|
ہمارے
ہاں صورتحال یہ
ہے کہ لوگ دین
کے معاملے میں
کوئی غور و
فکر نہیں
کرتے۔ بیٹی کی
شادی ہو،
بچوں کے
اسکول میں
داخلے کا
مسئلہ
ہو،کاروباری
معاملہ ہو یا
دنیا کا کوئی
اور مسئلہ۔ ۔ ۔
ہم تحقیق ،جستجو
اور غور و فکر
کی ساری منزلیں
طے کرتے ہیں۔
ا س لیے کہ غلط
فیصلے سے دنیا
کے نقصان کا
اندیشہ ہوتا
ہے۔ اگر ایک
غلط نتیجے تک
پہنچ جاتے ہیں
اور زیادہ
بہتر بات
سامنے آجاتی
ہے تو فوراً
اپنی رائے
اور فیصلہ
بدل دیتے ہیں ۔
آہ! مگر
آخرت ۔ ۔ ۔ خدا
کی جنت اتنی
بے وقعت ہے کہ
کسی کو اس کے زیاں
کا اندیشہ
اور نقصان کی
پرواہ نہیں۔
کسی کو اس بات
کا خوف نہیں
کہ کل اسے تنِ
تنہا اللہ
تعالیٰ کے
حضور پیش
ہوکر اپنے
فکر و عمل کا
جواب دینا ہے۔
اللہ تعالیٰ
نے اگر پوچھ لیا
کہ تم دنیا کے
معاملات میں
تو بہت ہوشیار
تھے۔ یہ ساری
بیوقوفی میرے
دین کے لیے
کہاں سے آگئی؟
تمہارے پاس میری
کتاب اور میرے
نبی کی سنت تھی۔
تم نے کبھی ان
پر بھی غور
کرنے کی کوشش
نہیں کی کہ
سچائی
تمہارے
سامنے آجاتی۔تم
عقل استعمال
کرکے دنیا کے
اچھے برے، صحیح
و غلط، بہتر
اور کمتر،
اہم اور غیر
اہم کو خوب
سمجھتے تھے،
مگر دین کے معاملے
میں تم کیوں
عقل کے اندھے
بن گئے تھے؟
میں
اکثر سوچتا
ہوں کہ جو آدمی
دنیا میں بھی
بیوقوف ہے وہ
تو قیامت کے
دن اپنا عذر پیش
کردے گا، مگر
ان ہوشیار،
کامیاب اور
ذہین لوگوں
کا کیا ہوگا؟ یہ
وہ سوال ہے جو
میں قارئین
کے سامنے
رکھنا چاہتا
ہوں کہ وہ بھی
سوچیں کہ ان
لوگوں کا
معاملہ قیامت
کے دن کیا
ہوگا جو دنیا
کے معاملے میں
بہت ہوشیار ہیں
مگر آخرت کے
معاملے میں
احمق۔
(مصنف:
ریحان احمد یوسفی)
غور فرمائیے!
·
دنیا
کے بارے میں
ہماری حساسیت
اور آخرت کے
بارے میں
ہماری غفلت کی
بنیادی وجہ کیا
ہے؟
·
ہمیں
آخرت کے
معاملے میں ہوشیاری
کا وہی رویہ
اختیار کرنا
چاہیے جو ہم
دنیا کے
معاملے میں
اختیار کرتے
ہیں۔ اس کے
لئے ہمیں
اپنے طرز عمل
میں کیا تبدیلی
پیدا کرنا ہو
گی؟
|