بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

جادو

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلا تَكْفُرْ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللَّهِ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلا يَنفَعُهُمْ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنْ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ خَلاقٍ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ۔ (البقرۃ 2: 102)

وہ لوگ (اللہ کی کتاب کو چھوڑ کر) ان چیزوں کی پیروی کرنے لگے جو شیاطین سلیمان کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے، حالانکہ سلیمان نے کبھی کفر نیہں کیا۔ کفر کے مرتکب تو وہ شیاطین تھے جو لوگوں کو جادو کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ وہ اس چیز کے پیچھے پڑ گئے جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر نازل کی گئی تھی، حالانکہ وہ جب بھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تو صاف طور پر متنبہ کر دیتے کہ "دیکھو، ہم محض ایک آزمائش ہیں تو کفر مت کرنا۔" پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیز سیکھتے تھے جس سے شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ ظاہر ہے کہ وہ بغیر اللہ کی اجازت کے وہ اس ذریعے سے کسی کو نقصان نہ پہنچا سکتے تھے، مگر اس کے باوجود وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو خود ان کے لئے نفع بخش ہونے کی بجائے نقصان دہ تھی۔ انہیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدار بنا، اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ کتنی بری متاع تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ دیا، کاش کہ وہ (حقیقی طور پر) اس بات کو جانتے!!!

کسی صاحب ایمان پر لعنت بھیجنا اور اس پر کفر کا فتوی لگانا سے قتل کر دینے کے مترادف ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم

اپنے پہلے انتشار (First Diaspora) کے دوران بنی اسرائیل کی کثیر تعداد کو بابل کا حکمران نبوکد نضر غلام بنا کر بابل میں لے گیا تھا۔ یہاں ان کا اخلاقی انحطاط اپنے عروج کو پہنچ گیا۔ ان کے ہاں ایسے بہت سے عامل پیدا ہو گئے جو جادو جیسے قبیح فعل میں نہ صرف یہ کہ خود مبتلا ہوئے بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اس کی تعلیم دینے لگے۔ اس پر ان کی جرأت دیکھئے کہ انہوں نے اپنے اس فعل کو سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام جیسے جلیل القدر نبی کی طرف منسوب کر دیا۔

اللہ تعالی ان لوگوں پر اتمام حجت کے لئے دو فرشتوں کو بابل میں بھیجا جو انہیں بعض نفسی علوم (Para-psychology) کی تعلیم دیا کرتے تھے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی بتا دیتے کہ ہم محض ایک آزمائش ہیں۔ اللہ تعالی کے فرشتوں سے یہ بعید ہے کہ وہ انہیں جادو جیسی غلیظ چیز کی تعلیم دیتے۔ بعض مفسرین کا یہ قول درست ہے کہ یہ فرشتے انہیں کچھ اور نفسی علوم جیسے ہپناٹزم وغیرہ کی تعلیم دیا کرتے تھے۔

یہ لوگ ان سے یہ علوم سیکھ کر ان کی مدد سے کئی کرتب وغیرہ دکھایا کرتے۔ ان کے اخلاقی انحطاط کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے ان علوم کی مدد سے دوسروں کی بیویوں پر ڈورے ڈالنا شروع کر دیے اور ان میں طلاق کروا کر انہیں اپنی طرف مائل کرنے لگے۔

امام شافعی کی کتاب الرسالہ کا آسان اردو ترجمہ۔ قرآن، سنت، اجماع اور قیاس کو سمجھنے کا طریق کار کیا ہے؟ عام اور خاص سے کیا مراد ہے؟ حدیث کے صحیح ہونے کو پرکھنے کا طریق کار کیا ہے؟ علماء کے اختلاف رائے کی صورت میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجیے۔

جادو کی حقیقت تو اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے۔ اس کے بارے میں جو عام معلومات دستیاب ہیں ان کے مطابق جادوگر شیاطین جن و انس سے تعلقات استوار کر کے کچھ دو اور کچھ لو کی بنیاد پر ان سے کچھ کام کروا لیتے ہیں۔ اس کے ذریعے وہ سامنے والے کے حواس عارضی طور پر معطل کر کے اس کے ذہن پر اپنی مرضی کے اثرات مرتب کر لیتے ہیں۔ اس عمل میں ان جادوگروں کو بہت سے شرکیہ اور غلیظ کام کرنے پڑتے ہیں اور شیاطین سے مدد مانگنا پڑتی ہے جس کے باعث ان کا ایمان جاتا رہتا ہے۔ جادوگروں کی عام پہچان یہ ہے کہ اپنے عمل کے لئے یہ لوگ نام کے ساتھ ماں کا ضرور پوچھتے ہیں اور کسی ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو جسم سے مس ہوتی ہو۔ ان کے عمل زیادہ تر بال، جوتے، بنیان وغیرہ پر ہوا کرتے ہیں۔

قدیم بابل کے رہنے والے لوگوں کے اس اخلاقی انحطاط کا عکس ہم اپنے معاشرے میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی ایسے عاملوں کی کمی نہیں جو غلیظ شرکیہ افعال کے ذریعے لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں اور "سنگ دل محبوب آپ کے قدموں میں" قسم کے نعروں سے عوام کو متوجہ کرتے ہیں۔ قرآن مجید نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ جو ایسے کام کرے گا اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اگر ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں تو ہمیں اس قسم کے تمام کاموں سے بچنا ہو گا اور اپنی مشکلات کے حل کے لئے ضروری اسباب کے ساتھ ساتھ اللہ پر توکل اور اسی سے مدد مانگنے کی عادت کو اپنانا ہو گا۔

صحیح مسلم کی ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بیان فرمایا ہے کہ شیطان اپنے ایجنٹوں کے بڑے بڑے کارناموں پر خوش نہیں ہوتا لیکن اس بات پر بہت خوش ہوتا ہے کہ اس کا کوئی پیروکار میاں بیوی کے درمیان تفریق کروا دے۔ اس علیحدگی کے نتیجے میں مرد اور عورت پر تو جو نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں، ان کی اولاد اس کے نتیجے میں شدید متاثر ہوتی ہے اور ذہنی مریض بن کر رہ جاتی ہے۔ جادو کے شائقین کا مقصد یہ ہوا کرتا ہے کہ وہ دوسروں میں علیحدگی کروا کر انہیں اپنی طرف مائل کر سکیں۔

ہمیں اس عمل سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے اور ایسا کرنے والے عاملین کی بھرپور حوصلہ شکنی کرنی چاہیے اور ان کی بیخ کنی کی جدوجہد کو جاری رکھنا چاہیے۔

(مصنف: محمد مبشر نذیر)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      ہمارے دیہی علاقوں میں خاص طور پر جادو ٹونے کا بہت زور ہے۔ اس کے پس پردہ عوامل کا تجزیہ کرتے ہوئے بیان کیجیے کہ ایسا کیوں ہے؟

      جادو ٹونے میں پڑنے والی شخصیت کی پانچ خصوصیات بیان کیجیے۔ جادو کرنے سے انسانی شخصیت پر کیا اثرات مرتب ہوا کرتے ہیں؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter