بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

تخلیقی صلاحیتیں

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

تخلیقی صلاحیتوں سے مراد کسی انسان کی وہ صلاحیتیں ہیں جن کی بدولت وہ نئے نئے آئیڈیاز تخلیق کر تا ہے اور ان کی بنیاد پر عملی زندگی میں نئی نئی اختراعات کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ تخلیقی سوچ کی بالعموم حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ ایک ماہر نفسیات کے الفاظ میں:

ہمارے ہاں اس بچے یا فرد کو پسند کیا جاتا ہے جو فرمانبردار ہے، دوسروں کا ادب کرتا ہے، اپنا کام وقت پر مکمل کرتا ہے، اس کے ہم عصر اسے پسند کرتے ہیں، اور جو دوسروں میں مقبول ہے۔ اس کے مقابلے میں ہم ایسے بچوں کو پسند نہیں کرتے جو بہت زیادہ سوال پوچھتے ہیں، سوچنے اور فیصلہ کرنے میں خود مختار ہوتے ہیں، اپنے عقائد پر ڈٹے رہتے ہیں، کسی کام میں مگن رہتے ہیں اور کسی بااختیار شخص کی بات کو من و عن قبول نہیں کرتے۔

پہلی قسم کے بچے کو ہم اچھا بچہ کہتے ہیں اور دوسری قسم کے بچے کو ہم بدتمیز یا نافرمان بچہ سمجھتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی ماحول میں بھی تخلیقی سوچ کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ اگر ایک بچہ امتحان میں کسی سوال کے جواب میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے تو اسے کم نمبر دیے جاتے ہیں۔ ہمارے ٹی وی اور ریڈیو پر ذہنی آزمائش کے پروگرام سوچنے کی صلاحیت کی بجائے یادداشت کی آزمائش کرتے ہیں۔ مذہبی تعلیم میں بھی قرآن کو حفظ کرنے پر زور دیا جاتا ہے لیکن اس کو سمجھ کر روزمرہ زندگی پر اطلاق کرنے کی تربیت نہیں دی جاتی۔ بچوں کو کامیابی حاصل کرنے اور اول آنے کی ترغیب دی جاتی ہے، لیکن علم حاصل کرنے یا نئی باتوں کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ ہم غلطیاں کرنے اور ان کا اقرار کرنے سے گھبراتے ہیں لیکن غلطیوں کے بغیر تخلیقی سوچ ناممکن ہے۔ ------ ہمارے یہاں اگر کچھ فنکاروں اور ان کی تخلیق کو اہمیت دی جاتی ہے تو اس عمل کو نظر انداز کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں کوئی تصویر، دھن وغیرہ کی تخلیق ہوئی ہے، یعنی تخلیق کے نتائج کو تو سراہا جاتا ہے لیکن اس محنت اور جدوجہد کو نظر انداز کیا جاتا ہے جسے تخلیقی عمل کہتے ہیں۔ (رفیق جعفر، نفسیات ص 486-487 )

تخلیقی سوچ میں تین اہم عناصر ہوتے ہیں: (۱) جدت؛ (۲) کسی مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت ؛ اور (۳) کوئی قابل قدر مقصد حاصل کرنے کی صلاحیت۔ جدت سے مراد موجودہ یا روایتی انداز میں پائی جانے والی چیزوں ، تصورات وغیرہ کو انفرادی انداز میں آپس میں ملانا یا نئے سرے سے ترتیب دینا ہے۔

عقل مند انسان دوسروں کی غلطیوں سے سبق سیکھتا ہے اور بے وقوف اپنی غلطیوں سے بھی سبق نہیں سیکھتا۔ لاطینی کہاوت

دنیا میں جتنے تخلیقی کام کئے گئے ہیں، ان میں پرانی چیزوں یا تصورات کو نئے انداز میں دیکھاگیا ہے۔ مثلاً جب نیوٹن نے سیب کو گرتے ہوئے دیکھا تو یہ عمل نہ تو نیوٹن کے لئے اور نہ ہی کسی اور کے لئے انوکھا واقعہ تھا لیکن نیوٹن نے اس عمل کو ایک خاص انداز میں دیکھا، اسے نئے معنی دیے اور اس طرح کشش ثقل (Gravity) کا قانون دریافت کیا۔ تاہم صرف جدت ہی کسی سوچ یا عمل کو تخلیقی نہیں بنا دیتی بلکہ اس میں مسائل کا حل بھی بہت ضروری ہے۔

تخلیقی صلاحیتیں رکھنے والے افراد کی کچھ ایسی خصوصیات ہوتی ہیں جو انہیں دوسروں سے نمایاں کرتی ہیں۔ ماہرین نفسیات کی تحقیقات کے مطابق یہ لوگ انفرادیت پسند ہوتے ہیں اور روایتی سوچ اور کردار کے مقابلے میں اپنی ذات اور سوچ کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ یہ دوسروں پر کم انحصار کرتے ہیں اور اکثر معاملات میں خود مختار ہوتے ہیں حتی کہ ان کے جاننے والے انہیں ضدی اور سرکش قرار دے دیتے ہیں۔ ان میں عموماً لوگوں کی خوشنودی حاصل کرنے کا احساس کم ہوتا ہے۔ یہ مستقل مزاج ہوتے ہیں، جس کام میں دلچسپی لیتے ہیں، اسے تندہی سے کرتے ہیں اور ناکامیوں اور مشکلات سے نہیں گھبراتے۔ اگر ان کے ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ بھی جائیں تو یہ ثابت قدم رہتے ہیں۔

عام لوگ چیزوں میں سادگی، تسلسل اور ترتیب کو پسند کرتے ہیں ، ابہام اور تضاد سے دور بھاگتے ہیں اور خیالات کی توڑ پھوڑ سے گھبراتے ہیں۔ان کے برعکس تخلیقی افراد کی شخصیت میں بہت لچک ہوتی ہے۔ وہ پیچیدہ، الجھی ہوئی ، غیر متوازن اور نامکمل چیزوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ نئے نئے خیالات کو ٹٹولنے، انہیں توڑنے مروڑنے اور مختلف حل تلاش کرنے میں لطف محسوس کرتے ہیں۔ وہ تخلیق شدہ چیزوں میں دلچسپی لینے کی بجائے تخلیقی عمل میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ یہ اپنے خیالات میں پائی جانے والی شورش، عدم استحکام، پیچیدگی اور افراتفری سے نہیں گھبراتے۔

یہ اپنی خوبیوں اور خامیوں سے عام لوگوں کی نسبت زیادہ آگاہ ہوتے ہیں۔ یہ دوسروں کے علاوہ خود کو بھی طنز و مزاح کا نشانہ بنانے سے نہیں ڈرتے۔ ان کا گھریلو ماحول بالعموم مثبت ہوتا ہے ۔ گھریلو لڑائی جھگڑے بہت کم ہوتے ہیں۔ والدین بچوں کو آزاد ماحول فراہم کرتے ہیں جس میں بچہ خود اپنے تجربات کے ذریعے ماحول سے آگاہی حاصل کرتا ہے۔ یہ جن اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں وہاں ماحول آمرانہ نہیں ہوتا بلکہ سوالات کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ استاد کا تعلق بالعموم ان سے دوستانہ ہوتا ہے اور تخلیقی صلاحیتوں کو نشوونما دی جاتی ہے۔

 

اسلام میں جسمانی و نظریاتی غلامی کے انسداد کی تاریخ۔ کیا اسلام نے غلامی کے خاتمے کے لئے کچھ اقدامات کیے یا اسلام غلامی کی حمایت کرتا ہے؟ موجودہ دور میں غلامی کی تحریک مغربی دنیا سے شروع کیوں ہوئی؟ مسلم دنیا میں غلامی کا خاتمہ کیسے اور کیوں ہوا؟ مسلم اور مغربی دنیاؤں میں موجود غلامی میں کیا فرق تھا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دنیا میں غلامی کے خاتمے سے متعلق کیا کردار ادا کیا؟ پڑھنے کے لئے کلک کیجیے۔

ان معلومات کی روشنی میں خود میں تخلیقی صلاحیتوں کی نشوونما کے لئے کچھ باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اپنے فکر پر کبھی پہرے نہ بٹھائیے۔ اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال پیدا ہو تو اسے محض شیطانی وسوسہ سمجھ کر نظر انداز نہ کیجئے بلکہ اہل علم سے اس کا جواب مانگنے کی کوشش کیجئے۔ ذہن میں ایسے خیالات کو موجود رکھنے کی مشق کیجئے جو ایک دوسرے کے متضاد ہوں۔ متضاد ، پیچیدہ، الجھی ہوئی اور نامکمل چیزوں اور خیالات سے نہ گھبرائیے۔ اپنے گھر اور اداروں میں ایسا ماحول پیدا کیجئے جو تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دے۔ اپنے اداروں میں ڈسپلن کے نام پر خواہ مخواہ تخلیقی صلاحیتوں کا گلا نہ گھونٹئے بلکہ نئے خیالات کو خوش آمدید کہیے۔

تخلیقی سوچ کو فروغ دینے کے بہت سے طریقے دریافت ہو چکے ہیں۔ ان میں ایک طریقہ برین اسٹارمنگ (Brainstorming) ہے جس میں ایک گروپ کو کسی مسئلے کے زیادہ سے زیادہ حل تجویز کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ پہلے مرحلے میں اس بات پر توجہ نہیں دی جاتی کہ کوئی حل اچھا اور قابل عمل ہے یا نہیں۔ اس کے نتیجے میں ہر شخص محض اس خوف سے خاموش نہیں رہتا کہ کہیں اس کا مذاق نہ اڑایا جائے یا اس کے خیال کو مسترد نہ کر دیا جائے۔ اگلے مرحلے پر ان تجاویز کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا جائزہ لے کر ان میں سے اچھی تجاویز کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اسی طرح گروپ کی صورت میں مختلف آئیڈیاز اور چیزوں پر غور و فکر کرکے کسی اقدام کے فوری اور دوررس نتائج کا اندازہ لگانے، کسی چیز کی وجوہات اور مقاصد پر غور و فکر کرنے، کسی کام کی پلاننگ کرنے، کسی مسئلے کے مختلف ممکنہ پہلوؤں میں کسی ایک کا انتخاب کرنے، متبادل راستے تلاش کرنے ، فیصلے کرنے اور دوسروں کے نقطہ ہائے نظر کو سمجھنے سے تخلیقی سوچ نمو پذیر ہوتی ہے۔ آپ بھی اپنے دوستوں کی مدد سے چھوٹے چھوٹے تھنک ٹینک بنا کر یہ کام کر سکتے ہیں۔

تخلیقی سوچ کے ضمن میں اس بات کا بھی خیال رہے کہ بعض لوگ دین کے معاملے میں فکر و عمل کی تمام حدود پھلانگ جاتے ہیں جو کہ درست نہیں جیسا کہ زمانہ قدیم میں فرقہ باطنیہ اور دور جدید میں بعض حلقوں نے دین کے بنیادی تصورات توحید، رسالت، آخرت، نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ میں کئی ترامیم تجویز کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو دین ہمیں عطا فرمایا ہے، اپنی creativity کو استعمال کرکے اس میں کوئی تبدیلی کرنا بالکل غلط ہے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دین جس طرح ملا ہے اسے قبول کیجئے۔ دین کے معاملے ہماری تخلیقی صلاحیتوں کے استعمال کا اصل میدان دینی احکامات کو سمجھنا، دین کے فروغ کے لئے نئے نئے راستے تلاش کرنا، اور زندگی میں دین پر عمل کرنے کی راہ میں پیش آنے والی رکاوٹوں سے نمٹنے کے قابل عمل طریق ہائے کار دریافت کرناہے۔ اگر ہم دین ہی میں کوئی ترامیم کرنے لگ گئے تو دنیا میں بھی خائب و خاسر ہوں گے اور آخرت میں بھی ناکام و نامراد۔

(مصنف: محمد مبشر نذیر)

اس تحریر سے متعلق آپ کے تجربات دوسروں کی زندگی سنوار سکتے ہیں۔ اپنے تجربات شیئر کرنے کے لئے ای میل بھیجیے۔ اگر آپ کو تعمیر شخصیت سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      تخلیقی صلاحیتوں کو نشوونما دینے کا طریق کار کیا ہے؟

      اس مضمون میں تخلیقی لوگوں کی جو خصوصیات بیان کی گئی ہیں، ان کی ایک فہرست بیان کیجیے۔

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter