بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

انسان اور حیوان

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک حیوانی قالب میں پیدا کیا ہے۔ آنکھ، ناک، کان اور دیگرا ندرونی و بیرونی اعضاء میں انسان جانوروں سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہے۔ یہی حال جبلتوں (Instincts) کا ہے۔ بھوک، پیاس، تحفظ اور تولید کی خواہش جس طرح کسی جانور کو متحرک کرتے ہیں، اسی طرح انسانوں کو بھی آمادہ عمل کرتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ جانور اگر ایک لاکھ برس پہلے جنگل میں رہتے تھے تو آج بھی وہ جنگل میں ہیں۔ مگر انسان ترقی کرتے کرتے آج اس مقام پر آگیا جہاں وہ بڑے بڑے شہر آباد کرچکا ہے۔

اللہ تعالی کے احکامات پر عمل کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے اپنا گھر پتھر کی مضبوط چٹان پر بنا لیا ہو۔ ایسے گھر شدید طوفان اور بارش میں محفوظ رہتے ہیں۔ ان احکامات پر عمل نہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے ریت پر اپنا گھر بنایا ہوا ہو۔ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام

انسان کی اس ترقی کا سبب اپنے تجربات اور مشاہدات سے سیکھنے کی صلاحیت اور آگے بڑھنے کا جذبہ ہے۔ یہی دو چیزیں ہیں جو انسان کو زندگی میں مسلسل آگے بڑھاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو یہ صلاحیتیں دے کر اس دنیا میں بھیجا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان غلطی کر تا ہے، مگر وہ اس غلطی سے سیکھتا ہے اور اصلاح کر لیتا ہے۔ وہ زندگی کی دوڑ میں ٹھوکر کھا کر گر پڑتا ہے۔ مگر آگے بڑھنے کا جذبہ اسے سنبھالتا ہے اور دوبارہ آگے بڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔

سیکھنے اور آگے بڑھنے کی یہ صلاحیت جانور میں بھی ہوتی ہے، مگروہ ان صلاحیتوں کا استعمال صرف بنیادی جبلی تقاضوں ہی کی حد تک کرتا ہے۔ جبکہ انسان میں یہ صلاحیت ان تقاضوں سے آگے بڑھ کر اپنی ذات کی اصلاح، اپنی شخصیت کے ارتقا، اپنے اخلاق کی درستی اور اپنے معمولات میں بہتری کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ مگر بہت سے انسان ایسے ہوتے ہیں جو اپنی ان صلاحیتوں کوصرف جانوروں ہی کی سطح پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ کھاتے پیتے، شادی کرتے اور اولاد پیدا کرتے ہیں۔ اپنی بقا کے لیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں۔ مگر یہ درحقیقت ان کے حیوانی قالب کے بقا و ارتقا کی جدو جہد ہوتی ہے۔ یہ حیوانی قالب تو موت کے ساتھ ہی فنا ہوجاتاہے۔

انسان کے وجود کا اصل حصہ اس کی شخصیت ہوتی ہے۔ یہ شخصیت ہے جو معاشرے کے خیر و شر پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ شخصیت ہے جو انسانی تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتی ہے۔ یہ شخصیت ہے جو اپنے جیسے دوسرے انسانوں کی زندگیاں بدل دیتی ہے۔ یہی شخصیت ہے جسے کل روز قیامت خدا کے حضور پیش ہونا ہے۔ جہاں اسے ایک نیا قالب دیا جائے گا۔ پھر اس شخصیت کے خیر و شر اور حسن و قبح اور اچھائی برائی کی بنیاد پر اس کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔

الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات۔ موجودہ دور میں الحاد کو پھیلانے کے لئے کیا کوششیں کی گئی ہیں اور ان کے نتائج کیا نکلے ہیں؟ الحاد کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے سامنے بند کیسے باندھا جائے؟ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجیے۔

انسان اور جانور کا بنیادی فرق یہی ہے کہ جانور کی زندگی بس حیوانی قالب کی زندگی ہے۔ جبکہ انسان کی زندگی شخصیت کی زندگی ہے۔ یہ شخصیت اگر موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی ہو تو بنی اسرائیل کی شکل میں ایک پوری قوم کی نجات اور اصلاح کا سبب بنتی ہے اور اگر فرعون کی ہو تو اپنی اور اپنی قوم کی تباہی کی وجہ بن جاتی ہے۔ یہ شخصیت اگر محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ہوتو اربوں انسانو ں کی ہدایت کا سبب بن جاتی ہے اور اگر ہٹلر کی ہو تو کروڑوں انسانوں کی موت کا سبب بن جاتی ہے۔

اس شخصیت میں بہتری کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی سیکھنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیتوں کو صرف حیوانی تقاضوں تک محدود نہ رکھے۔ وہ کھائے پیئے اور سوئے مگر غور و فکر کو بھی اپنی زندگی میں کرنے کاایک کام سمجھے۔ وہ کھیل کود، تفریح کو ضرور اختیار کرے، مگر علم اور مطالعہ سے بھی بے رخی نہ برتے۔ وہ نکاح کے ذریعے سے خاندان اور اولاد کی خوشیوں سے ہمکنار ہو، مگر ساتھ ہی معاشرے کے خیر و شر سے بے نیازی اختیار نہ کرے۔

ایک انسان کے لیے یہ کوئی قابل شرم بات نہیں کہ وہ حیوانی قالب کی ترقی کے لیے جدو جہد کرے۔ انسان کے لیے قابل شرم بات یہ ہے کہ وہ اپنے سیکھنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیتو ں کو صرف اسی کام کے لیے مخصوص کردے۔ کیونکہ ایسے انسان کی شخصیت میں کوئی ارتقا نہیں ہوتا۔ اس کے علم میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ اس کے رویے میں کوئی بہتری نہیں آتی۔ ایسے لوگ اپنے انسانی شرف کی توہین کرتے ہیں۔ یہ لوگ نہ معاشرے میں کوئی مثبت کردار اداکرسکتے ہیں اور نہ آخرت کی زندگی میں کوئی اعلیٰ مقام حاصل کرسکتے ہیں۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اس تحریر سے متعلق آپ کے تجربات دوسروں کی زندگی سنوار سکتے ہیں۔ اپنے تجربات شیئر کرنے کے لئے ای میل بھیجیے۔ اگر آپ کو تعمیر شخصیت سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      انسان اور حیوان میں بنیادی فرق کیا ہے؟

      اپنی زندگی کا جائزہ لیجیے کہ ہم اپنے وقت کا کتنے فیصد حصہ حیوانی خواہشات کے حصول میں صرف کرتے ہیں اور اعلی انسانی اقدار کے لئے کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter