بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

وسعت نظری

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

ہر انسان ایک مخصوص طریقے سے سوچتا ہے۔ وہ بعض چیزوں کو ترجیح دیتا ہے اور بعض کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف علوم میں مکاتب فکر(Schools of Thought) وجود میں آتے ہیں۔ کسی بھی علمی میدان میں جب کوئی غیر معمولی شخصیت پیدا ہوتی ہے تو وہ اس میں ایسے اضافے کر دیتی ہے جس کی مثال عام لوگوں میں نہیں ملتی۔ جن لوگوں کی طرزفکر اس طرز فکر سے میچ ہو جاتی ہے، وہ اس غیر معمولی شخصیت کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح ایک مکتب فکر وجود پذیر ہوتاہے۔

میں نے جنگ کے ہتھیاروں اور پتھروں کو اٹھا لیا مگر قرض سے زیادہ بوجھل کسی چیز کو نہیں پایا۔ بزرجمہر

اس کی ایک بڑی مثال امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مکتب فکر ہے۔ امام صاحب ایک اعلیٰ درجے کے ذہین و فطین شخص تھے۔ دین کو سمجھنے میں انہیں جو مقام حاصل ہے، وہ بہت کم افراد کو نصیب ہوا۔ انہوں نے دین کو جس طرح سمجھا اور دین کو سمجھنے کے جو اصول وضع کئے، انہیں اس وقت کے ذہین ترین افراد کی تائید حاصل ہوئی۔ امام صاحب نے چن چن کر اپنے گرد ذہین ترین لوگوں کو اکٹھا کیا اور اسلامی قانون کی تدوین سازی کا کام شروع کیا۔

اس مقصد کے لئے انہوں نے اپنے وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی کو وقف کردیا۔ انہوں نے اپنے قریبی شاگردوں کے گھر کا خرچ تک بھی اٹھا کر انہیں معاشی فکروں سے بے نیاز کردیا۔ اُن کی اِن کاوشوں سے نتیجے میں فقہ اسلامی کا ایک عظیم ذخیرہ وجود میں آیا جو کچھ عرصے میں دنیا کی سب سے بڑی مملکت کا قانون بن گیا اور تقریباً ایک ہزار سال تک رائج رہا۔

مالکی، شافعی، حنبلی، ظاہری اور دیگر مکاتب فکر بھی اسی طرح وجود پذیر ہوئے۔دوسرے علوم مثلاً نفسیات، معاشیات وغیرہ میں بھی ہمیں ایسی مثالیں ملتی ہیں ۔ علم معاشیات میں ایڈم سمتھ، مارشل ، مارکس اور کینز غیر معمولی شخصیات ہیں جنہوں نے اپنے اپنے مکاتب فکر تشکیل دیے۔ اسی طرح علم نفسیات میں ولیم جیمز، واٹسن، فرائڈ اور ماسلو کے مکاتب فکر زیادہ مشہور ہیں۔ یہی حال دوسرے علوم کا ہے۔

دین دار طبقے کے لئے معاش اور روزگار کے مسائل۔ ایک مذہبی آدمی خواہ وہ جدید تعلیم یافتہ ہو یا مدارس کا تعلیم یافتہ، اسے اپنی عملی زندگی میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس تحریر میں مصنف نے ان مسائل کا تجزیہ کرتے ہوئے ان کے حل کی تجاویز پیش کی ہیں۔

علم کی دنیا میں اپنے طرز فکر کو زیادہ اپیل کرنے والے مکتب فکر کو اختیار کرنا اور اس سے وابستہ ہونا کوئی بری بات نہیں سمجھی جاتی۔ ہر مکتب فکر کے اہل علم دوسرے مکاتب فکر کا احترام کرتے ہیں اور یہ روایت قدیم دور سے آج تک چلی آ رہی ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام مالک علیہما الرحمۃ کے مابین جس درجے کا احترام پایا جاتا تھا ، اس کی مثالیں عام لوگوں میں بہت کم ملتی ہیں۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ معاملہ اہل علم و دانش کی سطح سے اتر کر عوامی سطح پر اتر آتا ہے۔ جب کسی مکتب فکر پر کوتاہ قامت اور عامیانہ سوچ رکھنے والوں کا اقتدار قائم ہو جاتا ہے یعنی دوسرے لفظوں میں انہیں اپنے ظرف سے زیادہ مقام مل جاتا ہے تو پھر وہ اپنے علاوہ دوسرے کو حقیر اور غلط سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کے نزدیک اپنے مکتب فکر کی ہر بات درست اور دوسرے کی ہر بات غلط ہو جاتی ہے۔ ان کا سارا زور اپنے نقطہ نظر کی حمایت میں الٹے سیدھے دلائل فراہم کرنے میں لگ جاتا ہے ، ایک دوسرے سے حسد بغض کی شکل اختیار کرجاتا ہے جو آگے چل کر نفرت کی شکل اختیار کر جاتا ہے اور پھر مکتب فکرسے مسلک ، مسلک سے فرقہ اور فرقے سے نیا مذہب جنم لیتا ہے۔

اپنے طرز فکر اور مزاج کو اپیل کرنے والے کسی مکتب فکر سے تعلق قائم کرنا کوئی برائی نہیں۔ ہاں جہاں معاملہ مکتب فکر سے بڑھ کر مسلک ، گروہ بندی اور فرقے کی شکل اختیار کرچکا ہو وہاں اس سے اجتناب کرنا نہایت ضروری ہے۔

اگرانسان یہ سمجھ بیٹھے کہ میرے مکتب فکر کے سوا دنیا میں کہیں حق نہیں پایا جاتا اور اسی پر جامد ہو کر اپنے ذہن کے دروازے ہر نئی فکر اور ہر نئی سوچ کے لئے بند کرلے، توپھر اس کے لئے ہدایت کے دروازے بند ہو جاتے ہیں اور وہ نفرت اور تعصب کی آگ ہی میں جلتا رہتا ہے۔ اس موقع پر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ارشاد بڑا معنی خیز ہے، دین کے اصولی و بنیادی معاملات میں تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں اور ہمارا مخالف غلطی پر ہے ، لیکن اجتہادی اور فروعی مسائل میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگرچہ ہم نے اپنے تئیں درست رائے اختیار کی ہے لیکن اس بات کا امکان موجود ہے کہ ہم غلط ہوں اور ہمارا مخالف صحیح ہو۔

جو لوگ اپنی شخصیت کی ایک آئیڈیل سطح تک تراش خراش کرنا چاہیں، ان کے لئے لازم ہے کہ وہ خود میں وسعت نظری کو فروغ دیں اور تنگ نظری سے بچیں ورنہ ان کی شخصیت نامکمل رہ جائے گی۔والدین اور اساتذہ کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے زیر تربیت افراد میں حتی الامکان ہر قسم کے تعصب اور تنگ نظری کو پیدا ہونے سے بچائیں۔

(مصنف: محمد مبشر نذیر)

اس تحریر سے متعلق آپ کے تجربات دوسروں کی زندگی سنوار سکتے ہیں۔ اپنے تجربات شیئر کرنے کے لئے ای میل بھیجیے۔ اگر آپ کو تعمیر شخصیت سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      ایک تنگ نظر شخصیت کے کیا اوصاف ہیں؟ اس کا تقابل کھلے ذہن کی شخصیت سے کیجیے۔

      خود کو وسیع النظر بنانے کا طریقہ کیا ہے؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter