بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

ہم جنس پرستی

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

کچھ عرصہ پہلے اردن کے سفر کے دوران میرا گزر بحیرہ مردار (Dead Sea) کے جنوبی حصے سے ہوا۔ اس حصے میں عجیب و غریب کٹے پھٹے پہاڑ موجود تھے۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ اس علاقے میں کوئی ایٹم بم پھٹا ہو گا جس کے باعث ان پہاڑوں کی یہ حالت ہوئی ہو گی۔ میرے ذہن میں قرآن مجید اور بائبل کی یہ آیات گونجنے لگیں:

"پھر جب ہمارے فیصلے کا وقت آ پہنچا تو ہم نے اس بستی کو الٹ پلٹ کر دیا اور ان پر پکی مٹی کے پتھر برسائے جس میں سے ہر پتھر تیرے رب کے ہاں سے (اپنے ہدف کے لئے) نشان زدہ تھا۔" (ہود 11:82)

"دوسرے دن صبح سویرے ابرہام اٹھے اور اس مقام کو پلٹے جہاں وہ خداوند کے حضور (نماز کے لئے) کھڑے ہوتے تھے۔ انہوں نے نیچے سدوم اور عمورہ اس میدان کے سارے علاقے پر نظردوڑائی اور دیکھا کہ اس سرزمین سے کسی بھٹی کے دھویں جیسا گہرا دھواں اٹھ رہا تھا۔" (کتاب پیدائش 19:27-28)

جی ہاں، جہاں سے ہم گزر رہےتھے، یہ علاقہ سدوم اور عمورہ کا علاقہ تھا۔ جب لوط علیہ الصلوۃ والسلام یہاں آباد ہوئے تو بائبل کے بیان کے مطابق، یہ دور دور تک سرسبز و شاداب علاقہ تھا۔ اہل سدوم نہایت ہی بدکار قوم تھی۔ یہ لوگ دوسری اخلاقی خرابیوں کے علاوہ ہم جنس پرستی کے مرض میں بھی مبتلا تھے۔ بعض احمق لوگ اس فعل بد کو لواطت کہتے ہیں۔ سیدنا لوط علیہ الصلوۃ والسلام وہ پاکباز ہستی ہیں جنہوں نے اس فعل بد کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس فعل کو آپ سے موسوم کرنا یقیناً آپ کی شان میں بہت بڑی گستاخی ہے۔

جھوٹے نبیوں (اور راہنماؤں) سے ہوشیار رہنا۔ وہ تمہارے پاس بھیڑوں کی طرح آئیں گے مگر حقیقت میں وہ بھیڑیے کی طرح خطرناک ہوں گے۔ تم ان کے کاموں (اور تعلیمات) سے انہیں پہچان لو گے۔ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام

اللہ کے رسول کو جھٹلانے اور اپنی برائی پر اصرار اور سرکشی کے باعث قوم لوط پر اللہ کا عذاب آیا۔ قرآن مجید کے مطابق ان پر مٹی کے دہکتے پتھروں کی بارش کر کے انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ بائبل کے مطابق اس میں گندھک کی آمیزش بھی تھی۔ امریکی محقق رون وائٹ نے اس علاقے کی مٹی کے بارے میں جو تحقیقات کی ہیں، ان کے مطابق اس علاقے میں گندھک کثرت سے پائی جاتی ہے۔ اس علاقے میں عام زمین کے اوپر ایک اور زمینی تہہ (Geological Layer) پائی جاتی ہے جو رون کی تحقیقات کے مطابق عذاب والے مٹی اور پتھروں کی تہہ ہے۔ ان کی تحقیقات کو دیکھنے کے لیے اس لنک کو کلک کیجیے۔

http://wyattmuseum.com/cities-of-the-plain.htm

قرآن مجید نے جہاں جہاں اس قوم کا ذکر کیا وہاں ان کی اس بدفعلی کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس مقام پر قرآن مجید کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں پڑی کہ یہ بھی کوئی برائی ہے۔ قرآن نے اس کا ذکر ایک طے شدہ (Established) برائی کے طور پر کیا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پوری تاریخ انسانیت میں ہم جنس پرستی کو ایک برائی کی حیثیت ہی حاصل رہی ہے۔ اس سے استثنا صرف سدوم اور قدیم یونان کے لوگوں کو حاصل ہے یا پھر آج کے اہل مغرب میں سے ہم جنس پرستوں (Gays & Lesbians) کا ایک اقلیتی گروہ ہے جو اس فعل کی حمایت میں سرگرم ہوا ہے۔

ہمارے میڈیا میں اربوں روپیہ ایڈورٹائزنگ پر صرف کیا جاتا ہے۔ کیا اس ایڈورٹائزنگ سے معاشرے کو حقیقی فوائد حاصل ہوتے ہیں؟ موجودہ ایڈورٹائزنگ کے ہماری اصل زندگی یعنی آخرت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لئے اس تحریر کا مطالعہ کیجیے۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں نیکی اور بدی کا جو شعور ودیعت کیا ہے، انسانوں کی قلیل تعداد اس فطرت کو کبھی کبھی مسخ بھی کر لیا کرتی ہے جیسا کہ انسانوں نے اللہ تعالیٰ کی آسمانی ہدایت کو بھی کہیں کہیں مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس موقع پر اچھا ہے اگر میں سید مودودی صاحب کا ایک اقتباس نقل کرتا چلوں کیونکہ فطرت کے اس بیان کے لئے میں ان سے بہتر الفاظ نہیں پا رہا۔:

یہ بات بالکل صریح حقیقت ہے کہ مباشرت ہم جنسی قطعی طور پر وضع فطرت کے خلاف ہے۔ اللہ تعالی نے تمام ذی حیات انواع میں نر و مادہ کا فرق محض تناسل اور بقائے نوع کے لئے رکھا ہے اور نوع انسانی کے لئے اس کی مزید غرض یہ بھی ہے کہ دونوں صنفوں کے افراد مل کر ایک خاندان وجود میں لائیں اور اس سے تمدن کی بنیاد پڑے۔ اسی مقصد کے لئے مرد اور عورت کی دو الگ صنفیں بنائی گئی ہیں، ان میں ایک دوسرے کے لئے صنفی کشش پیدا کی گئی ہے، ان کی جسمانی ساخت اور نفسیاتی ترکیب ایک دوسرے کے جواب میں مقاصد زوجیت کے لئے عین مناسب بنائی گئی ہے اور ان کے جذب و انجذاب میں وہ لذت رکھی گئی ہے جو فطرت کے منشا کو پورا کرنے کے لئے بیک وقت داعی و محرک بھی ہے اور اس خدمت کا صلہ بھی۔ مگر جو شخص اپنے ہم جنس سے شہوانی لذت حاصل کرتا ہے وہ ایک ہی وقت میں متعدد جرائم کا مرتکب ہوتا ہے:

اولاً وہ اپنی اور اپنے معمول کی طبعی ساخت اور نفسیاتی ترکیب سے جنگ کرتا ہے اور اس میں خلل عظیم برپا کر دیتا ہے جس سے دونوں کے جسم، نفس اور اخلاق پر نہایت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ثانیاً وہ فطرت کے ساتھ غداری و خیانت کا ارتکاب کرتا ہے، کیونکہ فطرت نے جس لذت کو نوع اور تمدن کی خدمت کا صلہ بنایا تھا اور جس کے حصول کو فرائض اور ذمہ داریوں اور حقوق کے ساتھ وابستہ کیا تھا وہ اسے کسی خدمت کی بجا آوری اور کسی فرض اور حق کی ادائگی اور کسی ذمہ داری کے التزام کے بغیر چرا لیتا ہے۔

ثالثاً وہ انسانی اجتماع کے ساتھ کھلی بددیانتی کرتا ہے کہ جماعت کے قائم کیے ہوئے تمدنی اداروں سے فائدہ تو اٹھا لیتا ہے مگر جب اس کی اپنی باری آتی ہے تو حقوق اور فرائض اور ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کی بجائے اپنی قوتوں کو پوری خود غرضی کے ساتھ ایسے طریقہ پر استعمال کرتا ہے جو اجتماعی تمدن و اخلاق کے لیے صرف غیر مفید ہی نہیں بلکہ ایجاباً مضرت رساں ہے۔ وہ اپنے آپ کو نسل اور خاندان کی خدمت کے لیے نااہل بناتا ہے، اپنے ساتھ کم از کم ایک مرد کو غیر طبعی زنانہ پن میں مبتلا کرتا ہے، اور کم از کم دو عورتوں کے لیے بھی صنفی بے راہ روی اور اخلاقی پستی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ (تفہیم القرآن ج 2، ص 52)

آج کے ہم جنس پرست اپنے غلیظ کاموں کے جواز میں جو پروپیگنڈا کر رہے ہیں، اس کی بنیاد میں وہ بائیو کیمسٹری کے کچھ تصورات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ہم جنس پرست انسان کے جسم و دماغ میں کچھ کیمیکلز ایسے ہوتے ہیں جن کے باعث اس کا فطری میلان صنف مخالف کی بجائے اپنی ہی صنف کی طرف ہو جاتا ہے۔ یہ میلان ان کے ڈی این اے میں ہی ودیعت کیا ہوا ہوتا ہے۔ چونکہ یہ چیز ان کے اختیار میں نہیں، اس لیے معاشرے کو ہم جنس پرستوں کو قبول کر لینا چاہیے۔

ان کے اس مغالطے کا کم از کم اردو لٹریچر میں مجھے جواب نہیں ملا اس لیے اس پر کچھ جملے لکھنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ اگر ہم جنس پرستوں کے کیمیکلز میں کچھ مسئلہ ہے بھی، تو معاشرے کو ان کے مضر اخلاقی اثرات سے بچانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان کا علاج کیا جائے۔ میڈیکل سائنس اب اس قدر ترقی کر چکی ہے کہ ادویات کی مدد سے اس مسئلےکو دور کیا جا سکتا ہے۔ رہا مسئلہ جینز اور ڈی این اے کا تو یہ ابھی تک محض ایک مفروضہ ہے جسے کوئی بھی ثابت نہیں کر سکا۔ ہم جنس پرستوں کے مسائل پر کی گئی تحقیقات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کم عمری ہی میں بری صحبتوں کا شکار ہو کر یہ عادات اپنا لیتے ہیں جو عمر کے ساتھ ساتھ پختہ ہوتی چلی جاتی ہیں۔ کسی اچھے ماہر نفسیات بالخصوص ہپناٹسٹ یا پھر اچھے سائیکاٹرسٹ کی مدد سے ان عادات سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

(مصنف: محمد مبشر نذیر)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      ہم جنس پرستی کی اصل وجہ کیا ہے؟ جسم کی بائیو کیمسٹری یا بری صحبت؟

      ہم جنس پرستی کا علاج کیسے کرنا چاہیے؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter