بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

جہاد دین اسلام کے اہم ترین احکام میں سے ایک ہے۔ جہاد کا معنی ہے کہ جدوجہد۔ انسان اللہ کی راہ میں جدوجہد کرتا رہتا ہے۔ یہ جدوجہد خدا سے تعلق کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اس جہاد کی انتہائی صورت وہ ہوتی ہے جس میں اللہ کا بندہ اس کی رضا کے لئے میدان جنگ میں اتر آتا ہے۔ اسے عربی میں "قتال فی سبیل اللہ" کہا جاتا ہے۔

محبت کرنے والا دل ہی حقیقی دانش مندی ہے۔ چارلس ڈکنز

موجودہ دور میں لفظ جہاد کو بدنام کر دیا گیا ہے۔ پراپیگنڈا کر کے جہاد اور دہشت گردی کو ہم نام قرار دے دیا گیا ہے۔ لوگ جہاد کے نام پر معصوم لوگوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی تعلیمات کے بالکل برعکس خواتین اور بچوں کو حملے کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ بتایا جائے کہ موجودہ دور میں صحیح اسلامی جہاد کیسے کیا جائے؟

موجودہ دور میں بھی جہاد کی وہی دو صورتیں ہیں جو کہ ہر دور میں رہی ہیں: ایک پرامن جہاد اور دوسرا مسلح جہاد۔ ان کی عملی صورتوں کو ہم یہاں بیان کریں گے۔

پرامن جہاد

پرامن جہاد کا آغاز انسان کی اپنی ذات سے ہونا چاہیے۔ اپنی ذات کو اخلاقی عیوب سے پاک رکھنا اور اس میں نیکی کے اوصاف پیدا کرنا اعلی ترین جہاد ہے۔ اپنی ذات کے ساتھ ساتھ دین کی ان اخلاقی حدود و قیود سے اپنی اولاد، خاندان، دوستوں، معاشرے اور حکومت کو آگاہ کرتے رہنے کا نام جہاد ہے۔ یہ وہ جہاد ہے جو ہر مسلمان ہر وقت جاری رکھ سکتا ہے۔

مسلح جہاد

دنیا میں ایسی بہت سی صورتیں پیش آ جاتی ہیں جب قومیں اور گروہ سرکشی پر اتر آتے ہیں اور وہ دوسروں کے لئے خطرہ بن کر ان پر ظلم و تعدی کا طوفان کھڑا کر دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں ان سے جنگ ناگزیر ہوا کرتی ہے۔

دین اسلام نے واضح کر دیا ہے کہ ظلم، سرکشی، دہشت گردی، اور جبر کے خاتمے کے لئے مسلح جدوجہد کی جا سکتی ہے لیکن یہ جدوجہد صرف اور صرف حکومت ہی کا حق ہے۔ اسلام افراد اور گروہوں کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ جہاد کے مقدس نام پر پرائیویٹ افواج تیار کریں اور اس کے بعد عوام الناس کو دہشت گردی کا نشانہ بنائیں۔ اس بات پر چودہ صدیوں کے مسلم اہل علم کا اتفاق اور اجماع ہے۔ اس حقیقت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان الفاظ میں واضح فرمایا ہے۔

أخبرنا عمران بن بكار قال حدثنا علي بن عياش قال حدثنا شعيب قال حدثني أبو الزناد مما حدثه عبد الرحمن الأعرج مما ذكر أنه سمع أبا هريرة يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إنما الإمام جنة يقاتل من ورائه ويتقي به فإن أمر بتقوى الله وعدل فإن له بذلك أجرا وإن أمر بغيره فإن عليه وزرا۔ (نسائی، ابو داؤد ، کتاب الامارۃ)

سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "حکمران ڈھال کی طرح ہوتا ہے، اس کے پیچھے رہ کر جنگ کی جاتی ہے اور اس کے ذریعے بچاؤ کیا جاتا ہے۔ اگر وہ اللہ سے ڈرنے اور عدل کرنے کا حکم دے تو یہ باعث اجر ہے۔ اگر وہ اس کے علاوہ کچھ اور حکم دے تو اس کا بوجھ خود اسی پر ہوگا۔

اسلام میں جسمانی و نظریاتی غلامی کے انسداد کی تاریخ۔ کیا اسلام نے غلامی کے خاتمے کے لئے کچھ اقدامات کیے یا اسلام غلامی کی حمایت کرتا ہے؟ موجودہ دور میں غلامی کی تحریک مغربی دنیا سے شروع کیوں ہوئی؟ مسلم دنیا میں غلامی کا خاتمہ کیسے اور کیوں ہوا؟ مسلم اور مغربی دنیاؤں میں موجود غلامی میں کیا فرق تھا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دنیا میں غلامی کے خاتمے سے متعلق کیا کردار ادا کیا؟ پڑھنے کے لئے کلک کیجیے۔

افراد اور گروہوں کو جہاد کی اجازت نہ دینے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اگر انہیں ایسا کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکل سکتا کہ مختلف گروہ جنگ میں حصہ لیں گے اور جب ان کا مشترک دشمن ختم ہوگا تو اس کے بعد یہ گروہ آپس میں ٹکرا جائیں۔ پرائیویٹ آرمیز کی موجودگی میں کبھی کسی معاشرے میں امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔

اگر ہم مسلمانوں کے پچھلے پچاس برس کی تاریخ کا ہی جائزہ لیں تو یہ حقیقت ہمارے سامنے آ جائے گی کہ پرائیویٹ افواج کا یہی نتیجہ رہا ہے۔ افغانستان، فلسطین، کشمیر اور اب عراق کی مثال ساری دنیا کے سامنے ہے۔ اس کے برعکس کسی علاقے کی حکومت صرف اور صرف ایک ہی ہوتی ہے اور جب وہ جنگ کا فیصلہ کر لے تو شروع سے لے کر آخر تک اس ایک حکومت کی صرف ایک ہی فوج میدان جنگ میں اترتی ہے جس کے باعث کسی انارکی کا اندیشہ نہیں ہوتا۔

جو لوگ قتال فی سبیل اللہ میں عملاً حصہ لینا چاہتے ہوں، ان کے لئے اسلام کے نقطہ نظر سے جہاد کی عملی صورت یہی ہے کہ اگر وہ اپنی حکومتوں کے اخلاق اور کردار سے مطمئن ہوں تو حکومت کی فوج، پولیس یا کسی اور سکیورٹی فورس میں شامل ہو جائیں۔ اس کے بعد وہ ڈاکوؤں، چوروں، اسمگلروں، منشیات فروشوں اور دہشت گردوں کے خلاف جہاد کریں۔ عام لوگ ٹیکسوں کی صورت میں اس جہاد میں شریک ہوتے ہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عام لوگ ان مجاہدین کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کر سکتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت کسی فوجی کو کوئی ایسا حکم دے جو کہ صریحاً ظلم ہو، تو اس حکم کو نہ مانتے ہوئے اپنا کورٹ مارشل کروا لینا ایک خدا پرست مجاہد کے نزدیک افضل ترین جہاد ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کورٹ مارشل کے بدلے جنت کا سودا کچھ مہنگا نہیں ہے۔ ایسی صورت میں بھی مسلح بغاوت کرنا جائز نہیں ہے بلکہ پرامن اور مظلومانہ جدوجہد جاری رکھنا چاہیے تاکہ حکومت کو ظلم سے باز رکھا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، "سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے۔"

بعض لوگ خلط مبحث سے کام لیتے ہوئے لفظ "امام" یا "امیر" یا "اولو الامر" کو اپنی تنظیم یا جماعت کے لیڈر کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ عہد صحابہ و تابعین میں ان الفاظ کو صرف حکمران کے لئے ہی استعمال کیا جاتا تھا۔ لفظ "جماعت" کا معنی ان کے نزدیک حکومت ہی ہوا کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ خلافت راشدہ کے آخری دور میں مسلمانوں کے ہاں جو دو فرقے پیدا ہوئے، ان میں سے چھوٹے فرقے کا نام اھل التشیع (یعنی گروہ کے پیروکار) اور بڑے فرقے کا نام اھل السنۃ و الجماعۃ (یعنی سنت اور حکومت کے پیروکار) رکھا گیا۔

جب سیدنا حسن و معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین صلح کے نتیجے میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا اور مضبوط حکومت قائم ہوئی تو اس کا نام "عام الجماعۃ" یعنی جماعت کا سال رکھا گیا۔ ہم یہاں صحیح مسلم کی صرف دو حدیث دوبارہ پیش کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک حدیث میں لفظ "جماعت" اور دوسری میں لفظ "سلطان" آیا ہے جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جماعت کا معنی حکومت ہی ہوتا ہے۔

حدثنا حسن بن الربيع. حدثنا حماد بن زيد عن الجعد، أبي عثمان، عن أبي رجاء، عن ابن عباس، يرويه. قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم (من رأى من أميره شيئا يكرهه، فليصبر. فإنه من فارق الجماعة شبرا، فمات، فميتة جاهلية). (مسلم، كتاب الامارة، حديث 4790)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "جسے اپنے امیر کی کوئی بات ناگوار گزرے، وہ اس پر صبر کرے (یعنی بغاوت نہ کرے۔) جو شخص بھی جماعت سے بالشت بھر بھی نکلے گا، وہ جاھلیت کی موت مرے گا۔"

وحدثنا شيبان بن فروخ. حدثنا عبدالوارث. حدثنا الجعد. حدثنا أبو رجاء العطاردي عن ابن عباس، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال (من كره من أميره شيئا فليصبر عليه. فإنه ليس أحد من الناس خرج من السلطان شبرا، فمات عليه، إلا مات ميتة جاهلية). (مسلم، كتاب الامارة، حديث 4791)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "جسے اپنے امیر کی کوئی بات ناگوار گزرے، وہ اس پر صبر کرے (یعنی بغاوت نہ کرے۔) جو شخص بھی حکمران کی اطاعت سے بالشت بھر بھی نکلے گا، وہ جاھلیت کی موت مرے گا۔"

کیا ظالم کا ہاتھ نہ پکڑا جائے؟

بعض افراد کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت ظلم کرے تو کیا اس کا ہاتھ نہیں پکڑا جائے گا؟ اس کا جواب ہے کہ حکومت کا ہاتھ ضرور پکڑا جائے گا لیکن ایسا مسلح بغاوت کی صورت میں نہیں بلکہ مظلومانہ جہاد کی صورت میں کیا جائے گا۔ ان احادیث سے یہ واضح ہے کہ حکمرانوں کے ظلم کے خلاف مسلمانوں کو مظلومانہ جہاد کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ تمام انبیاء کرام کی یہی سنت ہے۔ سیدنا نوح، ہود، صالح، ابراہیم، شعیب، لوط اور عیسی علیہم الصلوۃ والسلام کا یہی طریقہ رہا ہے۔ حکومت ملنے سے پہلے سیدنا موسی اور محمد علیہما الصلوۃ والسلام نے بھی اسی طریقے سے جہاد کیا ہے۔

ہمارے ہاں دین سے انحراف کے باعث انبیاء کرام کی اس سنت کو معاذ اللہ دوسرے درجے کی چیز سمجھ لیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 'بغاوت' کے لفظ سے لوگوں کی انا کی جو تسکین ہوتی ہے وہ 'مظلومانہ جہاد' کے الفاظ سے نہیں ہوتی۔

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ 'مظلومانہ جہاد' کے نتائج نہیں نکلتے۔ یہ ایک بالکل ہی غلط نظریہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا کرنے والوں کے لئے اللہ تعالی کے خصوصی لشکر حرکت میں آ جاتے ہیں اور کچھ ہی عرصے میں حالات ایسے پیدا ہو جاتے ہیں جن کے نتیجے میں ظلم کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ تاریخ عالم کا جائزہ لیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ جہاں مظلومانہ جدوجہد کی گئی، اس کے نتائج مثبت ہی نکلے۔ سیدنا نوح، ہود، صالح، ابراہیم، موسی و عیسی علیہم الصلوۃ والسلام کے مقابلے میں آنے والے سرکش تباہ و برباد ہوئے۔ مسلم تاریخ میں احمد بن حنبل کو کوڑوں سے پیٹنے والا اپنے انجام سے دوچار ہوا۔

مظلومانہ جہاد کا یہ طریق کار تاریخ کا افسانہ نہیں ہے بلکہ موجودہ دور میں برصغیر اور جنوبی افریقہ میں مظلومانہ جدوجہد کے ذریعے ظلم کے خاتمے کی مثال قائم کی جا چکی ہے۔ برصغیر ہی کو لیجیے۔ قبضہ کر کے یہاں کے باشندوں کا استحصال کرنے والی سپر پاورز کو اللہ تعالی نے آپس میں اس طرح لڑا دیا کہ یہ دنیا پر حکومت کرنے کے قابل ہی نہ رہیں۔ جنوبی افریقہ کے نسل پرستوں کے خلاف اللہ تعالی نے دنیا بھر میں اتنا دباؤ پیدا کر دیا کہ وہ خود ہٹ جانے پر مجبور ہو کر رہ گئے۔

اس کے برعکس دنیا میں مسلح بغاوت کی کسی بھی کوشش کا جائزہ لیجیے تو اس کا نتیجہ سوائے انارکی اور تشدد کے اور کچھ نہ نکلا۔ حکمران کا محدود ظلم، لامحدود دائرے میں پھیل گیا اور ایک حکمران کو ظلم سے روکنے کی کوشش میں لاکھوں وار لارڈز، ڈاکو، دہشت گرد اور ظالم پیدا ہو گئے جنہوں نے عام لوگوں کی زندگی کو اجیرن کر کے رکھ دیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ کئی دہائیوں کے بعد بھی وہ ظلم اپنی جگہ برقرار رہا جس کے خاتمے کے لئے 'جہاد' کے مقدس نام پر بغاوت شروع کی گئی تھی۔ ہمارے اپنے معاشرے اس کی مثالوں سے بھرے پڑے ہیں۔

(مصنف: محمد مبشر نذیر)

اس تحریر سے متعلق آپ کے تجربات دوسروں کی زندگی سنوار سکتے ہیں۔ اپنے تجربات شیئر کرنے کے لئے ای میل بھیجیے۔ اگر آپ کو تعمیر شخصیت سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      موجودہ دور میں جہاد کی کیا صورتیں ہیں؟

      اللہ تعالی نے اپنے رسولوں کو مسلح جہاد کا حکم اسی صورت میں دیا جب ان کی باقاعدہ حکومت کسی علاقے پر قائم ہو گئی۔ اس سے ہم کیا نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں؟

      پرائیویٹ تنظیموں کی مسلح جدوجہد کے کیا اثرات معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں؟ افغانستان اور پاکستان کی مثال سے بیان کیجیے۔

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter