی ہے اس میں جلنے والوں کو دکھایا گیا ہے، جلانے والوں کو نہیں۔ جس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ میڈیا کی ہمدردیاں بھی، شعوری یا لاشعوری طور پر، جلانے والوں کے ساتھ ہیں۔

معاملات جب یہاں پہنچ جائیں تو اس کے بعد دو ہی شکلیں ظاہر ہوتی ہیں۔ کوئی مخلص اور ہوش مند قیادت لوگوں کے جذبات کو سمجھے اور انھیں درست رخ پر موڑ دے۔ جس کے بعد ایک تعمیری انقلاب آتا ہے۔ اقتدار عوام کے مخلص نمائندوں کے پاس آجاتا ہے۔ لوگ خوشحال ہوتے جاتے ہیں۔ امن امان اور ترقی کا دورشروع ہوجاتا ہے۔ لیکن قیادت اگر کوتاہ نظر، انا پرست اور مفاد پسند ہوتو پھر بھی انقلاب آتا ہے۔ مگر یہ انقلاب بہت خوفناک ہوتا ہے۔ اس میں گناہ گار اور بے گناہ سب برباد ہوجاتے ہیں۔ ڈاکوؤں کے ساتھ پولیس والوں کو بھی زندہ جلادیا جاتا ہے۔ عوامی غیض و غضب سے نہ کسی کی بندوق اسے بچاسکتی ہے نہ اس کے محلات اور دولت۔

اللہ نہ کرے کہ معاملات اس رخ پر جائیں۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہماری سیاسی قیادت عوام کے جذبات کا رخ پہچان لے۔ یہ ان کے لیے بھی بہتر ہے اور قوم کے لیے بھی۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اس تحریر سے متعلق آپ کے تجربات دوسروں کی زندگی سنوار سکتے ہیں۔ اپنے تجربات شیئر کرنے کے لئے ای میل بھیجیے۔ اگر آپ کو تعمیر شخصیت سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      ہمارے ہاں انتہا پسندانہ رویے تشکیل پانے کے اسباب کیا ہیں؟

      لاقانونیت پھیلانے کے اس عمل میں عوام اور حکومت کا حصہ کتنا کتنا ہے؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter