بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

عقل اور وحی کا باہمی تعلق (1)

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اسلام میں جب بھی کسی گروہ نے اپنے تصورات و نظریات کو داخل کرنا چاہا تو اس نے سب سے پہلے عقل کی برتری اور اس کی فرمانروائی کا چرچا کیا اور کہا کہ چونکہ مروجہ نظریات و خیالات و افکار، ذہن انسانی سے مطابقت نہیں رکھتے اس لئے انہیں رد کر کے اس کی جگہ ایسے افکار و نظریات لانا ضروری ہے، جو عقل کے عین مطابق ہوں۔ عقل سے مراد وہ نظریات ہوتے ہیں جو اس دور کے غالب رجحانات کی عکاسی کریں۔

معتزلہ [قرون وسطی کا ایک گروہ جس نے اسلام کو یونانی فلسفے کے مطابق کرنے کی کوشش کی تھی] نے بھی یونانی افکار و نظریات سے ذہنی طور پر شکست کھا کر یہی کچھ کیا اور عقل کی بنا پر زور دیا کہ شریعت میں فیصلہ کن حیثیت رسول کی بجائے عقل کو حاصل ہو اور انہیں وہ سارے اعمال و تصورات شریعت سے خارج کرنے میں آسانی رہے، جو ان کے زعم کے مطابق خلاف عقل ہیں۔ چنانچہ معتزلہ نے اپنے مخصوص نظریات "عدل" اور "توحید" کی بناء پر پل صراط، میثاق اور معراج کا انکار کیا اور ان ساری احادیث کو رد کر دیا جن میں ان کا ثبوت ملتا ہے۔۔۔۔

عقل کا جائز مقام

قرآن کریم میں بے شمار ایسی آیات وارد ہوئی ہیں جن میں عقل انسانی سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کائنات میں بکھری ہوئی لاتعداد اللہ کی نشانیوں میں غور و فکر کرے۔ کبھی انسان کی توجہ ہواؤں کی تصریف و تصرف [یعنی گردش] کی طرف مبذول کرائی گئی ہے تو کبھی سورج، چاند اور ستاروں کی حرکات اور دن رات اور موسم کی تبدیلی کی طرف۔

کبھی نباتات کی روئیدگی اور اس کی مختلف منازل حیات کا ذکر کیا گیا ہے اور کہیں حیوانات کی تخلیق اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد کی طرف، کبھی عالم آفاق میں قدرت الہی پر واضح شواہد کی طرف توجہ کی دعوت دی گئی ہے تو کبھی انسان کے اپنے اندر کی دنیا کی طرف، غرض یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ قرآن کریم کا ایک معتد بہ حصہ ایسی آیات پر مشتمل ہے جن میں انسان کو اپنے اندر اور باہر کی دنیا میں سوچنے، غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے کہ کس طرح نباتات کا پتہ پتہ، پھولوں کی پنکھڑی، شجر و حجر اور شمس وقمر شہادت دے رہے ہیں کہ وہ قدرت کے مختلف اسرار کا مجموعہ اور خالق کائنات کے علم و حکمت کے واضح شواہد ہیں۔ اس غور و فکر سے انسان کو دو طرح کے فوائد حاصل ہوتے ہیں:

پہلا یہ کہ انسان ان کے خواص و تاثیرات معلوم کر کے ان سے فائدہ اٹھائے جیسا کہ اللہ تعالی نے خود ہی فرمایا:

سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ (لقمان 31:20)

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب تمہارے قابو میں کر دیا ہے۔

یعنی کائنات کی ہر چیز کو تمہارا تابع فرمان بنا دیا گیا ہے۔ اب اسے کام میں لانا انسان کا اپنا کام ہے اور یہ فائدہ غور و فکر اور عقل کو کام میں لانے ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔

[دوسرا فائدہ یہ ہے کہ] جب انسان اشیائے کائنات کا تحقیق و تدقیق سے مطالعہ کرتا ہے اور ان میں غرق ہو کر ان کے پوشیدہ اسرار و رموز اور حکمتوں سے آگاہی حاصل کرتا ہے تو یہ باتیں اسے خود خالق کائنات کے وجود اور اس کے محیر العقول علم و حکمت کی طرف واضح نشاندہی کرتی ہیں اور بے اختیار اس کے منہ سے یہ الفاظ نکلتے ہیں۔

رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً (اٰل عمران 3:191)

اے پروردگار! تو نے اس کائنات کو عبث نہیں پیدا کیا۔

قرآن اور بائبل کے دیس میں۔ اس سفرنامے کے مصنف کا نقطہ نظر یہ ہے کہ دنیا میں گھوم پھر کر خدا کی نشانیوں میں غور و فکر کیا جائے۔ یہ نشانیاں اللہ تعالی کی تخلیق کردہ فطرت کی صورت میں ہوں یا اس کی عطا کردہ انسانی عقل نے ان نشانیوں کو تیار کیا ہو، یہ انسان کو ایک اور ایک خدا کی یاد دلاتی ہیں۔ مصنف نے بعض قوموں کے تاریخی آثار کو خدا کے وجود اور اس کے احتساب کے ثبوت میں پیش کیا ہے۔ تفصیل کے لئے مطالعہ کیجیے۔

عقل اور ہدایت

آیات الہی سے مندرجہ بالا نتائج ماخوذ کرنے کی تائید میں ہم یہاں ایک واقعہ درج کرتے ہیں جو علامہ عنایت اللہ خاں مشرقی کو اس دوران پیش آیا جب وہ انگلستان میں زیر تعلیم تھے، وہ کہتے کہ:

1909ء کا ذکر ہے۔ اتوار کا دن تھا اور زور کی بارش ہو رہی تھی۔ میں کسی کام سے باہر نکلا تو جامعہ چرچ کے مشہور ماہر فلکیات پروفیسر جیمس جینز بغل میں انجیل دبائے چرچ کی طرف جا رہے تھے، میں نے قریب ہو کر سلام کیا تو وہ متوجہ ہوئے اور کہنے لگے، "کیا چاہتے ہو؟" میں نے کہا، "دو باتیں، پہلی یہ کہ زور سے بارش ہو رہی ہے اور آپ نے چھاتہ بغل میں داب رکھا ہے۔" سر جیمس جینز اس بدحواسی پر مسکرائے اور چھاتہ تان لیا۔" پھر میں کہا، "دوم یہ کہ آپ جیسا شہرہ آفاق آدمی گرجا میں عبادت کے لئے جا رہا ہے۔" میرے اس سوال پر پروفیسر جیمس جینز لمحہ بھر کے لئے رک گئے اور میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا، "آج شام میرے ساتھ چائے پیو۔"

چنانچہ میں چار بجے شام کو ان کی رہائش گاہ پر پہنچا، ٹھیک چار بجے لیڈی جیمس باہر آ کر کہنے لگیں، "سر جیمس تمہارے منتظر ہیں۔" اندر گیا تو ایک چھوٹی سی میز پر چائے لگی ہوئی تھی۔ پروفیسر صاحب تصورات میں کھوئے ہوئے تھے، کہنے لگے، "تمہارا سوال کیا تھا؟" اور میرے جواب کا انتظار کئے بغیر، اجرام سماوی کی تخلیق، اس کے حیرت انگیز نظام، بے انتہا پہنائیوں اور فاصلوں، ان کی پیچیدہ راہوں اور مداروں، نیز باہمی روابط اور طوفان ہائے نور پر ایمان افروز تفصیلات پیش کیں کہ میرا دل اللہ کی اس کبریائی و جبروت پر دہلنے لگا۔

ان کی اپنی یہ کیفیت تھی کہ سر کے بال سیدھے اٹھے ہوئے تھے۔ آنکھوں سے حیرت و خشیت کی دوگونہ کیفیتیں عیاں تھیں۔ اللہ کی حکمت و دانش کی ہیبت سے ان کے ہاتھ قدرے کانپ رہے تھے اور آواز لرز رہی تھی۔ فرمانے لگے، "عنایت اللہ خان! جب میں خدا کی تخلیق کے کارناموں پر نظر ڈالتا ہوں تو میری ہستی اللہ کے جلال سے لرزنے لگتی ہے اور جب میں کلیسا میں خدا کے سامنے سرنگوں ہو کر کہتا ہوں: "تو بہت بڑا ہے۔" تو میری ہستی کا ہر ذرہ میرا ہمنوا بن جاتا ہے۔ مجھے بے حد سکون اور خوشی نصیب ہوتی ہے۔ مجھے دوسروں کی نسبت عبادات میں ہزار گنا زیادہ کیف ملتا ہے، کہو عنایت اللہ خان! تمہاری سمجھ میں آیا کہ میں کیوں گرجے جاتا ہوں۔"

علامہ مشرقی کہتے ہیں کہ پروفیسر جیمس کی اس تقریر نے میرے دماغ میں عجیب کہرام پیدا کر دیا۔ میں نے کہا، "جناب والا! میں آپ کی روح پرور تفصیلات سے بے حد متاثر ہوا ہوں، اس سلسلہ میں قرآن مجید کی ایک آیت یاد آ گئی ہے، اگر اجازت ہو تو پیش کروں؟" فرمایا، "ضرور!" چنانچہ میں نے یہ آیت پڑھی۔

و مِنْ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهَا وَغَرَابِيبُ سُودٌ۔ وَمِنْ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ وَالأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ كَذَلِكَ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ (فاطر 35:27-28)

"اور پہاڑوں میں سفید اور سرخ رنگوں کے قطعات ہیں اور بعض کالے سیاہ ہیں، انسانوں، جانوروں اور چوپایوں کے بھی کئی طرح کے رنگ ہیں۔ خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں۔"

یہ آیت سنتے ہی پروفیسر جیمس بولے، "کیا کہا؟ اللہ سے صرف اہل علم ہی ڈرتے ہیں؟ حیرت انگیز، بہت عجیب، یہ بات جو مجھے پچاس برس کے مسلسل مطالعہ سے معلوم ہوئی، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کس نے بتائی؟ کیا قرآن میں واقعی یہ بات موجود ہے؟ اگر ہے تو میری شہادت لکھ لو کہ قرآن ایک الہامی کتاب ہے، محمد تو ان پڑھ تھے، انہیں یہ حقیقت خود بخود نہ معلوم ہو سکتی تھی۔ یقیناً اللہ تعالی نے انہیں بتائی تھی۔ بہت خوب! بہت عجیب۔ (علم جدید کا چیلنج از وحید الدین خان)

یہ ہیں وہ نتائج جو اشیائے کائنات میں غور و خوض کرنے کے بعد ہی حاصل ہو سکتے ہیں اور جن کی طرف قرآن نے ہر شخص کو دعوت دی ہے۔ اب اس کے برعکس دوسرا واقعہ بھی ملاحظہ فرمائیے۔

اے میرے بیٹے! اگر برے لوگ تمہیں پھسلائیں تو ان کی باتوں میں نہ آنا۔ اگر وہ کہیں، ہمارے ساتھ چلو، ہم کسی کا خون بہانے کے لئے تاک میں بیٹھتے ہیں، اور کسی بے قصور انسان کے لئے گھات لگاتے ہیں، ہم ان کا قیمتی مال چھین کر اپنے گھروں کو لوٹ کے مال سے بھر لیتے ہیں۔ جو مال ملے گا اس میں سے تمہیں بھی حصہ دیں گے۔ میرے بیٹے! تم ان کے ساتھ نہ جانا اور نہ ان کی راہ پر قدم رکھنا۔۔۔۔ یہ لوگ اپنا ہی خون بہانے کے لئے تاک میں بیٹھتے ہیں اور اپنی ہی جان کے لئے لئے گھات لگاتے ہیں۔ ناجائز آمدنی کے پیچھے جانے والوں کا انجام یہی ہوا کرتا ہے اور اسے حاصل کرنے والے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام (بائبل، امثال)

عقل اور ضلالت

سر چارلس ڈارون (1808-1882) وہ پہلا مغربی مفکر ہے جس نے انسان کی تخلیق کے مسئلہ میں نظریہ ارتقاء کو باضابطہ طور پر پیش کیا۔ وہ کہتا ہے کہ آج سے دو ارب سال پیشتر سمندر کے ساحل کے قریب پایاب پانی کی سطح پر کائی نمودار ہوئی۔ پھر اس کائی کے کسی ذرہ میں کسی نہ کسی طرح حرکت پیدا ہوئی تھی۔ یہی اس دنیا میں زندگی کی پہلی نمود تھی۔ اسی جرثومہ حیات سے بعد میں نباتات اور اس کی مختلف شکلیں وجود میں آئیں۔ پھر حیوانات وجود میں آئے اور بالآخر بندر کی نسل سے انسان پیدا ہوا ہے۔

ڈارون کی تحقیق و تدقیق اپنے مقام پر بجا۔ یہ صحیح ہے یا غلط، یہ ہم کسی اور مقام پر زیر بحث لائیں گے۔ واقعہ یہ ہے کہ ڈارون پر اس تحقیق و تدقیق کا یہ اثر ہوا کہ وہ بالآخر خدا کا منکر ہو کر مرا تھا۔ ابتداءً وہ خدا پرست تھا، پھر جب اس نے یہ نظریہ مدون طور پر پیش کیا تو لاادریت کی طرف مائل ہوگیا اور بالآخر خدا کی ہستی سے یکسر انکار کر دیا۔ اسی وجہ سے اس نے یوں کہا تھا کہ اس کائی میں کسی نہ کسی طرح "زندگی پیدا ہوگئی۔" اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ اس وقت خدا کی ہستی کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار تھا۔ ان ہر دو واقعات سے ہم ان نتائج تک پہنچتے ہیں:

      اگر عقل وحی کے تابع ہو کر چلے تو یہ خالق کائنات پر بے پناہ ایمان ویقین کا سبب بنتی ہے۔

      اگر عقل وحی سے بے نیاز ہو کر چلے تو بسا اوقات ضلالت و گمراہی کی انتہائی پہنائیوں میں جا گراتی ہے۔

یہیں سے عقل اور وحی کے مقامات کا تعین ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی عقل انتہائی محدود ہے اور یہ کائنات لامحدود ہے۔ لہذا اس کائنات کی ہر چیز کی حقیقت کا ادراک اس عقل ناتمام کے بس کا روگ نہیں۔ عقل کی مثال آنکھ کی طرح ہے اور وحی وہ خارجی روشنی ہے جس کی موجودگی میں عقل صحیح راستہ پر چل سکتی ہے۔ وحی خالق کائنات ہی کے علم و حکمت کا دوسرا نام ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ اشیائے کائنات کی حقیقت کا علم خالق کائنات سے زیادہ اور کون جان سکتا ہے۔ لہذا جو عقل وحی کی روشنی سے بے نیاز ہو کر اپنا راستہ تلاش کرے گی وہ ہمیشہ تاریکیوں میں ہی بھٹکتی رہے گی اور یہی کچھ ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک عقل اور اہل عقل کے ساتھ ہوتا رہا ہے اور آئندہ بھی یہی کچھ ہوتا رہے گا۔۔۔

(مصنف: عبدالرحمٰن کیلانی، "آئینہ پرویزیت" سے اقتباس)

اپنے سوالات، خیالات اور تاثرات کو ای میل کرنا نہ بھولیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      سر جیمس جینز اور چارلس ڈارون کے واقعات سے ہم کیا سبق اخذ کر سکتے ہیں؟

      ایک خدا پرست انسان بننے میں انسانی عقل کا کردار کیا ہے؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter