بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

نئی بوتل اور پرانی شراب

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

آپ اپنی بہن یا بیٹی کی شادی کے لیے پریشان ہیں اور کوئی آپ کو ایک ایسے رشتے کے بارے میں بتائے جو ہر اعتبار سے موزوں اورہم پلہ ہو تویقیناً آپ بہت خوش ہوں گے۔ لیکن بات چیت کے دوران میں اگر آپ کو علم ہوجائے کہ لڑکا جواری ہے تو آپ کا رد عمل کیا ہوگا۔ بلاشبہ آپ کی خوشیوں پر اوس پڑجائے گی۔ آپ اگر اس سوسائٹی کے ایک نارمل شخص ہیں تو فوراً اس رشتہ سے انکار کردیں گے۔ خواہ اس کے بعد اپنی بچی کو مزید کچھ عرصے کے لیے گھر میں بٹھا کر رکھنا پڑے۔

جس طرح لوگ روشنی کو برتن کے نیچے نہیں بلکہ شمع دان کے اوپر رکھتے ہیں۔ اسی طرح تم لوگوں کو روشنی پہنچانے والے بنو تاکہ تمہاری نیکیوں (اعلی اخلاق و کردار) کو دیکھ کر لوگ تمہارے خدا کی حمد کریں جو کہ آسمانوں پر ہے۔ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام

آپ ایسا کیوں کریں گے؟ اس سوال کا جواب بالکل واضح ہے۔ جوا ہمارے ہاں ایک مذہبی گناہ بلکہ اس سے بڑھ کر ایک شدید درجے کی معاشرتی برائی ہے۔ اس کے ایک مذہبی اور سماجی عیب ہونے پر معاشرے میں دو آرا نہیں پائی جاتیں ۔ مگر جوئے کے حوالے سے مجھے ایک دلچسپ تجربہ اس وقت ہوا جب میں اٹلانٹک سٹی گیاجو امریکہ میں لاس ویگاس کے بعد جوئے کا دوسرا بڑا اڈا ہے۔

یہاں بنائے گئے جوئے خانے ہمارے روایتی تصور سے بالکل مختلف ہیں ۔ جوئے خانے کے نام سے ہمارے ذہن میں بدمعاشوں کا ایک ایسا اڈہ آتا ہے جہاں جوئے کی باطنی خباثت وہاں کے تنگ و تاریک ماحول سے پوری طرح عیاں ہوتی ہے۔ مگر امریکہ کے یہ جوئے خانے حسنِ تعمیر، رنگ و روشنی اور آرائش و زیبائش میں بادشاہوں کے عالیشان محلات کو بھی پیچھے چھوڑدیتے ہیں ۔ میرے جیسے لوگ جوا کھیلنے نہیں صرف ان جوئے خانوں کودیکھنے کے لیے دوردور سے کشاں کشاں چلے آتے ہیں ۔ وہاں کے ظاہر ی ماحول کی بنا پر جوئے سے وابستہ نفرت اور برائی کا ہر تاثر ذہن سے نکل جاتا ہے اور جب تک مذہبی حوالوں سے جوئے کی برائی ذہن میں تازہ نہ کی جائے، اس کی شناعت کا کوئی تاثر دل و دماغ پر نہیں بیٹھتا۔

اس مثال سے ظاہر ہے کہ اگر طریقۂ کار بدل دیا جائے تو جوئے کو باآسانی معاشرتی طور پر قابلِ قبول بنایا جاسکتا ہے۔ رہا مذہب کا سوال تو مذہبی اعتبار سے معیوب اور بھی بہت سی چیزیں سوسائٹی میں چل ہی رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے کے بہت سے ذہین کاروباری لوگ اس راز سے واقف ہیں ۔ ان کے طریقۂ واردات کو بیان کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ جوئے کے اصل فلسفے کو بیان کردیا جائے۔ جوئے میں صرف قسمت کی بنیاد پر بہت سے لوگ رقم لگاتے ہیں ۔ جن کی قسمت یاوری کرتی ہے انہیں اپنے حصے سے کہیں زیادہ رقم مل جاتی ہے جبکہ باقی لوگوں کی رقم ڈوب جاتی ہے۔

اب وہ کاروباری لوگ جنہیں میڈیا کے ذریعے سے عوام کے بہت بڑے گروہ تک رسائی حاصل ہے، میڈیا اور کمیونیکیشن کی جدید سہولیات کا فائدہ اٹھآ کر انعام کے نام پر عوام الناس کو جوئے میں شریک کرلیتے ہیں۔ اس عمل میں راتوں رات امیر بن جانے کے خواہشمند کسی ایسے سوال کا جواب ٹیلیفون کے ذریعے دیتے ہیں جس میں پانسہ پھینکنے سے زیادہ محنت اور صلاحیت درکار نہیں ہوتی۔ مثلاً پاکستان کے کتنے صوبے ہیں؟ یہ فون کال عام نرخ سے زیادہ مہنگی ہوتی ہے۔ یہ گویا اس جواری کی لگائی ہوئی رقم ہوتی ہے جو جوئے خانے والے وصول کرتے ہیں ۔

میڈیا کی وسیع تشہیر کی بنا پر لاکھوں جواریوں کی لگائی ہوئی اس رقم میں سے کچھ حصہ انعام کے نام پر بذریعہ قرعہ اندازی جیتنے والے چند جواریوں میں تقسیم کردیا جاتا ہے۔ جبکہ بقیہ رقم جوئے خانے والوں کی جیب میں چلی جاتی ہے۔ رقم کم ہونے کی بنا پر ہارنے والوں کو بھی دکھ نہیں ہوتا اور وہ ہر دم نیا پانسہ پھینکنے کے لیے تیار رہتے ہیں ۔ اس امید پر کہ کبھی نہ کبھی تو قسمت ان پر مہربان ہوگی۔

"اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں"۔ اس تحریر میں مصنف نے دور حاضر میں وقوع پذیر ہونے والی نفسیاتی، عمرانی، ثقافتی، سیاسی، معاشی اور تکنیکی تبدیلیوں کا جائزہ لیتے ہوئے اسلام کے نقطہ نظر سے ان پر بحث کی ہے۔ ان قارئین کے لئے جو دنیا کے مستقبل سے دلچسپی رکھتے ہوں۔

یہ ہے دورِ جدید کا ہمارا جوا جس میں انعامی مقابلے کے نام پر خالق اور مخلوق دونوں کو تکنیکی طور پر مطمئن کرنے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ مگر ہر صاحبِ بصیرت جانتا ہے کہ نئی بوتل میں یہ وہی پرانی شراب ہے۔ نام بدل دینے سے جوئے کی روح ختم نہیں ہوئی۔ لیکن آخرت فراموشی اور دنیا پرستی کے اس دور میں کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ ایسی باتیں سوچے۔ اللہ کا ہر حکم ہمارے فائدے کے لیے ہے۔ اس کی خلاف ورزی کرکے ہم آخرت ہی نہیں بلکہ اپنی دنیا کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں ۔ کاش یہ بات لوگ اس وقت کے آنے سے پہلے سمجھ لیں جب سمجھنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      موجودہ دور میں جوئے کی کون کون سی نئی شکلیں وجود پذیر ہوئی ہیں۔

      جوا کھیلنے کے کیا اثرات جواری کی شخصیت اور خاندان پر مرتب ہوتے ہیں؟

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے