بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

ایف آئی آر

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

[30مئی 2005 کو گلشن اقبال کراچی میں واقع ایک امام بارگاہ پر خود کش حملہ ہوا۔ پولیس نے یہ حملہ ناکام بنادیا اور دونوں حملہ آور مارے گئے۔ البتہ کچھ نمازی زخمی ہوئے۔ اس کے بعد مشتعل مظاہرین نے جلاؤ گھیراؤ شروع کردیا۔ امام بارگاہ سے متصل KFC کے ریسٹورنٹ کو آگ لگادی گئی جہاں موجود چھ ملازمین آگ میں جھلس کر مر گئے۔ مرنے والوں میں میرا ایک عزیز دوست اور رشتہ دار آصف بھی شامل تھا۔ میں آصف کی موت اور نتیجے کے طور پر اس کے خاندان کی بربادی میں عرصے تک خدا کی کوئی مصلحت ڈھونڈتا رہا مگر مجھے احساس ہوتا ہے کہ آصف کی جواں موت اتنی بے مصرف نہیں گئی۔ اس لیے کہ میں اس پیغام کو، اپنی بے سروسامانی کے باعث، ایک رسالے کے قالب میں ڈھالنے کی ہمت نہیں کر پارہا تھا، مگر آصف کی موت نے مجھے مجبور کردیا کہ میں ہر حال میں اس مشن کا آغاز کروں، اس سے قبل کہ پوری قوم اس آگ میں جھلس جائے جس نے آصف اور اس کے خاندان کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔ پیشِ نظر تاثراتی مضمون میں نے اُسی روز لکھا تھا جو قارئین کے لیے پیشِ خدمت ہے۔ ریحان احمد یوسفی]

 

درست ذہنی رویہ رکھنے والے کو دنیا کی کوئی طاقت کامیاب ہونے سے روک نہیں سکتی اور غلط ذہنی رویہ رکھنے والے کو دنیا کی کوئی طاقت کامیاب کی طرف لے جا نہیں سکتی۔ تھامسن جیفرسن

ایف آئی آر لکھوانے کا یہ میرا پہلا اتفاق تھا مگرمیری خوش قسمتی یہ تھی کہ اس ایف آئی آر کے لیے میں کسی تھانے میںموجود نہ تھا۔ یہ ایف آئی آر ایک قتل کی تھی اور میرا چہرہ آسمان کی طرف تھا۔

میرے کانوں میں ایک غمزدہ ماں اورایک نوجوان بیوہ کے سسکنے کی آوازیں آرہی تھیں۔رات بھر میں ان کے رونے کی سکت ختم ہوچکی تھی۔میں نے نظر دوڑائی تو آصف کی دونوں معصوم بچیاں اپنے ننھے ہاتھوں میں بسکٹ پکڑے باپ کے جنازے کے گرد منڈلارہی تھیں۔ وہ اتنی کم عمر تھیں کہ یہ بھی نہ جان سکیں کہ ان کے ساتھ کیا سانحہ پیش آچکا ہے۔ذرا قریب ہی آصف کی بہنیں شدت غم سے نڈھال اپنے جوان بھائی کی ناگہانی موت پر حسرت ویاس کی تصویر بنی بیٹھی تھیں۔ اس جواں مرگ پرہر آنکھ اشکبار اور ہر چہرہ اداس تھا۔

میں جب جب اس منظر کو دیکھتا تومیرا کلیجہ پھٹنے لگتا۔ آصف اپنے گھر کا واحد کفیل تھا۔ بیوہ ماں کا واحد سہارا، بہنوں کی تمناؤں کا مرکزاور دو معصوم بچیوں کا باپ۔سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ آصف کی جوان موت کا غم بڑ ا ہے یا پیچھے رہ جانے والوں کے مسائل زیادہ بڑے ہیں۔ میں غموں کے پہاڑ کو تولنے کے لیے کسی ترازو کی تلاش میں تھا کہ کان میں ایک شخص کی آواز آئی۔ یہ آواز آصف کی خوش قسمتی پر داد دے رہی تھی کہ مرنے والوں میں آصف واحد شخص تھا جس کی لاش صحیح سالم برآمد ہوئی تھی۔ کے ایف سی کو لگائی جانے والی آگ اتنی شدید تھی کہ مرنے والے دیگر نوجوانوں کی لاشیں بری طرح جھلس گئیں تھیں۔ شاید ان کا جرم ہی اتنا بڑا تھا۔ عالم اسلام کے سب سے بڑے دشمن ملک کی ایک فوڈ چین کے نام سے چلنے والے ریسٹورنٹ میں ملازمت کرتے تھے۔ بھلایہ کوئی معمولی جرم ہے؟

موجودہ دور کی بین الاقوامی سیاست میں کیا عوامل کار فرما ہیں؟ عصر حاضر کی اسلامی تحریک کو امریکی دانشور کس نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں؟ اسلام اور مغرب کے مابین موجودہ تصادم کی حرکیات کیا ہیں؟ اسلامی جماعتیں کیا کردار ادا کر رہی ہیں؟ ان سوالات کا جواب مشہور امریکی مصنف جان ایل ایسپوزیٹو نے تلاش کرنے کی کوشش کی ہے؟ یہ مضمون ان کی کتاب کے تعارف پر مشتمل ہے۔ پڑھنے کے لئے کلک کیجیے۔

میں نے ایک نظر آصف کے کفنائے ہوئے جسد پر ڈالی۔ وہ بڑی گہری نیند سورہا تھا۔اس نے محنت بھی تو بہت کی تھی۔مہنگائی کے عفریت سے مقابلہ کرنے کے لیے گھر کا یہ تنہا کفیل دو ملازمتیں کرتا تھا۔KFC اس کی دوسری ملازمت تھی، جہاں رات گئے تک وہ ان لوگوں کی لذتِ کام و دہن کا اہتمام کرتا تھاجو مہنگائی کے مسئلے سے بے نیازہیں۔وہ میری امی سے کہتا تھا کہ میری بڑی خواہش ہے کہ کبھی نیند بھر کر سوجاؤں۔آخر جوانی کی نیند تو جوانی کی ہوتی ہے۔میں نے اسے دیکھا اور کہا ،آج تمھاری خواہش پوری ہوئی۔ اب سوجاؤ نیند بھرکے۔

مجھ سے ضبط نہ ہوسکا۔ میں آصف کے پاس سے ہٹا اور اس کے پاس چلا آیا جو ایک روز تمام سوتے ہوؤں کو جگانے والا ہے۔ میں نے اسے دیکھا اور کہا کہ مجھے ایک ایف آئی آر لکھوانی ہے۔میں آصف کے قتل اور اس کے خاندان کی بربادی کے مقدمے کو تیری بارگاہ میں درج کرانا چاہتا ہوں۔ پوچھا گیا، کس کے خلاف مقدمہ کرنا چاہتے ہو؟

میں نے کہا،آگ لگانے والوں کے خلاف اور آگ لگانے والوں میں نفرت اور انتقام کے شعلے بھڑکانے والوں کے خلاف۔ ان لوگوں کے خلاف جن کی تحریریں ذہنوں میں نفرت کا زہر گھولتی اور جن کی زبانیں دلوں میں آتشِ غضب بھڑکاتی ہیں۔جو فرقہ واریت کے اسیر ہیں اور اسی کی زنجیروں میں پورے معاشرے کو جکڑنا چاہتے ہیں۔ جو کسی قوم اور گروہ کی دشمنی پر اترتے ہیں تو عدل کے ہر پیمانے کو بھول جاتے ہیں۔ جو قانون شکنی ،لوٹ مار،جلاؤ گھیراؤ اور جان مال آبروکی بربادی پر لوگوں کو ابھارتے ہیں۔جو تعمیر کے بجائے تخریب سے خوش ہوتے ہیں۔ جوایک قوم اور گروہ کو کافر اور دشمن قرار دیتے ہیں تو اس کے ہر مرد و عورت، بچے بوڑھے، مقاتل و غیر مقاتل کی جان کو مباح قرار دیتے ہیں۔ جو خود کش حملوں کی تربیت دیتے اور ان کی تائید کرتے ہیں۔ جو بے گناہ لوگوں کو اپنے خود ساختہ اصولوں کی بنیاد پر مجرم قرار دے کر انہیں عذاب میں مبتلا کرتے ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جو خود نفرت کے اندھیروں کے مسافر ہیں اور اس کے علاج کے لیے نفرت کے مزید اندھیرے تجویز کرتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو خود رب العالمین کے غضب کا شکار ہیں اور اس کے حضور توبہ کرنے کے بجائے مزید لوگوں کو خدا کے غضب میں مبتلا کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو انسانوں پر حق کی شہادت دینے کے بجائے ان سے اپنے حقوق کی جنگ لڑتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے غیر مسلموں کو اسلام کا مدعو بنانے کے بجائے انہیں اسلام کا عدو بنادیا ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جن کا کُل سرمایہ وہ نظریہ سازش ہے جس کی عینک لگانے کے بعد ہر شخص اپنا دشمن نظر آتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ضد ہٹ دھرمی پر جب اترتے ہیں تو قرآن کا ہر حکم، رسول کا ہر فرمان اورعقل کی ہر بات ان کے سامنے بے وقعت ہوجاتی ہے۔یہ وہ لوگ ہیں کہ جب اختلاف کرتے ہیں تو اسے عناد تک پہنچادیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب خدا کے بندے انہیں صحیح بات کی طرف بلاتے ہیں تو بنی اسرائیل کی طرح ان کی جان کے درپے ہوجاتے ہیں۔

جنازہ ظہر کے بعد پڑھا جانا تھا۔جماعت سے پہلے نفل نماز پڑھتے ہوئے جب میں سجدہ میں گیا تو دیر تک سر نہ اٹھاسکا۔ ۔ ۔ یہاں تک کہ فیصلہ ہوگیا۔ آگ لگانے والوں کے لیے آگ ہے اور آ گ پھیلانے والوں کے لیے محرومی۔ پہلوں کے لیے خداوند کی رحمت سے دوری لکھ دی گئی اور دوسروں کے لیے امت کی امامت سے معزولی۔ رہا آصف تو اس کا استقبال کیا جاچکا۔

موذن کی صدا آئی اور پروردگار عالم، تمام جہانوں کے مالک کی بڑائی زمین پر بھی اسی طرح بیان ہونا شروع ہوگئی جس طرح آسمانوں پر ہوتی ہے۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      ہمارے ہاں انتہا پسندانہ نظریات کو کس طریقے سے فروغ دیا گیا ہے؟

      ہم کس طریقے سے انسانی جان کی اہمیت کو اپنے معاشرے میں اجاگر کر سکتے ہیں؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter