بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

نافرمانی کی دو بنیادیں

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

قرآن میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے قصہ آدم و ابلیس کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس قصے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دو چیزیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی بنیاد ہیں۔ ایک عریانی و فحاشی اور دوسرے اپنی بڑائی کے زعم میں مبتلا ہوکر سرکش ہو جانا۔ تاریخ اس پر گواہ ہے کہ انسانیت انہی دو بنیادوں پر بارہا صراط مستقیم سے بھٹکی ہے۔ یہاں تک کہ مذہبی لوگ بھی ان برائیوں میں پوری طرح مبتلا ہوئے۔ مگر مذہبی لوگ اپنے آپ کو حرف زنی سے بچانے کے لیے ان اعمال کا ارتکاب ہمیشہ دین کے نام ہی پر کرتے ہیں۔

نیکی میں تمہیں اگر تکلیف پہنچے، تو یہ تکلیف کچھ دیر بعد ختم ہو جائے گی مگر تمہاری نیکی ہمیشہ باقی رہے گی۔ اسی طرح گناہ سے اگر تم لطف اندوز ہو تو یہ مزہ کچھ دیر بعد ختم ہو جائے گا مگر تمہارا گناہ باقی رہے گا۔ افلاطون

پہلی چیز کی مثال ہمیں سورہ اعراف میں ملتی ہے جہاں قصہ آدم و ابلیس بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ قریش کو ان کی ایک صریح بے حیائی کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کا دستور تھا کہ وہ برہنہ ہوکر حرم کعبہ کا طواف کرتے۔ اس مکروہ عمل کے جواز کے لیے قریش نے ایک مذہبی عذر تراشا تھا۔

ان کے نزدیک باہر سے آنے والے لوگوں کے کپڑے زینتِ دنیا میں شامل ہیں جس کی حج جیسی درویشانہ عبادت میں کوئی گنجائش نہ تھی۔ اس لیے ضروری تھا کہ یا تو وہ قریش میں اپنے کسی جاننے والے سے اُس کے کپڑے مستعار لیں یا برہنہ ہوکر حرم کا طواف کریں۔ اس طرح خود قریش اور ان کے دوست احباب تو اس مکروہ عمل سے بچے رہتے، مگر دیگر لوگ، مرد ہوں یا عورت، برہنہ ہوکر حرم کا طواف کرتے اور قریش کے عیاش طبع لوگوں کے لیے ایک سامان لذت فراہم کرتے۔

قریش نے اس مکروہ عمل کو ایک مذہبی عمل اور بزرگوں کے دستور کے طور پر رائج کررکھا تھا۔ وہ اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر انتہائی ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ وہ کبھی کسی فحش چیز کا حکم نہیں دیتے۔ قریش کی طرح تاریخ دیگر مذاہب کے نفس پرور لوگوں کی ایسی ہی کہانیوں سے بھری پڑی ہے۔ مندروں اور کلیساؤں میں پروہت اور پادری جو کچھ کرتے رہے اور جس طرح اپنی بدکرداری کو مذہبی تقدس دیتے رہے ہیں، اس سے تاریخ کے صفحات سیاہ ہیں۔

الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات۔ مغربی تہذیب میں وہ کیا عناصر تھے جنہوں نے اہل مغرب کو خدا اور مذہب سے بغاوت پر مجبور کیا؟ موجودہ دور کے الحاد کے خدوخال کیا ہیں؟ کیا یہ ملحدانہ خیالات مسلم دنیا میں بھی اپنے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ ان سوالات کے جواب کے لئے اس تحریر کا مطالعہ کیجیے۔

فحاشی کے علاوہ، جیسا کہ قصہ آدم و ابلیس کے حوالے سے ہم نے بیان کیا، انانیت اور اپنی بڑائی کا ذہن وہ چیز ہے جو انسانوں کو اللہ کی راہ سے ہٹاتی ہے۔ عام لوگوں کی طرح مذہبی لوگ بھی اپنے دورِ زوال میں انانیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ مگر عام لوگوں کے برخلاف ایک دفعہ پھر وہ اپنی انانیت اور تکبر کا جواز بھی مذہب کے نام پر پیش کرتے ہیں۔ قرآن پاک نے اس کی تصویر جگہ جگہ یہودیوں کی اُس سیرت و کردار کی شکل میں پیش کی ہے جنھیں معلوم تھا کہ حضور اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہیں، مگر وہ اس حقیقت کو مان کر نہیں دیتے تھے۔ یہودیت پر مبنی یہ رویہ آج کے دن تک عام ہے۔

چنانچہ آج جس مذہبی گروہ کو دیکھ لیجیے وہ اپنی بڑائی اور حق پرستی کے زعم میں گم ہوتا ہے۔ اسی پر بس نہیں وہ ہر دوسری رائے رکھنے والے کو کافر، مشرک، بدعتی، گمراہ اور مغرب کاایجنٹ قرار دیتا ہے۔ وہ بدگمانی کرتا ہے، برے نام رکھتا ہے، مخالفت میں جھوٹ، دروغ گوئی، بہتان، غیبت، سب و شتم غرض اخلاقی دنیا کے ہر ضابطے کو پامال کرتا ہے اور ساتھ میں یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ ہم دین کے خادم اور اس کا دفاع کرنے والے ہیں۔

ایسے لوگ اپنے پیروکاروں اور اپنے ضمیر کو یہی کہہ کر مطمئن کرتے ہیں کہ سامنے والا فرقہ اور فکر بہرحال غلط ہے۔ اس لیے نہ ان کو جان سے مارنا غلط ہے اور نہ ان کے خلاف بہتان و جھوٹ کے تیر برسانا کوئی جرم ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج مسلمانوں کے تمام فرقے ایک دوسرے کے نزدیک گمراہ، کافر اور واجب القتل ہیں۔

یہ رویہ نبیوں کی نہیں بلکہ شیطان کی میراث ہے جس نے اپنے تکبر کو خوبصورت الفاظ میں چھپانے کی کوشش کی تھی۔ مگر وہ عالم الغیب کے سامنے موجود تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے فوراً اس پر لعنت کردی۔ نزول قرآن کے وقت یہی رویہ یہودیوں کا تھا۔ ان پر بھی اللہ کی لعنت ہوگئی۔ آج مسلمانوں میں سے بھی جو لوگ اس رویے کو اختیار کریں گے، ان کا انجام بھی خدا کی لعنت کے سوا اور کچھ نہیں۔ چاہے وہ خود کو کتنا ہی بڑا خادم دین قرار دیں۔ چاہے اپنے پیروکاروں کی نظر میں وہ کتنے ہی بڑے عالم و فاضل کیوں نہ ہوں۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      دنیاوی معاملات میں اختلاف رائے ہو جائے تو لوگ اس کی بنیاد پر دوسروں سے نفرت نہیں کرتے مگر دینی معاملات میں اختلافات کو کفر کے فتووں تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ اس طرز عمل کی وجہ بیان کیجیے۔

      نفرت کی روش کو ختم کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے