بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by developing a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں  کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

پرائیویٹ تنظیموں کا جہاد

 

 

Click here for English Version

 

پی ڈی ایف فارمیٹ میں تحریر ڈاؤن لوڈ کیجیے۔

 

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

باپ اگر ماں کے حقوق ادا نہ کرے تو کیا بیٹا باپ کی جگہ لے سکتا ہے؟یہ وہ سوال تھاجسے سن کر میرے دوست کا لیکچر کچھ دیر کو رکا تو مجھے کچھ کہنے کا موقع ملا ورنہ پچھلے ایک گھنٹے سے وہ مسلسل بولے جا رہاتھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس وقت ہم پرجہاد فرض ہو گیا ہے کیونکہ دنیا میں کہیں بھی مسلم حکومتیں اپنے فرائض پورے نہیں کر رہیں اس لیے ہمیں خود آگے بڑھ کر جہاد شروع کر دینا چاہیے او ر حکومتوں کو معزول کر کے اقتدار خود سنبھال لینا چاہیے کیونکہ یہ انقلاب اور خلافت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔اس نے کہا کہ ظلم ، بہر حال ظلم ہے اور جو بھی مسلمان ظلم کو دیکھے اس کی ذمہ داری ہے کہ اسے طاقت( ہاتھ) سے روک دے۔ اگر یہ ہمت نہیں رکھتاتو زبان سے منع کرے ورنہ دل سے تو ضرور برا جانے ۔ وہ کہہ رہا تھا کہ بہترین جہاد جابر سلطان کے آگے کلمہ حق کہنا ہے۔وہ کہہ رہا تھا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہماری سب کی ذمہ داری ہے۔ وہ یہ بھی کہہ رہاتھا کہ اسلام غالب ہونے کے لیے آیا ہے، اب ہماری ذمہ دار ی ہے کہ دین کے غلبے کی جدوجہد کریں ۔اس سارے لیکچر میں وہ بہت ساری آیات اوراحادیث کے حوالے بھی دے رہا تھا۔

میں نے عرض کیا کہ جو قرآنی آیا ت یا احادیث تم پیش کر رہے ہو کیا ان کو تم سے پہلے بھی امت کے جلیل القد ر علما میں سے کسی نے سمجھنے کی کوشش ہے ؟ اس نے کہا کیوں نہیں، ہر دور میں علما یہ کام کرتے رہے ہیں۔میں نے کہا تم نے اپنی بات اوردعوت بیان کرنے سے قبل ،کیا ہرصدی کے جلیل القدر ائمہ اور علما کی بات سمجھ لی ہے ۔اس نے کہا ایسا تو نہیں ہے۔ میں نے کہا اصول یہ ہے کہ قرآن و حدیث کی ہر بات کوعلم کی پوری روایت کے اندر کھڑے ہو کر سمجھا جائے نہ کہ الگ سے۔ اور جب ہم اس روایت کے تسلسل میں کھڑ ے ہوتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ ساری آیات اور احادیث ہرصدی کے جید علما کا موضوع رہی ہیں ۔وہ ان کا مطلب بھی بیا ن کر تے رہے ہیں اور ان پر عمل بھی کرتے رہے ہیں۔

ہر صدی کے اکابر علمااورمحققین کا اس امر پر اتفاق رہا ہے کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکرصاحبان اقتدار کا کام ہے اور اس کے لیے قوت، اقتدار اور اتھارٹی کی ضرورت ہے ۔جس کے پاس ، جس دائرے میں جتنی اتھارٹی ہے وہ اسے صرف اسی دائرے میں استعمال کر نے کا مجاز ہے نہ کہ اس دائرے سے باہر یا جہاں اس کا دل کرے ۔ یہی مطلب اس حدیث کا ہے کہ جس میں ظلم اوربرائی کے خلاف ہاتھ یازبان یا دل کا ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جہاں کوئی ہاتھ استعمال کرنے کا مجاز ہے یعنی جہاں اسے ہاتھ کے استعمال کی اتھارٹی اوراجازت دی گئی ہے اس دائرے میں اگر وہ ہاتھ کا استعمال نہیں کرتا تو عنداللہ مسئول ہوگا اور جس دائرے میں وہ ہاتھ استعمال کر نے کا حق نہیں رکھتا وہاں زبان استعمال کرے گااوراگر زبان استعمال کرنے کا دائرہ بھی نہیں ہے تو دل سے لازماً برا جانے گا۔اور اس میں مضمر بات یہ بھی ہے کہ جہاں وہ ہاتھ استعمال کرنے کا مجاز نہ تھا وہاں اگر اس نے اس کو استعمال کیاتو پھر بھی مجرم ہوگا۔

ہماری غلط فہمی یہ ہے کہ ہر دائرے کو ہم اپنا دائرہ سمجھنے لگتے ہیں اور جو حقیقت میں اپنادائرہ ہوتا ہے اسے پہچاننے سے قاصر رہتے ہیں۔اپنے دائرے میں کام نہ کرنا اور دوسرے کے دائرے میں مداخلت بے جا معاشرے میں فساد کا موجب بنتی ہے ۔ جو کام حکومت کا ہے، اسے ہم اپنے ذمہ لینے کی کوشش کرتے ہیں اورجو کام ہمارے ذمہ ہے اسے پس پشت ڈالتے رہتے ہیں۔ ہمارے ذمے اپنے اوپر ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کا نفاذ ہے ، اپنے ماحول میں نیکی کی دعوت ہے اور اپنے اپنے دائرے میں نیکی کا بالقوۃ نفاذ ہے ۔مثلاً باپ اپنے گھر کا، افسر اپنے ماتحتوں کااورحاکم اپنی رعایا کا راعی ہے، وہاں اگر وہ ہاتھ استعمال نہیں کرے گا تو مجرم ہو گا ۔ ہم اپنے ہمسائے کے ساتھ 'ہاتھ'کے استعمال کے مجاز نہیں۔ وہاں البتہ زبان کے استعمال کا دائرہ ہے، وہاں اگر زبان استعمال نہیں کریں گے تو مجرم ہوں گے اور گھر میں موقع محل کے مطابق اگرہاتھ استعمال نہیں کریں گے تو مجرم ۔ جب ہم زبان کی جگہ ہاتھ اور ہاتھ کی جگہ زبان استعمال کرنے لگتے ہیں تو فساد پیدا ہوتا ہے۔

معاشرے پر قوانین کا بالقوۃ نفاذریاست کا کام ہے اور ریاست کی نمائندہ یعنی حکومت اگر یہ کام نہیں کرتی تو کیا ہم خود کرنے لگ جائیں؟ میرے دوست کا کہنا تھا کہ ہاں اگر حکومت نہیں کرے گی تو ہم خود کریں گے جب کہ میں عرض کر رہا تھا کہ تمہیں وہیں کرنا چاہیے جہاں اللہ اوراس کے رسول نے تمہیں اختیار د یا ہے۔ جہاں جو اختیار، اللہ نے تفویض کیا ہی نہیں، اس کے بارے میں وہ سوال بھی نہیں کرے گا۔

کوئی اپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہوتا دیکھے تب بھی قصاص لینے کامجاز نہیں۔ چور کو اپنے ہاتھوں پکڑبھی لے تب بھی ہاتھ کاٹنے کا مجاز نہیں کیونکہ حدودکے نفاذکی ذمہ داری اللہ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے ریاست کے سر ڈالی ہے ۔ فرد صرف ریاست کوبتائے گا اور مجرم پر حدکے نفاذمیں ریاست کی مدد کرے گا ۔ اس سے زیادہ فرد کی کوئی ذمہ داری نہیں۔کوئی کسی کے قاتل کو خود سے قتل کر دے اورکہے کہ میں نے قصاص لیا ہے، اس کا دعویٰ نہ صرف غلط سمجھا جائے گابلکہ وہ بھی قتل کا مجرم گردانا جائے گا حالانکہ اس نے اپنی طرف سے قصاص لیا ہے ۔

 اسی طرح جہاد ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ کوئی ایک فرد ، کوئی ایک گروہ ، کوئی ایک جماعت یا بہت سی جماعتیں مل کر بھی اپنے طور پر اس کی ذمہ دار نہیں ہیں ۔البتہ حکومت اور ریاست کو اس طرف متوجہ کرنا ان کی ذمہ داری ہے اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان کامطالبہ حق ہے تو وہ اس کے لیے ریاست کو مجبورکرنے کے لیے پرامن احتجاج اور پریشر بھی پیداکر سکتے ہیں۔ اور اس عمل میں اگر ریاست کی طرف سے تشد د ہو تو اس پر صبر، برداشت اور عزیمت یقیناحالات کو بدل کے رکھ دے گی۔مسلمانوں کی تاریخ میں اکابر نے ہمیشہ یہی کیا نہ کہ خود سے اقتدار کے داعی بن بیٹھے۔امام ابوحنیفہؒ سے لے کر امام مالکؒ تک اور امام مالکؒ سے لے کر امام احمد ؒبن حنبل تک سب نے یہ فریضہ ادا کیا ۔ جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کو پوری قوت سے کہامگر کسی نے نہ کوئی گروپ بنایا اورنہ جماعت ، نہ معاشرے میں انارکی پھیلائی اور نہ فساد کی بنارکھی۔خود ہر ظلم برداشت کیا ، اور ان کی یہی برداشت اورعزیمت ہی حکمرانوں کی موت بن گئی۔یہی نسخہ آج کے علما ، اکابر اور افراد کو استعمال کرنا چاہیے مگر یہ وادی ، وادی ء پرخا ر ہے اس میں کون قدم رکھے ؟

اللہ ہم سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تم نے دوسرے کے دائرے میں کام کیوں نہیں کیا، ہاں البتہ جو دائرہ ہمارے ذمے تھا اس کے بارے میں سوال ضرور ہو گا۔ ہم دوسروں کے کا م اپنے سر کیوں لیتے رہتے ہیں؟ قرآن مجید ابدی ہدایت کی کتاب ہے ۔ ہر قدم پر قرآن و سنت سے پوچھ پوچھ کر چلنا ہی ہماری فلاح کا باعث بن سکتا ہے ۔ ہمیں پوری دیانتداری سے اس بات کا تعین کرنا چاہیے کہ ہم اصل میں ہیں کیا؟ اور پھر جو حیثیت متعین ہو اس کے مطابق قرآن وسنت سے پوچھا جائے کہ اب ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ میں اگر ایک باپ ہوں تو مجھے قرآن وسنت سے پوچھنا ہے کہ بحیثیت باپ میری کیا ذمہ داری ہے ۔ میں اگر ایک طالب علم ہوں تو اس حیثیت سے ، میں ایک استاد ہوں تو اس حیثیت سے ، میں حاکم ہوں تو اس حیثیت سے، میں اگر محکوم ہوں تو اس حیثیت کے اعتبارسے قرآن وسنت سے پوچھوں کہ مجھے کیا کرنا ہے اور میرے فرائض کیا ہیں۔

قرآن مجید کا ہر حکم ہر ایک کے لیے نہیں ہے ۔ بعض احکام سب کے لیے اور بعض خاص خاص طبقات کے لیے ہیں، مثلاً بعض صرف علما کے لیے ، بعض صرف عام افراد کے لیے ، بعض صرف عورتوں کے لیے ، بعض صرف مردوں کے لیے ، بعض صرف اساتذہ کے لیے ، بعض صرف طلبا کے لیے اسی طرح بعض صرف حکمرانوں کے لیے اور بعض صرف رعایا کے لیے ۔ ہم اپنی حیثیت کا تعین ہی نہیں کر پاتے اور غلط فہمی سے حکومت سے متعلق احکام کو اپنے سے متعلق سمجھ لیتے ہیں۔ اور جو اپنے سے متعلق ہیں انہیں بھولے رہتے ہیں۔میں جب اپنی حیثیت متعین کرکے قرآن وسنت سے ہدایت کے لیے رجوع کروں گا تو ممکن نہیں کہ مجھے ہدایت نہ ملے لیکن مجھے اپنی حیثیت متعین کرنے میں دیانتدار ہونا چاہیے۔اگرعورت مردوں سے مخصوص احکام کو اپنے لیے سمجھ لے اور مردعورت سے مخصوص احکام کو اپنے لیے ، تو جو نتیجہ ظاہر ہونا ہے وہی مسلم معاشروں میں ظاہر ہو رہا ہے یعنی ابتری ، فساد اور انارکی۔

میری معروضات سن کر میرے دوست نے کہا: یہ باتیں تو ٹھیک ہیں اور تمہار ے سوال کا جواب بھی یہی ہے کہ جو بھی ہو جائے بیٹا باپ نہیں بن سکتا ،لیکن بات اصل میں یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے کہا: 'لیکن'سے تو پہلی بات کی نفی ہوجاتی ہے۔ ایک طرف تو تم یہ کہہ رہے ہو کہ بیٹا وہ جگہ نہیں لے سکتا اور دوسری طرف لیکن سے پھر وہی بات شروع کیے جار ہے ہو۔اس نے کہا لیکن دل نہیں مانتا۔میں نے عرض کی کہ قرآن و سنت کے احکامات دل کی مرضی سے وابستہ نہیں ہوتے بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے منشا پر منحصر ہوتے ہیں اور ہمارے دل کا کام یہ ہونا چاہیے کہ اس منشا کو دیانتداری سے سمجھنے کی کوشش کریں۔دل مانے یا نہ مانے ہمیں تو بہر حال حکم کے منشا کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی سعی کرنی ہے۔

المیہ یہی ہے کہ ہم وزنی سے وزنی اور مضبوط سے مضبوط دلیل پانے کے بعد بھی حتیٰ کہ قرآن و حدیث سن کر بھی 'لیکن' لگاکر اپنی بات پہ قائم رہنے کی نہ صرف سعی کرتے ہیں بلکہ دوسروں سے منوانے کی بھی ہر ممکن کوشش کر تے ہیں۔ہمارے ہاں پہلے سے موجود کچھ ذہنی سانچے ہوتے ہیں اورہم ان سانچوں کی تائید میں قرآن وحدیث سے دلائل ڈھونڈتے رہتے ہیں ۔ہم اپنے ذہنی سانچے قرآن و سنت سے پوچھ کرنہیں بناتے بلکہ سانچے پہلے بنا تے ہیں اور قرآن وسنت سے دلائل بعد میں لاتے ہیں اور اس بات کی کبھی زحمت ہی نہیں گوارا کرتے کہ ایک لمحے کو رک کر یہ بھی دیکھ لیں کہ کیا یہ سانچے درست بھی ہیں کہ نہیں۔میرے اس دوست کے بھی کچھ ایسے ہی سانچے تھے اور وہ پچھلے کئی برس سے پورے خلوص کے ساتھ ان سانچوں کے مطابق قرآن وسنت کو ڈھالنے کی کوشش میں مگن تھا۔اور آج بھی وہ یہی کام کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔اوراگر ، مگر، لیکن سے کام لے کر ہر بات کی نفی کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے سوچا میرے دوست پر ہی کیا موقوف ، دورِ حاضر میں تو اکثر مسلم جماعتیں ، تنظیمیں اور گروہ اسی اگر، مگر اور لیکن سے کام لے رہے ہیں۔لیکن سوال تو یہ ہے کہ اگر ، مگر اور لیکن کب تک؟

(محمد صدیق بخاری)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں  کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔  mubashirnazir100@gmail.com , mubashir.nazir@islamic-studies.info

غور فرمائیے!

۱۔  مصنف نے جن ذہنی سانچوں کا ذکر کیا ہے، وہ کیا ہیں اور کیسے بنتے ہیں؟  کیا آپ کے ذہن میں بھی ایسا کوئی سانچہ تو نہیں؟

۲۔  ہاتھ، زبان اور دل سے برائی کو روکنے سے متعلق حدیث کا صحیح مفہوم کیا ہے؟ ہمارے ہاں اس ضمن میں عام طور پر کیا غلطی کی جاتی ہے؟

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف     |     اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے    |   تیری مانند کون ہے؟    |    توحید خالص: اول     |     توحید خالص: دوم    |    خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم    |    خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم    |    اصلی مومن    |    نماز اور گناہ    |    رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟    |    اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب    |    حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟    |    ایمان کی آزمائش    |    اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی!    |    کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟    |    جنت کا مستحق کون ہے؟     |    کیا آپ تیار ہیں؟    |    میلا سووچ کا احتساب     |    ڈریم کروز    |    موبائل فون    |    خزانے کا نقشہ    |    دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت    |    منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں    |    لو لاک یا رسول اللہ!    |    درود شریف    |    رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو    |    حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب    |    دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی    |    کامیاب زندگی    |    یہ کیسی بری قناعت ہے!    |    مسئلہ شفاعت    |    نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے    |    کردار نہ کہ موروثی تعلق    |    اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ    |    اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی    |    مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء    |    مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی    |    نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟    |    دین اور عقل    |    دنیا کے ہوشیار    |    تنقید    |    ریاکاری اور مذہبی لوگ    |    دوغلا رویہ    |    اصول پسندی    |    بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار    |    فارم اور اسپرٹ    |    دو چہرے، ایک رویہ    |    عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت    |    شیخ الاسلام    |    کام یا نام    |    ہماری مذہبیت    |    نافرمانی کی دو بنیادیں    |    ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام    |    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث    |    آرنلڈ شیوازنگر کا سبق    |    آج کے بے ایمان    |    نئی بوتل اور پرانی شراب    |    جدید نسل    |    بے وقوف کون؟    |    غیبت    |    شبہات    |    بدگمانی اور تجسس    |    لکھ لیا کرو    |    عذر یا اعتراف    |    کبر و غرور اور علماء    |    دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام    |    برائی کی جڑ    |    تکبر اور بہادری میں فرق    |    اپنی خامی    |    مسلمان وہ ہے    |    تمسخر    |    منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟    |    عافیت کا راستہ    |    انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق    |    کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟    |    ایف آئی آر    |    لیجیے انقلاب آ گیا    |    18 اکتوبر کے سبق    |    مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی    |    جادو     |    وجود زن کے مصنوعی رنگ    |    فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان    |    سیکس کے بارے میں متضاد رویے    |    ہم جنس پرستی    |    عفت و عصمت    |    مغرب کی نقالی کا انجام    |    جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار    |    ساس اور بہو کا مسئلہ    |    یہ خوش اخلاقی    |     کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟    |    کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟    |    پہاڑی کا وعظ    |    شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟    |    ذکر، شکر، صبر اور نماز    |    تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل    |    نظام تربیت کا انتخاب    |    مسجد کا ماحول    |    خود آگہی اور SWOT Analysis    |    اپنی کوشش سے    |    الحمد للہ رب العالمین    |    لکھ کر سوچنے والے    |    اعتراف    |    کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟    |    صحیح سبق    |    زہریلا نشہ    |    میں کیا کروں؟    |    اپنے آپ کو پہچانیے    |    غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟    |    نور جہاں اور ارجمند بانو    |    سڑک بند ہے    |    مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے!    |    مزاج کی اہمیت    |    اور تالہ کھل گیا؟    |    اپنا چراغ جلا لیں    |    دو قسم کی مکھیاں    |    پازیٹو کرکٹ    |    نرم دل

محبت و نفرت    |    فرشتے، جانور اور انسان    |    غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے    |    اعتبار پیدا کیجیے!    |    بڑی بی کا مسئلہ    |    وسعت نظری    |    سبز یا نیلا؟؟؟    |    دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے    |    روایتی ذہن    |    کامیابی کے راز    |    تخلیقی صلاحیتیں    |    اسی خرچ سے    |    خوبصورتی اور زیب و زینت    |    بخل و اسراف    |    احساس برتری و احساس کمتری    |    قانون کا احترام    |    امن اور اقتصادی ترقی    |    موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟    |    فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے    |    لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation    |    یہی بہتر ہے    |    رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت    |    وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول)    |    وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم)    |    انسان اور حیوان    |    واقفیت کی کمی    |    صحافت اور فکری راہنمائی    |    نئی طاقت جاگ اٹھی    |    انسان اور جانور کا فرق    |    Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ    |    اسلام اور غیر مسلم اقوام    |    غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ    |    ہماری دلچسپی    |    ایک پاکستانی     |    بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد    |    غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟    |    دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے!    |    سب کا فائدہ    |    حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف    |    مہربانی کی مہک    |    دہی کے 1,000,000 ڈبے    |    عظمت والدین کا قرآنی تصور    |    تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ    |    شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟    |    گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟    |    بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟    |    بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟    |    برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟    |    لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق    |    اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے!

    |    جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر    |    شادی اور عورت    |    خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر    |    مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار    |    مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار    |    زمانے کے خلاف    |    مصر اور اسپین    |    ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال    |    جڑ کا کام    |    اسلام کا نفاذ یا نفوذ    |    غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ    |    اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ    |    دعوت دین کا ماڈل    |    مذہبی علماء کی زبان    |    زیڈان کی ٹکر    |    ون ڈش کا سبق    |    اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

C:\00-All\Personal\Website\Design 2010-04\PD\Urdu\PU05-0015-Quran.htm

C:\00-All\Personal\Website\Design 2010-04\PD\Urdu\PU05-0015-Quran.htm

Description: Description: Description: Description: Description: cool hit counter

http://www.statcounter.com/free_hit_counter.html