بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

ہماری مذہبیت

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

پروگرام ختم ہوا۔ ایک عالم دین اسٹیج سے اترے تو ایک آدمی تیزی سے ان کی طرف بڑھا ۔ اس کے ہاتھ میں ایک مذہبی رسالہ تھا ۔ وہ اس کو عالم صاحب کی طرف بڑھا کر پرجوش لہجے میں کہنے لگا ۔ دیکھیے جناب! فلاں مفتی نے کیا لکھا ہے، قرآن کریم کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ عالم دین نے ایک نظر اس شخص کو دیکھا، مگر اس کے پھیلے ہوئے ہاتھوں سے وہ رسالہ لینے کی کوشش نہیں کی۔ وہ یہ حتمی جواب دیتے ہوئے آگے بڑھ گئے،مولانا ایسا نہیں کہہ سکتے۔

اپنے لئے زمین پر مال جمع نہ کرو، جہاں کیڑا اور زنگ لگ جاتا ہے اور چور نقب لگا کر چرا لیتے ہیں۔ اپنے مال کو (اللہ کی راہ میں خرچ کر کے) آسمان پر جمع کرو جہاں نہ تو کیڑا اور زنگ لگتا ہے اور نہ ہی چور نقب لگا کر چرا سکتے ہیں۔ جہاں تمہارا مال ہو گا وہیں تمہارا دل بھی ہو گا۔ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام

یہ واقعہ جیو ٹی وی کے ریکارڈنگ روم میں پیش آیا جہاں میں ان عالم کے ساتھ موجود تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب مذکورہ مفتی صاحب کے خلاف ایک زوردار مہم چل رہی تھی۔ یہ مہم صرف الزامات پر مبنی نہ تھی بلکہ مفتی صاحب کی تحریروں سے باقاعدہ ثبوت مہیا کیے جارہے تھے۔ مگر اس روز ان عالم دین نے جس طرح ان صاحب کی تردید کی تھی ، مجھے یہ احساس ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کھڑے ہونے والے ایک عالم کو اخلاقی طور پر کس مقام پر رہ کر معاملہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ سورہ نور میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت والے واقعے میں اہل ایمان سے حسن ظن رکھنے اور بغیر علم کے چیزوں کو آگے بڑھانے سے منع کیا گیا ہے۔

اسی کا تجربہ مجھے اس وقت ہوا جب ایک بڑے اور ممتاز بزرگ کے خلاف انہی عالم دین کے پاس شکایت لائی گئی۔ یہ شکایت کیا ہے، اس کا ذکر جانے دیجیے۔ اس لیے کہ اخلاقی دنیا میں اس سے زیادہ مکروہ جرم کا تصور نہیں کیا جاسکتا اور دین کے نام پر کھڑے ہوئے کسی شخص کے حوالے سے اس کا ذکر کرنے سے بھی قلم لرزتا ہے۔ یہ عالم دین اگر چاہتے تو مبینہ ثبوت کی بنیاد پر مذکورہ بزرگ کو بدنام کرنے کی مہم چلاسکتے تھے۔ مگر انہوں نے وہ کیا جو اسلام کی نمائندگی کرنے والے ایک عالم کو زیب دیتا ہے۔ یعنی پردہ پوشی اور خاموشی۔ حالانکہ یہ وہ بزرگ ہیں جن کی زندگی کا ایک بڑا مقصد صرف یہ ہے کہ انہی عالم دین کو ایک فتنہقرار دے کر اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔

قوم ثمود کا انجام کیا ہوا؟ آج بھی قوم ثمود کے تراشے ہوئے گھر سعودی عرب کے تاریخی مقام مدائن صالح میں موجود ہیں۔ اس مقام کا سفرنامہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجیے۔

مگر آج جب لوگ میر ے پاس آ کر پوچھتے ہیں کہ کیا ان عالم دین نے ایک فلم کا اسکرپٹ لکھا ہے؟ کیا انہوں نے اپنی طرف سے کوئی قرآن گھڑا ہے؟ ان کو حکومت سے پیسے ملتے ہیں؟ وہ جہاد کے خلاف ہیں؟ ان کے نزدیک قرآن کے بجائے بائبل دین کا ماخذ ہے؟ یہ اور ان جیسے ان گنت سوالات جب مجھ سے پوچھے جاتے ہیں تو میں صرف یہ دریافت کرتا ہوں کہ یہ بات کس نے کہی ہے۔ لوگ جواب میں کسی مذہبی رسالے، مذہبی آدمی یا عالم دین کا نام لیتے ہیں۔ اس پر بے اختیار میرے منہ سے ایک ٹھنڈی آہ نکل جاتی ہے۔ میں دل میں سوچتا ہوں کہ یہ ہیں وہ لوگ جوآج دین کے نمائندے بنے ہوئے ہیں۔

لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ امریکہ ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ فحاشی کا پھیلنا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ فلسطین اور کشمیر کی آزادی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ اخلاقیات سے بے بہرہ مذہبیت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس مذہبیت میں دوسروں پر تو اسلام کے نفاذ کے لیے جہاد ہوتا ہے ، مگر اپنے بدترین اخلاقی جرائم نظر نہیں آتے۔ اس مذہبیت میں یہودو نصاریٰ کی سازشیں تو اندھیرے میں بھی نظر آجاتی ہیں، مگر اپنے نفس کے فریب اور شیطان کی دغا بازی قرآن اور سیرت کی روشنی کے باجود نظر نہیں آتی۔ اس مذہبیت میں ہاتھ میں کلاشنکوف اور زبان پر نعرے ہوتے ہیں مگر دل میں خدا کا خوف اور عمل میں سیرت حبیب کا ذرا سا شائبہ بھی نظر نہیں آتا۔

میں یہ سوچتا ہوں کہ خدا کا قہر اگر آج مسلمانوں کی طرف متوجہ ہے تو یہ کچھ اور نہیں اللہ تعالیٰ کے عدل کا ظہور ہے۔ مذہب کے نام پر اگر اس اخلاقی حیثیت کے لوگ کھڑے ہیں اور لوگ جوق در جوق ان کی پیروی پر راضی ہیں تو خد ابھی مسلمانوں کی بربادی پر راضی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ کی کسی قوم سے کوئی رشتہ داری نہیں ہے۔ وہ اصول پر معاملہ کرتا ہے۔ اگر اسلام کے نام لیوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نمائندگی کرنے والے اسی اخلاق و کردار کے لوگ ہیں تو مبارک ہو، مسلمانوں کی پستی ابھی ختم نہیں ہوگی۔ جب تک مسلمانوں اور ان کی مذہبی لیڈر شپ کے اخلاقی رویے نہیں بدلیں گے، مسلمانوں کا حال اور ان کا مستقبل بھی نہیں بدلے گا۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      ہمارے مذہبی لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟

      مذہبی افراد میں اخلاقی کمزوری کے بڑے اسباب بیان کیجیے۔

اپنے جوابات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے