بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

امن اور اقتصادی ترقی

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَداً آمِناً وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنْ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلاً ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَى عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ۔ (البقرۃ 2: 126)

یاد کرو جب ابراہیم نے دعا کی، "اے میرے رب! اس شہر کو امن کا شہر بنا دے اور اس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور آخرت پر ایمان لائیں انہیں ہر قسم کے پھلوں کا رزق دے۔" جواب میں اس کے رب نے فرمایا، "اور جو نہ مانے گا، میں اسے بھی (دنیا کی چند روزہ زندگی کا) تھوڑا سامان دوں گا، مگر آخر کار اسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں گا اور وہ بدترین ٹھکانہ ہے۔"

جس نے کسی کی ضرورت سے زیادہ تعریف کی، اس نے اسے ہلاک کر دیا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم

سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ دعا عرب کے شہر مکۃ المکرمۃ کے بارے میں کی۔ یہ شہر آپ نے اپنے بیٹے سیدنا اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ آباد فرمایا۔ ساڑھے چار ہزار سال سے یہ شہر اسی طرح آباد ہے اور اس طویل تاریخ میں دو تین واقعات کے استثنا کے ساتھ یہ شہر امن کا شہر رہا ہے۔ اس امن نے اس شہر کو اقتصادی اعتبار سے خوشحال ترین بنا دیا۔ بے آب و گیاہ وادیوں پر مشتمل اس شہر میں ہر طرح کا رزق اس کثرت سے دستیاب ہے جو شاید ہی دنیا میں کسی شہر میں میسر آ سکے۔ ایسا صرف آج کل ہی نہیں ہے بلکہ ساڑھے چار ہزار سال سے یہ شہر اسی خوشحالی سے متمتع ہو رہا ہے۔

اس دعا سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام امن کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ تھے۔ دنیا کے کسی بھی ملک یا شہر کی معاشی اور تمدنی ترقی کا انحصار امن پر ہے۔ آج بھی اگر دنیا کے نقشے پر نظر دوڑائی جائے تو یہ معلوم ہو گا کہ دنیا میں وہی ملک ترقی یافتہ کہلائے جاتے ہیں جہاں طویل عرصے سے امن قائم ہے۔ اس کے برعکس ایسے ممالک جہاں بدامنی، قتل و غارت، دہشت گردی، منشیات فروشی، خانہ جنگی اور اسٹریٹ کرائم زیادہ ہیں وہ اقتصادی اور تمدنی اعتبار سے پس ماندہ کہلاتے ہیں۔

اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟ اس تحریر میں مصنف نے 40 سے زائد شخصی اوصاف کا جائزہ لے کر شخصیت کے مختلف پہلوؤں کی تعمیر کا لائحہ عمل بیان کیا ہے۔ ان خواتین و حضرات کے لئے مفید ہے جو اپنی شخصیت کی تعمیر سے دلچسپی رکھتے ہوں۔

امن ایسی چیز ہے جس کے لئے ہزاروں مفادات اور مسائل کو قربان کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں عجیب بات یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز ہمارے نزدیک اہم ہے لیکن جس چیز کی اہمیت سے ہم ناآشنا ہیں وہ امن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک اور شہر دنیا میں پس ماندہ اور طرح طرح کے مسائل کا شکار ہیں۔ اگر ہم دنیا میں ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے ممالک کے لئے امن کی نہ صرف دعا کرنا ہو گی بلکہ دعا کے ساتھ ساتھ دوا یعنی عملی اقدام بھی کرنا پڑے گا۔

ہمیں ہر قیمت پر اپنے لئے امن خریدنا ہو گا خواہ اس کے لئے ہمیں اپنے کتنے ہی انفرادی و اجتماعی مفادات کو قربان کرنا پڑے۔ اس کے بغیر کبھی بھی دنیا میں ترقی کا ہمارا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔ اپنی انفرادی زندگی کی مثال کو سامنے رکھیے، جو لوگ لڑائی جھگڑوں میں اپنی زندگی بسر کرتے ہیں وہ مالی اعتبار سے کبھی آسودہ حال نہیں ہو پاتے۔ اس کے برعکس جو لوگ اپنے لئے امن کا انتخاب کرتے ہیں وہ مالی اعتبار سے چند سال ہی میں کہیں سے کہیں پہنچ جاتے ہیں۔

اس آیت میں ایک اور حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ دنیا اللہ تعالی نے آزمائش کے اصول پر بنائی ہے اس وجہ سے یہاں ان لوگوں کو بھی اس دنیا کی قلیل متاع میں بھرپور حصہ دیا جاتا ہے جو خدا کے دین کے نظریاتی یا عملی اعتبار سے منکر ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اس چھوٹی سی محدود دنیا میں اپنی اصل دنیا یعنی جنت کے باشندوں کا میرٹ پر انتخاب کر رہا ہے۔ اس میرٹ ٹسٹ میں جو کامیاب ہوئے انہیں اصل دنیا میں آباد کیا جائے گا جہاں نہ ماضی کا کوئی پچھتاوا ہو گا اور نہ مستقبل کا اندیشہ۔ جو اس ٹسٹ میں فیل ہوئے انہیں بدترین ٹھکانہ نصیب ہو گا جہاں پچھتاووں اور اندیشوں کے سوا کچھ اور میسر نہ ہو سکے گا۔

(مصنف: محمد مبشر نذیر)

اس تحریر سے متعلق آپ کے تجربات دوسروں کی زندگی سنوار سکتے ہیں۔ اپنے تجربات شیئر کرنے کے لئے ای میل بھیجیے۔ اگر آپ کو تعمیر شخصیت سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      امن اور اقتصادی ترقی کا تعلق کیا ہے؟

      انارکی اور لاقانونیت کے کیا نتائج معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter