بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

کردار نہ کہ موروثی تعلق

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَإِذْ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَاماً قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ ۔ (البقرۃ 2: 124)

یاد کرو کہ جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اتر گئے۔ اس نے فرمایا، "میں تمہیں انسانوں کا امام بنانے والا ہوں۔" انہوں نے عرض کیا، "کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے۔" فرمایا، "میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے۔"

سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی پوری سیرت اللہ تعالی کے حضور تسلیم و رضا کی عظیم ترین مثال ہے۔ آپ کی پوری زندگی اللہ تعالی کے دین کے لئے قربانیوں پر مشتمل ہے۔ اپنی قوم سے اس کے شرک کے باعث علیحدگی اختیار کرنا، ایک جبار اور متکبر بادشاہ سے نڈر ہو کر اسے اللہ کا پیغام پہنچانا، آگ میں پھینکے جانے کو برداشت کرنا، وطن اور گھر بار کو اللہ کے حکم سے چھوڑنا، فلسطین اور عرب کی سرزمین پر اللہ کی توحید کے مراکز قائم کرنا اور پھر اپنی اولاد کو اللہ کے حکم سے قربان کرنا یہ سب تسلیم و رضا کی شاندار مثال ہے۔

جب تم خیرات کرو تو اس کا ڈھنڈورا نہ پیٹو جیسا کہ ریاکار عبادت خانوں اور گلیوں میں کرتے پھرتے ہیں۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو اجر انہیں ملنا تھا، مل چکا۔ سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام

انہی قربانیوں کے باعث اللہ تعالی نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ آپ کو دنیا کا امام بنا دے گا۔ قرآن مجید اور بائبل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے یہی وعدہ آپ کی اولاد کے معاملے میں بھی کیا اور انہیں اسی دنیا میں آخرت کی جزا و سزا کا نمونہ بنا کر رکھ دیا۔ اگر انہوں نے نیکی کی تو بحیثیت قوم انہیں اس کا اجر اسی دنیا میں مل گیا اور جب بھی وہ گمراہ ہوئے تو انہیں اسی دنیا میں سزا دی گئی۔ پہلے یہ معاملہ بنی اسرائیل کے ساتھ ہوا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے یہ معاملہ بنی اسماعیل کے ساتھ شروع ہوا۔

آج بھی مشرق وسطی بلکہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی اولاد ابراہیم کی یہ دونوں شاخیں اپنی غلط فہمی کے باعث یہ سمجھ بیٹھی ہیں کہ ان کا یہ منصب موروثی ہے اور وہ بحیثیت اولاد ابراہیم اس کی حق دار ہیں۔ اسی غلط فہمی کے باعث آپ کی اولاد کی ایک شاخ گریٹر اسرائیل کے قیام کے لئے کوشاں ہے اور دوسری دنیا بھر پر اپنا تسلط قائم کرنے کی فکر میں ہے۔ اس کشاکش کے نتیجے میں دنیا کا امن تباہ ہو رہا ہے۔

قرآن اور بائبل کے دیس میں۔ اس سفرنامے کے مصنف کا نقطہ نظر یہ ہے کہ دنیا میں گھوم پھر کر خدا کی نشانیوں میں غور و فکر کیا جائے۔ یہ نشانیاں اللہ تعالی کی تخلیق کردہ فطرت کی صورت میں ہوں یا اس کی عطا کردہ انسانی عقل نے ان نشانیوں کو تیار کیا ہو، یہ انسان کو ایک اور ایک خدا کی یاد دلاتی ہیں۔ مصنف نے بعض قوموں کے تاریخی آثار کو خدا کے وجود اور اس کے احتساب کے ثبوت میں پیش کیا ہے۔ تفصیل کے لئے مطالعہ کیجیے۔

اگر مسلمان قرآن کی اس آیت کو غور سے پڑھیں اور یہود اسی مضمون پر مشتمل کتاب مقدس کی آیات کا مطالعہ کریں تو ان پر یہ واضح ہو گا کہ دنیا کی امامت کا یہ منصب موروثی نہیں ہے بلکہ اس بات سے مشروط ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالی اور اس کے دین سے اپنا صحیح تعلق قائم کریں، اس کے تمام رسولوں پر ایمان لائیں، نیکی پر قائم ہوں، ظلم سے اجتناب کریں اور دنیا میں خدا پرستی کا زندہ نمونہ بن کر جئیں۔ اللہ تعالی کے ہاں موروثی تعلق کی کوئی اہمیت نہیں ہے بلکہ اصل اہمیت انسان کے اپنے کردار اور عمل کی ہے۔

قرآن کی اس آیت کا مطالعہ تو آپ کر ہی چکے، اس موضوع پر بائبل کی آیات یہ ہیں؛

(اے بنی اسرائیل!) اگر تم میری شریعت پر چلو گے اور میرے احکام کو ماننے میں محتاط رہو گے تو میں تہمارے لئے بروقت بارش برساؤں گا، زمین اپنی پیداوار دے گی اور میدان کے درخت اپنے پھل دیں گے۔۔۔۔ تم اپنے ملک میں حفاظت سے بسے رہو گے اور میں ملک میں امن بخشوں گا۔ تم سوؤ گے اور کوئی تمہیں پریشان نہ کرے گا۔ میں جنگلی درندوں کو تمہارے ملک سے بھگا دوں گا۔ تلوار تمہارے ملک میں نہ چلے گی۔ تم اپنے دشمنوں کا تعاقب کرو گے اور وہ تہمارے آگے تلوار سے مارے جائیں گے۔ تمہارے پانچ آدمی سو کو اکھاڑ پھینکیں گے اور تمہارے سو آدمی دس ہزار پر غالب آئیں گے۔۔۔۔۔

اگر تم میری نہ سنو گے ۔۔۔ میرے عہد کی خلاف ورزی کرو گے تو میں ناگہانی دہشت، گھلا دینے والی بیماریوں اور بخار کو تم پر بھیجوں گا جو تمہاری بینائی سلب کر لیں گے اور تمہاری جان لے لیں گے۔ تم بیکار بیج بوؤ گے کیونکہ ان کا پھل تمہارے دشمن کھائیں گے۔ میں تمہارا مخالف ہو جاؤں گا اور تم اپنے دشمنوں سے شکست کھاؤ گے۔۔۔۔ میں تمہارے اوپر آسمان کو لوہے اور نیچے زمین کو کانسی کی بنا دوں گا (یعنی تمہیں ان سے فائدہ حاصل نہ ہو گا)۔ زمین تمہیں پیداوار نہ دے گی اور نہ ملک کے درخت تمہیں فائدہ دیں گے۔۔۔۔ میں تمہارے خلاف جنگلی درندوں کو بھیجوں گا، وہ تمہارے بچوں کو اٹھا لے جائیں گے اور تمہارے مویشیوں کو تباہ کر دیں گے۔۔۔۔۔۔ میں تمہارے شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دوں گا ۔۔۔۔ تمہیں قوموں میں منتشر کر دوں گا۔۔۔۔۔ تم اپنے دشمنوں کے ملکوں میں رہو گے ۔۔۔۔ جب تک وہ دشمنوں کے ملک میں رہیں گے، میں ان کو بالکل مسترد نہ کروں گا اور نہ ہی ان کے ساتھ ایسی نفرت کروں گا کہ ان کے ساتھ اپنے عہد کو توڑ کر انہیں فنا کر دوں۔ میں خداوند ان کا خدا ہوں۔ (کتاب احبار، باب 26)

(مصنف: محمد مبشر نذیر)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      لوگ اپنے عمل اور کردار کی تعمیر کی بجائے اس بات کو اہمیت کیوں دیتے ہیں کہ ان کے آبا ؤ اجداد بہت اعلی کردار کے حامل تھے؟

      اولاد ابراہیم کے لئے اللہ تعالی کا خصوصی قانون کیا تھا اور اس سے وہ کس غلط فہمی میں مبتلا ہو چکے ہیں؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے