بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

غربت کا خاتمہ کیسے ہوتا ہے؟

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

رضا ایک غریب نوجوان تھا۔ بچپن ہی میں اس کے والد فوت ہو گئے۔ والدہ نے سلائی کڑھائی کر کے بچوں کو پالنے کی ذمہ داری اٹھائی۔ رضا تعلیم میں اچھا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ کرکٹ کا بھی اچھا کھلاڑی تھا۔ وہ اپنے شہر کی ٹیم کی نمائندگی کرتا تھا اور عین ممکن تھا کہ اس کے کھیل کے باعث اسے کسی ادارے کی ٹیم میں جگہ مل جاتی اور وہ ترقی کرتے کرتے قومی ٹیم تک پہنچ جاتا۔

رضا ایک حساس لڑکا تھا۔ کالج میں اس کے دوست اچھے کپڑے پہنتے، کاروں میں آتے، کینٹین میں دوستوں کو کھلاتے پلاتے تو اسے اس کا بڑا دکھ ہوتا کہ یہ سب کچھ میرے پاس کیوں نہیں ہے۔ کالج ہی میں اس کی ملاقات ایک ایسی تنظیم کے پرجوش کارکنوں سے ہوئی جو طبقاتی تقسیم کے خلاف جدوجہد کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے رضا کو بتایا کہ تمہاری یہ غربت اس وجہ سے ہے کہ کچھ لوگوں نے معاشرے کی دولت کو اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔ غربت ختم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اس طبقے کے خلاف جدوجہد کی جائے اور معاشرتی انصاف پر مبنی نظام قائم کیا جائے۔

دین دار طبقے کے لئے معاش اور روزگار کے مسائل۔ ایک مذہبی آدمی خواہ وہ جدید تعلیم یافتہ ہو یا مدارس کا تعلیم یافتہ، اسے اپنی عملی زندگی میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس تحریر میں مصنف نے ان مسائل کا تجزیہ کرتے ہوئے ان کے حل کی تجاویز پیش کی ہیں۔

رضا کو یہ باتیں بہت پسند آئیں اور اس نے بھی اس تنظیم میں شمولیت اختیار کر لی۔ تنظیمی کاموں کو اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ ہر وقت تنظیمی لٹریچر کا مطالعہ کرتا، اجتماعات میں شرکت کرتا اور احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیتا۔ ان سب سرگرمیوں کے باعث اس کی تعلیم متاثر ہوئی اور وہ امتحان میں فیل ہو گیا۔ اس نے دو تین مرتبہ مزید امتحان دینے کی کوشش کی لیکن تنظیمی سرگرمیوں کے باعث اس کے پاس اتنا وقت نہ تھا کہ وہ تعلیم کی طرف توجہ دیتا، اس وجہ سے وہ ناکام ہو گیا۔

رضا اور اس کے جیسے اور بہت سے نوجوانوں کی محنت اور کوشش سے تنظیم کا شمار ملک کی اہم سیاسی جماعتوں میں ہونے لگا اور تنظیم کے قائدین جو نچلے درجے کے سیاست دان تھے، اب ملکی سطح کے سیاست دانوں میں شمار ہونے لگے۔ اس تنظیم نے دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بھی بنا لی۔ رضا اور اس کے ساتھیوں کی جدوجہد کا پورا فائدہ ان کے قائدین نے اٹھایا۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں رضا اور اس کے ساتھیوں کی غربت تو دور نہ ہو سکی البتہ ان کے لیڈروں کی غربت ضرور دور ہو گئی۔

انسان کی بھوک ایسی چیز ہے جو اسے کسی صورت میں بھی چین سے نہیں بیٹھنے دیتی۔ رضا نے بھی محنت مزدوری شروع کی لیکن اس سے غربت دور نہ ہو سکتی تھی۔ اس صورتحال نے رضا کو بہت مایوس کر دیا اور وہ نشہ کرنے لگا۔ اس کی والدہ اس کے حالات کو دیکھ کر جلتی کڑھتی رہیں۔ ایک دن نشے کے عالم میں ہی وہ ایک بس سے ٹکرایا اور اس جہان فانی سے کوچ کر گیا اور اپنے پیچھے ماں کو روتا چھوڑ گیا۔

یہ کہانی یہاں مکمل نہیں ہوتی۔ رضا کا ایک کزن عبداللہ بھی تھا جو اسی قسم کے حالات سے نبرد آزما تھا۔ اس کی والدہ بھی محنت مزدوری کر کے اس کی پرورش کر رہی تھیں۔ کالج میں عبداللہ کی ملاقات ایک مذہبی تنظیم کے کارکنوں سے ہوئی۔ وہ ان کی باتوں سے متاثر ہوا اور اس تنظیم میں شامل ہو گیا۔ مذہبی تنظیم کے مبلغین دنیا کو فانی اور حقیر قرار دیتے اور اپنے کارکنوں سے مطالبہ کرتے کہ اس دنیا کے پیچھے اپنا وقت ضائع کرنے کی بجائے دین کی خدمت میں اپنی زندگی بسر کرنی چاہیے۔ دین کی خدمت سے ان کی مراد یہ تھی کہ کارکن اپنا وقت تنظیمی معاملات میں صرف کریں۔

ہم سب کے سب نئی تخلیقات کے موجد ہیں۔ ہم دریافت کے جہاز پر سوار ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کے پاس اپنا ہی ایک ایسا منصوبہ ہے جس کا ثانی دنیا میں موجود نہیں ہے۔ دنیا ہمارے لئے مواقع سے بھرپور ہے اور اس کے دروازے کھلے ہیں۔ رالف والڈو ایمرسن

اس پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بہت سے نوجوان اپنی تعلیم کو ترک کر چکے تھے اور پورا وقت تنظیمی معاملات میں لگا رہے تھے۔ عبداللہ بھی انہی معاملات کی وجہ سے ایک مرتبہ انٹر کے امتحان میں ناکام ہوا۔ عین ممکن تھا کہ عبداللہ بھی اپنی تعلیم کو ترک کر دیتا لیکن اس کی خوش قسمتی کہ اس کی ملاقات تنظیم کے ایک اعلی عہدے دار سے ہوئی۔ یہ صاحب تنظیم کے دوسرے قائدین کی نسبت کھلے ذہن کے تھے۔ انہوں نے عبداللہ کی ذہانت کو دیکھتے ہوئے اسے مشورہ دیا کہ وہ زیادہ وقت اپنی تعلیم میں صرف کرے کیونکہ ان کی تنظیم کو اعلی تعلیم یافتہ افراد کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ مشورہ عام قائدین کی سوچ کے برعکس تھا۔

عبداللہ نے نہایت محنت سے دوبارہ تعلیم کا سلسلہ شروع کیا اور جلد ہی انٹر پاس کر لیا۔ اس کے بعد اس نے گریجویشن اور ماسٹرز تک تعلیم مکمل کر لی۔ تعلیمی مصروفیات سے فارغ ہو کر جو وقت اس کے پاس بچتا، وہ اسے دینی معاملات میں صرف کرتا۔ کچھ مسائل پر اس کے اپنی تنظیمی قیادت سے اختلافات پیدا ہوئے اور اس نے تنظیم سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس نے اپنے طور پر دعوت دین کا کام جاری رکھا۔

پوسٹ گریجویشن کے بعد عبداللہ نے نوکری کی تلاش شروع کی۔ بالآخر اسے ایک کمپنی میں نوکری مل گئی۔ یہاں کام کلیریکل نوعیت کا تھا۔ دو تین سال کے بعد عبداللہ کو اندازہ ہوا کہ ملکی یونیورسٹی کی ڈگری کے ساتھ اسے کلرکی ہی مل سکتی ہے۔ اعلی عہدوں پر تو وہ لوگ فائز ہیں جن کا تعلق یا تو کسی بڑے خاندان سے ہے یا پھر وہ مغربی ممالک کے تعلیمی اداروں سے تعلیم یافتہ ہیں۔

عبداللہ نے ہمت نہ ہاری۔ اس نے تھوڑی تھوڑی رقم جمع کی اور انٹر نیٹ کے ذریعے برطانیہ کے ایک ایسے ادارے میں داخلہ لیا جس کی مارکیٹ میں بہت مانگ تھی۔ مسلسل محنت کر کے عبداللہ نے جلد ہی یہ امتحان پاس کر لیا۔ اس ڈگری کی بنیاد پر اسے جلد ہی ایک بہت اچھی نوکری مل گئی اور اس کی غربت دور ہو گئی۔ اب عبداللہ کو وہ سب کچھ حاصل ہو چکا تھا جس کی خواہش اس نے اور اس کے کزن رضا نے کی تھی۔ اس نے اپنی والدہ کے ساتھ ساتھ رضا کی والدہ کی خدمت کرنا بھی شروع کر دی۔ اس طرح رضا کی والدہ کو اپنے بیٹے کی صورت میں جو سکون نہ مل سکا تھا، وہ عبداللہ نے پورا کر دیا۔

عبداللہ کے ذہن میں جوانی کے اوائل ہی میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ اسے دین کی خدمت میں کچھ وقت صرف کرنا ہے اس وجہ سے اس نے اپنے وقت اور دولت کا ایک حصہ دین کے لئے وقف کر دیا اور آہستہ آہستہ اس نے دعوت دین کا ایک ادارہ قائم کر لیا۔

ان دونوں کی زندگی سے ہمیں بہت سے سبق ملتے ہیں۔

      غربت کا خاتمہ احتجاجی مظاہروں اور حکومت سے مطالبات کرنے سے کبھی نہیں ہو سکتا۔ جو شخص اپنی غربت کو ختم کرنا چاہتا ہے، اس کے لئے صرف اور صرف ایک راستہ ہے اور وہ ہے تعلیم۔

      جو لیڈر کسی طالب علم کو تعلیم سے ہٹا کر دوسری سرگرمیوں میں مشغول کرنا چاہتا ہے وہ اس کے ساتھ مخلص نہیں ہے۔ وہ دراصل اس طالب علم کی زندگی کی قیمت پر اپنے قد و کاٹھ میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔

      منفی طریق کار سے دوسروں کو پریشان تو کیا جا سکتا ہے لیکن ایک مثبت زندگی کی تعمیر کرنا ناممکن ہے۔ تعمیر صرف وہی کر سکتا ہے جو مثبت ذہن رکھتا ہو۔

      تعمیر کا کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ یہ ایک طویل جدوجہد کے بعد ہی ممکن ہے۔ اس کے برعکس تخریب کا کام تھوڑی سی دیر ہی میں مکمل ہو جاتا ہے۔

[نوٹ: رضا اور عبداللہ ہمارے معاشرے کے حقیقی کردار ہیں۔ بعض وجوہات کی بنیاد پر ان کے اصل ناموں کی بجائے فرضی نام استعمال کیے گئے ہیں۔]

(مصنف: محمد مبشر نذیر)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اپنے دوستوں کو بھی اس کا لنک بھیج دیجیے۔ اپنے سوالات اور تاثرات کے لئے ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      ایسے تین طریقے بیان کیجیے جن کی مدد سے ہمارے لیڈر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

      کیا غربت سے نجات کا کوئی شارٹ کٹ ہے؟ اگر ہے تو بیان کیجیے اور اگر نہیں ہے تو وہ شخصی خصوصیات بیان کیجیے جن کی مدد سے ترقی کا لمبا سفر طے کیا جا سکتا ہے۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter