بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

دور جدید میں امت مسلمہ نے جن عظیم ترین لوگوں کو جنم دیاہے ان میں ایک نمایاں ترین نام علامہ اقبال (1877-1938) کا ہے۔ اقبال نے جس دور میں ہوش سنبھالا، اس دور میں امت مسلمہ اپنی تاریخ کے بدترین علمی، فکری، عملی اور سیاسی زوال کا شکار تھی۔ 1857 میں مغلیہ سلطنت کا خاتمہ اگر اقبال کی پیدائش سے ذرا قبل ہوا تھا تو خلافت عثمانیہ کا خاتمہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ جدید علوم سے ناواقفیت اور دینی علوم میں جمود اگر ان سے قبل مسلمانوں کا طریقہ تھا تو مغرب کی اندھی تقلید اور دور جدید سے آنکھیں بند کرلینے کی دو انتہاؤں کو انہوں نے اپنے سامنے مسلم معاشرے میں پنپتے دیکھا۔ مسلمانوں کا عظیم ماضی اگر ان سے پہلے تاریخ کی ایک داستان بن چکا تھا تو مغربی افکار اور سوشلسٹ انقلاب کو انہوں نے اپنی آنکھو ں سے انسانیت کی نئی تاریخ بناتے ہوئے دیکھا۔

سیاسی غلامی، فکری انحطاط اور مذہبی جمود کے ان حالات میں جنم لینے والے بلند پرواز اقبال کے ذمے ملت کی رہنمائی کا عظیم کام تھا۔ وہ اس کام کو کرنے کے پوری طرح اہل بھی تھے۔ وہ ایک درد مند انسان تھے جنہیں دردِ دل کے ساتھ فکر و نظر سے بھی نوازا گیا تھا۔ جہاں جدید علم و فکر، نئی روشنی اورمغربی اقوام کے حالات سے وہ واقف تھے تو مذہبی علوم، مسلم تاریخ اور امت کے مسائل پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔ ان کا سرمایہ گہری نظر اور وسیع علم تک ہی محدود نہ تھا بلکہ اس کے ابلاغ کے لیے اپنے زمانے کے موثر ترین ذریعہ یعنی شاعری پر انہیں انتہائی غیر معمولی عبور تھا۔ ان کی مخاطب قوم اگر زوال اور مایوسی کی دلدل میں دھنسی ہوئی تھی تو اس کے ساتھ ہی وہ شدت سے کسی بانگ درا ، کسی فکری قائد کی رہنمائی قبول کرنے کے لیے ذہناً تیار بھی تھی۔

یہ وہ حالات تھے جن میں علامہ اقبال ا ٹھے اور اپنے سوز، ترنم اور شعلہ بیانی سے مسلمانوں کے قافلہ کو جھنجھوڑ کررکھ دیا۔ اقبال کے افکار نے مسلمانوں کو مایوسی کے گرداب سے نکالا، اہل مغرب کی ذہنی غلامی میں جانے سے روکا، کمیونزم کے بڑھتے سیلاب کے سامنے سر جھکانے سے باز رکھا اور کچھ ہی عرصے میں انہوں نے ہندو تہذیب کے بالمقابل دنیا کی سب سے بڑی مسلم سلطنت کی بنیاد رکھ دی۔

اقبال کے افکار و خیالات کو اگر علامتی طور پر ان کی شاعری ہی سے کوئی نام دیا جا سکتا ہے تو وہ مسجد قرطبہ کا نام ہے۔ یہ اقبال کی وہ معرکۃ الآرا نظم ہے جسے اردو زبان کا تاج محل کہا جاتا ہے۔ فنی محاسن سے قطع نظر یہ ان کے افکار کے بنیادی نقطے کو بھی بہترین طریقے پر بیان کرتی ہے۔ یعنی مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بحالی۔

جو شخص حصول علم کی مشکلات نہیں جھیلتا، اسے ساری عمر جہالت کی وجہ سے سختیاں جھیلنا پڑتی ہیں۔ ارسطو

اسپین کے شہر قرطبہ میں واقع یہ مسجد مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ عظمت رفتہ کے ایک نشان کے طور پر باقی ہے۔ یہ مسجد علامتی طور پر اس سانحے کو بیان کرتی ہے کہ کس طرح مسلمانوں نے ہزار برس تک دنیا پر حکومت کی اور پھر ان کا اقتدار مسیحی طاقتوں کے قدموں تلے روندا گیا۔ مگر اقبال اس مسجد میں بیٹھ کر، اس شہر میں ٹھیر کر اور اس کے دریا الکبیر کے کنارے کھڑے ہو کر مسلمانوں کے اندر عشق کی روح پھونکتے ہیں اور پھر ایک نئے زمانے کا خواب دیکھتے ہیں ۔

آبِروانِ کبیر تیرے کنارے کوئی

دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ بیسویں صدی کے آغاز میں سامنے آنے والے اقبال کے افکار اس صدی کے خاتمے تک اصل میں مسلمانوں کی بنیادی فکری غذا رہے اور بعد میں پیدا ہونے والے فکری رہنما بھی اصل میں اقبال کا پھونکا ہوا صور ہی نئے سروں میں دہراتے رہے۔ تاہم ایک صدی بعد یہ حقیقت بالکل واضح ہوچکی ہے کہ اقبال کی تمام تر عظمت کے باوجود مسلمانوں کے مسائل ،کچھ زمانی تبدیلیوں کے ساتھ آج بھی اسی طرح موجود ہیں ۔

اقبال نے جس عظمت رفتہ کا خواب دیکھا تھاوہ آج بھی اپنی تعبیر سے محروم ہے۔ اقبال جس مرد مومن کی نوید دیتے تھے وہ تو پیدا نہ ہوسکا، افرادِ ملت میں رہی سہی اخلاقی حس بھی کمزور پڑگئی۔ اقبال اسلامی قانون کے جن مسائل کا حل اجتہاد کی راہ میں ڈھونڈتے تھے وہ تو سامنے نہ آسکا البتہ خود شراب کے حرام ہونے نہ ہونے کی بحثیں اقبال کے اپنے گھر سے پیدا ہوئیں۔ اقبال کا اتحادِ امت کا درس پہلے خلیج بنگال کی نظر ہوا اور اب باقی پاکستان کئی قومیتوں کے درمیان اپنی بقا کی آخری جنگ لڑ رہا ہے۔ اقبال کے ممولے اور کبوتر مغربی شاہینوں سے لڑتے لڑتے اب خود مسلمانوں پر خود کش حملے کرنے لگے ہیں ۔

علوم الحدیث کی صورت میں قدیم دور کے مسلمانوں نے ایسے فنون ایجاد کیے جن کی مثال اس سے پہلے اور بعد کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ جرمن ماہر اسپرنگر نے اس کارنامے پر مسلمانوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ یہ علوم کیا ہیں؟ تفصیل کے لئے "علوم الحدیث: ایک تعارف" کا مطالعہ فرمائیے۔

ان حالات میں یہ ضروری ہوچکا ہے کہ ہم مان لیں کہ مسلمانوں کی قدیم فکری روایت کے آخری بڑے آدمی یعنی اقبال کی رہنمائی ہمارے مسائل کا حقیقی حل نہیں تھی۔ ہم مان لیں کہ مسجد قرطبہ کا ماڈل مسلمانوں کے مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے مسائل کا حل ان تین مسجدوں کا ماڈل ہے جو اس قابل ہیں کہ ان کی زیارت کے لیے جایا جائے۔ یعنی مسجد الحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ۔ ان تینوں مسجدوں کی نمائندگی کے طور پر ہم اگر علامت بنانا چاہیں تو ان تین مساجد میں سے مسجد اقصیٰ کو علامت بنایا جاسکتا ہے کیونکہ مسجد قرطبہ کی طرح یہ مسجد بھی اس وقت مسلمانوں کے قبضے سے نکل گئی ہے اور دوسری بات جو ہمارے حوالے سے زیادہ اہم ہے کہ سابقہ امت کے دور زوال کی جنگ مسجد اقصیٰ ہی میں لڑی گئی تھی۔

مسجد اقصیٰ میں سیکڑوں انبیا اور ہزارہا صالحین نے جو داستان لکھی اور جو جنگ لڑی وہ سیاسی اقتدار کی نہیں بلکہ توحید کی جنگ تھی۔ وہ جب غالب ہوئے تب بھی اور سیاسی طور پر مغلوب ہوئے تب بھی ان کی جنگ صرف یہ تھی کہ بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر خالق کی غلامی میں لایا جائے۔ چنانچہ بنی اسرائیل کے آخری رسول حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام دور غلامی میں پیدا ہوئے۔ مگر اپنی قوم میں عظمت رفتہ کا صور پھونکنے کے بجائے انہوں نے ان کی اخلاقی غلطیوں پر متنبہ کیااور لوگوں کو ہدایت کے اس منصب کی طرف متوجہ کیا جس پر بنی اسرائیل فائز تھے۔

آج بھی مسلمانوں کا کام یہی ہے۔ انہیں اپنی عظمت رفتہ کی نہیں توحید کی جنگ لڑنی ہے۔ ان کی اصل ضرورت ان کے اقتدار سے زیادہ ان کے اخلاق کی بحالی ہے۔ ان کا ماڈل مسجد قرطبہ نہیں مسجد اقصیٰ ہونا چاہیے۔ یہی وہ ماڈل ہے جو نہ صرف انہیں رب کی نظر میں محبوب بنائے گا بلکہ چند برسوں میں انہیں دنیا کا حکمران بھی بنا دے گا۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      مصنف نے مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی کے جن ماڈلز کا تقابل پیش کیا ہے، انہیں ایک ایک پیراگراف میں بیان کیجیے۔

      مسلمان پچھلی ایک صدی سے مسجد قرطبہ والے ماڈل کے تحت اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس میں ان کیا کامیابیاں اور کیا ناکامیاں حاصل ہوئی ہیں؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter