بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

حج مسلمانوں کی عظیم ترین عبادات میں سے ایک ہے۔ ہر عاقل و بالغ اور صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک دفعہ حج کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔ہر سال بہت بڑی تعداد میں مسلمان حج کرنے کے لیے جاتے ہیں۔ اس سال بھی دنیا کے 180 ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 25 لاکھ حاجی یہ سعادت حاصل کرنے حرم پاک آئے۔

حج کے مناسک میں سے ایک اہم رکن رمی جمرات ہے ۔ یعنی حاجی منی میں قیام کے دوران میں ان تین ستونوں کو کنکریاں مارتے ہیں جو علامتی طور پر شیطان کی نمائندگی کرتی ہیں۔اکثر و بیشتر اس موقع پر حادثے پیش آتے رہتے ہیں۔ اس سال بھی منیٰ میں قیام کے آخری دن رمی کے موقع پر بھگدڑ مچی جس میں 410 حاجی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد تقریباً 1000 ہے۔ اس سے قبل بھی کئی مواقع پر اسی قسم کے واقعات میں ہزاروں حاجی جاں بحق ہوچکے ہیں۔ اس حادثے کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں اس کے مطابق یہ حادثہ ان حاجیوں کی وجہ سے پیش آیا جو اپنا سامان ساتھ لے کر رمی کے لیے آگئے تھے۔ بھیڑ میں یہ سامان گرگیا جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی۔

کوئی مخلوق خالق سے بڑھ کر صبر کرنے والی نہیں ہے۔ لوگ (اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہوئے) اس کے لئے اولاد قرار دیتے ہیں اور وہ انہیں تندرستی اور رزق عطا کرتا ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم

سعودی حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کے کافی انتظامات کرتی رہتی ہے۔ اس دفعہ بھی لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لیے 60 ہزار پولیس والے تعینات تھے۔ جمرات تک جانے والے راستے کو مزید 80 میٹر وسیع کیا گیا تھا۔مگریہ ساری کوششیں اس سانحے کو نہیں روک سکیں جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔

دراصل جن لوگوں نے رمی کا منظر نہیں دیکھا وہ اندازہ نہیں کرسکتے کہ رمی کے وقت کیا صورتحال ہوتی ہے۔ ہزاروں افراد ایک جگہ کھڑے ہوکر ستونوں کو کنکریاں مارتے ہیں اور لاکھوں افراد اس سمت میں بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد گروپوں کی شکل میں ہوتی ہے۔ یہ لوگ راہ میں آنے والے ہر شخص سے بے پرواہ آگے بڑھتے ہیں۔اس موقع پر اگر کوئی شخص ہجوم میں گھرجائے تو اس کے اوسان خطا ہوجاتے ہیں۔ خاص طور پر بچے اور بوڑھے بے حد خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ایسے میں کوئی معمولی سا واقعہ بھی پیش آجائے تو لوگ خوفزدہ ہوکر بھاگنا شروع کردیتے ہیں۔

دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار۔ یہ تحریر دعوت دین کی اہمیت، دین کا کام کرنے والوں کی شخصیت، دعوت دین کی منصوبہ بندی اور دعوتی پیغام کی تیاری کے عملی طریق ہائے کار کی وضاحت کرتی ہے۔ ان افراد کے لئے مفید جو کہ دعوت دین میں دلچسپی رکھتے ہوں۔

ایک دفعہ جب بھگدڑ شروع ہوجاتی ہے تو پھر اس کا رکنا ممکن نہیں رہتا۔ رمی کے دوران میں ہونے والے ان واقعات پر جب غور کیا جاتا ہے تو اس کا ایک ہی سبب سامنے آتا ہے۔ یعنی حجاج کو ان کے ملکوں سے یہ سکھاکر بھیجا جاتا ہے کہ فلاں وقت پر رمی کرلینا افضل ہے اور فلاں وقت پر رمی کرنا مکروہ ہے۔ جس کے نتیجے میں ایک جگہ پر لاکھوں لوگوں ہجوم اکھٹا ہوجاتا ہے جو آخر کار حادثات کا سبب بن جاتا ہے۔ حادثات نہ بھی ہوں تب بھی اس دوران میں لوگوں کو کافی تکلیف دہ حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔لوگ بظاہر ایک مکروہ چیز سے بچتے ہیں، مگر اس کے لیے انسانی جان کی حرمت پامال کردیتے ہیں۔

رمی کے دوران میں بار بار ہونے والی ان ہلاکتوں کا ایک پہلو تو انسانی جانوں کے نقصان کے حوالے سے سامنے آتا ہے۔ مگر اس سے زیادہ سنگین پہلو یہ ہے کہ ہم مسلمان ساری دنیا کو کیا پیغام دیتے ہیں۔حج دنیا بھر کے سامنے وحدتِ الہ اور وحدتِ آدم کا ایک ماڈل قائم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے سے دنیا کو یہ بتایا جاسکتا ہے کہ اسلام کی نظر میں تمام انسان برابرہیں۔ کیونکہ رنگ و نسل، تہذیب و ثقافت اور زبان و جغرافیہ کے ہر اختلاف کے باوجودانسان ایک ماں باپ کی اولاد اور ایک رب کے بندے ہیں۔دور حاضر میں میڈیا کی ترقی کے بعد حج کا یہ منظر پوری دنیا میں دکھایا جاتا ہے اور اس طرح اسلام کی تبلیغ کا ایک بہترین ذریعہ بن جاتا ہے۔

مگر اس قسم کے حادثات مسلمانوں کی ایک بالکل مختلف تصویر دنیا کے سامنے لاتے ہیں۔ جس میں مسلمان ہر قسم کے نظم و ضبط سے عاری ایک ایسے گروہ کی شکل میں سامنے آتے ہیں جن کے نزدیک انسانی جان کی کوئی وقعت نہیں۔ اس طرح حج کی یہ عظیم عبادت دنیا کو ایک مثبت پیغام کے بجائے منفی پیغام دینے کا سبب بن جاتی ہے۔

اس صورتحال میں اصلاح کا طریقہ یہی ہے کہ مسلمانوں کی تربیت میں اخلاقی اقدارکو بنیادی مسئلہ بنایا جائے۔ انسانی جان، مال اور آبرو کے تحفظ سے متعلق قرآن واحادیث کے احکام کو ان کے سامنے بار بار پیش کیا جائے۔ عبادات اور دیگر ظاہری اعمال میں پوشیدہ اسپرٹ کولوگوں پر پوری طرح واضح کیا جائے۔ انہیں بتایا جائے کہ دین میں انسان کی جان کی حرمت ہر شے سے بڑی ہے۔ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔ حج شیطان کے خلاف جنگ کا نام ہے، جس میں کوئی ایسا عمل جو دوسرے مسلمان کی جان، مال اور آبروکو نقصان پہنچائے شیطان کی اطاعت کے برابر ہے۔تربیت کا یہ راستہ اگر اختیار نہیں کیا گیا تو ہر سال حاجیوں اور زائرینِ عمرہ کی تعداد بڑھتی رہے گی ،مگر ایسے سانحات پیش آتے رہیں گے۔ایسے زائرین، حج سے واپسی پر حاجی تو ضرور کہلائیں گے، مگر لوگوں کی جان، مال اور آبرو کو ان سے تحفظ نہیں ملے گا۔ (مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      بھگدڑ کی بنیادی وجہ انسان کی کون سی نفسیاتی کمزوری ہے؟

      پچھلے چند سال سے منی میں بھگدڑ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے تجویز کیجیے کہ کس طرح ہم اپنی قوم کو ایک باشعور اور منظم قوم بنا سکتے ہیں؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے

 

 

cool hit counter