بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

دین اور عقل

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

اور وہ کہیں گے :اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو (آج )ان اہل جہنم میں نہ ہوتے۔ اس طرح وہ اپنے گناہ کا اقرار کرلیں گے، تو( اب) لعنت ہواِن ا ہلِ جہنّم پر۔ (اس کے برخلاف) وہ لوگ جو بِن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں، ان کے لئے بے شک، مغفرت بھی ہی اور بہت بڑا اجر بھی۔ اور (سنو! اے لوگوں) تم کوئی بات چھپاکر کہو یا کھول کر،وہ، لاریب، دلوں کے بھید تک جانتا ہے۔ کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟ وہ بڑا دقیقہ رس ہے، بڑا ہی خبردار۔(الملک67:10-14 )

اللہ تعالیٰ اہل جہنم کا قول نقل فرماتے ہیں کہ ، وہ کہیں گے اگر ہم سنتے اور سمجھتے تو آج اہل جہنم میں سے نہ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کفار کے کفر کی بنیاد جس رویے کو قرار دے رہے ہیں، وہ کیا ہیں؟ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ نہ سنتے تھے اور نہ عقل ہی سے کام لیتے تھے۔ یہ اگر ایسا کرتے تو اہل جہنم میں سے نہ ہوتے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بات سننے سے انکار کردینا اور عقل کو بالائے طاق رکھ دینا اہل کفر کا رویہ ہے۔یہ رویہ انسان کو جہنم تک پہنچا سکتا ہے۔

کسی شخص کے لئے تھوڑا سا اچھا کام مشکل نہیں ہوتا۔ مشکل یہ ہے کہ کوئی شخص ساری عمر اچھے کام کرتا رہے۔ ماؤزے تنگ

بدقسمتی یہ ہے کہ آج ہمارے ہاں جو لوگ مذہبی رہنمائی کے مقام پر ہیں ،وہ اسی رویے کو آئیڈیل قرار دیتے ہیں۔ان کے نزدیک جو کچھ بزرگوں نے فرما دیا وہ حرف آخر ہے۔ اس کے بعد مزید کچھ کہنے سننے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ عقل کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ دین میں عقل کا کیا عمل دخل۔ بھلا دین کے معاملے میں عقل بھی استعمال کرنے کی چیز ہے؟ عقل کو استعمال کرنا ہے تو دکان پر کرو۔

دوسری طرف قرآن مجید اپنی پوری دعوت عقل و فطرت کے مسلمات پر رکھتا ہے۔آپ دیکھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دلائل کے ذریعے سے سمجھا رہے ہیں، قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔یہ سورہ تو قرآن کی ابتدائی سورتوں میں سے ہے، جب ہم آگے بڑھیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ قرآن عقلی دلائل کا ڈھیر لگا دیتا ہے۔ اورجب لوگ سننے سے انکار کردیتے ہیں تو قرآن کو کہنا پڑتا ہے کہ ان کے کانوں میں ڈاٹ لگی ہوئی ہے۔ قرآن ان کی ہٹ دھرمی کو ان کے اس قول کے ذریعے سے بیان کرتا ہے کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں۔یعنی کچھ بھی کہہ لو اثر نہیں ہونے کا۔قرآن ان کے رویے کو بیان کرتا ہے کہ ہم نے انہیں دل دیے ہیںمگر یہ سوچتے نہیں،کان دیے ہیں مگر یہ سنتے نہیں، آنکھیں دی ہیں مگر یہ دیکھتے نہیں۔یہ جانور ہیں بلکہ جانوروں سے بھی بدتر۔

دور جدید میں دعوت دین کا طریق کار۔ یہ تحریر دعوت دین کی اہمیت، دین کا کام کرنے والوں کی شخصیت، دعوت دین کی منصوبہ بندی اور دعوتی پیغام کی تیاری کے عملی طریق ہائے کار کی وضاحت کرتی ہے۔ ان افراد کے لئے مفید جو کہ دعوت دین میں دلچسپی رکھتے ہوں۔

یہ ہے قرآن کا تبصرہ ان لوگوں پر جو کانوں کو بند اور عقل کومعطل کرلیتے ہیں۔اور ہماری سوسائٹی میں یہ کہا جاتا ہے کہ ان سب چیزوں کو کونے میں رکھو۔ میاں اب تم ہمارے حلقے میں میں آگئے ہو ،کسی اور کی نہ سننا۔ورنہ گمراہ ہوجاؤ گے۔ ہم نے کہہ دیا تم نے سن لیا مسئلہ ختم۔ کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں۔

کمال یہ ہے کہ جن چیزوں کو آج لوگ اپنا سرمایہ افتخار سمجھتے ہیں قرآن انہیں کفار کے اوصاف اور بیانات کے طور پر بیان کرتا ہے۔آج ہم کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ سننے کی ضرورت نہیں ۔ہم اپنے بڑوں کے راستے پر چلیں گے۔قرآن اسے کفار کے الفاظ کے طور پر نقل کرتا ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو یہی کرتے ہوئے پایا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ ہم نہیں سنیں گے۔ ہم نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان کے کانوں میں ڈاٹ لگا دیے گئے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ہم نے کچھ نہیں دیکھنا۔ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ ہم نے کچھ نہیںسوچنا ۔اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ ان دل پر مہر لگ گئی ہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ ہمارے لیے جو چیزیں سرمایۂ افتخار ہیں قرآن کے مطابق وہ سب چیزیں رسول کریم کے بدترین مخالفین کے لیے سرمایہ افتخار تھیں؟ اور جو اہل ایمان ہیں ،قرآن بار بار ان کی تعریف کرتا ہے کہ وہ اندھے بہروں کی طرح قرآن کی آیات پر نہیں گرتے، وہ سوچتے ہیں سمجھتے ہیں۔ ہماری سوسائٹی کا یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ لوگوں کا یہ رویہ ہے کہ کہ کوئی شخص بھولا بھٹکا کسی بھی وجہ سے دین سیکھنے یا روحانیت تلاش کرنے کے لے اگر ان کی طرف آگیا تو اب وہ ان کے حلقے سے جانے نہ پائے۔ان کا معتقد بن گیا ہے تو ان کے ساتھ ہی رہے۔ کسی اور کے پاس نہ چلا جائے ۔اس کے لیے ضروری ہے کہ باقی ہر شخص کو گمراہ ،بددین، ملحد،امریکہ کا ایجنٹ بنادیا جائے۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      لوگ دنیا کی کوئی چیز لیتے وقت تو بڑی سوچ بچار سے کام لیتے ہیں مگر دین کے معاملے میں کسی ایک راہنما پر اندھا اعتماد کرنا شروع کر دیتے ہیں، اس رویے کی وجوہات بیان کیجیے۔

      عقل اور وحی کا باہمی تعلق بیان کیجیے۔ عقل کو کس طرح سے وحی کے تابع رہ کر اپنا کام کرنا چاہیے۔

اپنے جوابات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے