بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

یہ کیسی بری قناعت ہے

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

قناعت اعلیٰ ترین انسانی صفات میں سے ہے۔ قناعت کرنے والا شخص اپنی خواہشات کو اپنی ضروریات اور حالات کے تابع کر دیتا ہے۔ وہ زیادہ کی دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے صبر کے دامن میں پناہ لیتا ہے۔ وہ لوگوں سے مقابلہ کرنے کے بجائے اپنے آپ سے مقابلہ کرنا پسند کرتا ہے۔ بلاشبہ ایک قانع شخص بڑا ہی قابل تحسین ہوتا ہے۔

مگر قناعت کی ایک اور قسم ہے جو بہت بری ہوتی ہے۔اس قناعت میں بھی آدمی کم پر صابر و شاکر ہونا پسند کرتا ہے۔ وہ دولت و ثروت، شان و شوکت اور مقام و مرتبے میں دوسروں سے پیچھے رہنا گوارا کر لیتا ہے۔وہ نعمت و عزت کی اس سطح کو پسند کرتا ہے جو بلاشبہ ایک کم تر سطح ہے۔ قناعت کی یہ قسم انسان اس دنیا اور اس کی نعمتوں کے لیے نہیں، بلکہ رب کی بنائی ہوئی جنت کے لیے اختیار کرلیتے ہیں۔

انسان کا وجود خواہشات کا اتھاہ سمندر ہے۔ یہ سمندر اس قدر بڑا ہے کہ زمین و آسمان کی وسعت اس کے سامنے ہیچ ہے۔ خواہشات کے اس اس لامحدود صحرا اوراس بحرِ ناپیدکنار کی سماعی اگر کہیں ہے تو فردوس کی وہ حسین و بے مثل بستی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام تر قدرت کے ساتھ بنایا ہے۔ کوئی شخص اگر خدا اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا تو دوسری بات ہے، وگرنہ جس نے جنت کو مان لیا، اسے پہچان لیا، اس کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اس بستی میں بلند مرتبے کی خواہش نہ کرے۔

جنت چونکہ آخرت میں آنے والی چیز ہے اس لیے اس کی حقیقی نوعیت کو سمجھانا اس دنیا میں ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انسانی تصورات کے پس منظر ہی میں اس کی وضاحت کی ہے۔ جس کے مطابق اس جنت میں کوئی دوسری اور تیسرے درجے کی چیز نہیں ہوگی۔ اس میں صرف اور صرف دو مقامات ہیں۔ ایک وہ مقام ہے جس میں اس دنیا اور انسانی تصور میں آنے والی بہترین نعمتیں اللہ تعالیٰ نے اکھٹی کر دی ہیں۔ ان نعمتوں پر کسی قسم کی روک ٹوک ہوگی اور نہ کبھی اللہ تعالیٰ ان کو منقطع کریں گے۔

دوسرا مقام وہ ہے جہاں مندرجہ بالا تمام نعمتوں کے ساتھ وہ نعمتیں بھی جمع کردی جائیں گی جو نہ اس دنیا میں دستیاب ہیں اور نہ جن کا خیال بھی کبھی کسی انسان کے دل میں گزرا ہوگا۔ اس میں خواہش کی تسکین کا سامان بھی ہوگا اور لطف و سرور کی ان نئی سطحوں سے بھی انسان کو متعارف کرایا جائے گا، جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ اس مقام میں نعمتوں کی اس سطح کے ساتھ اللہ تعالیٰ بادشاہی کا عنصر جمع کردیں گے۔

اس کو دنیا کے لحاظ سے اس طرح سمجھیں کہ ہر معاشرے میں ایک طبقہ امرا ہوتا ہے۔ جن کے پاس اس معاشرے میں دستیاب ہر نعمت میسر ہوتی ہے۔ تاہم اسی سوسائٹی میں ایک محدود طبقہ حکمرانوں کا بھی ہوتا ہے ۔ جن کے پاس نہ صرف یہ تمام نعمتیں بھی ہوتی ہیں بلکہ وہ اپنے اختیارات اور طاقت کی بنا پر دنیا بھر سے اپنے لیے سہولت جمع کرلیتے ہیں۔ پھر حکمرانی کی انسانی جبلت کی تسکین بہرحال انہی میں سب سے زیادہ پوری ہوتی ہے۔

اس سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی جنت میں کوئی مقام حقیر اور کمتر نہیں۔ یہاں یا تو اعلیٰ مقام ہے یا پھر بہت اعلیٰ مقام ۔اسی لیے وہ قرآن میں اس جنت کے متعلق کہتے ہیں کہ محنت کرنے والو! تمھیں اگر محنت کرنی ہے اس جنت کے لیے کرو۔ مقابلہ کرنے والو! اگر مقابلہ کرنا ہے تو میرے اس شاہکار کے لیے کرو۔ قرآن تو آیا ہی اسی لیے ہے کہ دنیا کی حقیر پونجی کے پیچھے بھاگنے والوں کو جنت کی خبر دے۔ فانی دنیا کی فانی نعمتوں سے نکال کر جنت کی ابدی بادشاہی کی خبر دے۔ مگر بدقسمتی سے لوگوں نے اپنی قناعت کے اظہار کے لیے کوئی مقام چنا ہے تو وہ جنت کا مقام ہے، جہاں کوئی درجہ کم تر نہیں ہوتا۔

انسانوں میں تکبر، حسد، ریاکاری اور دیگر شخصی مسائل کیوں پائے جاتے ہیں؟ ان کا علاج کیا ہے؟ ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لئے اس تحریر کا مطالعہ کیجیے۔

اصل بات یہ ہے کہ لوگ جنت کے لیے محنت نہیں کرنا چاہتے۔ وہ اس کو اپنی زندگی کا مقصود نہیں بنانا چاہتے۔وہ اس کی قیمت نہیں دینا چاہتے۔ چنانچہ وہ بغیر محنت کے جنت میں کوئی چھوٹا موٹا مقام چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو جان لینا چاہیے کہ بغیر محنت کے آدمی کو اگر کچھ ملے گا تو وہ جہنم کی آگ ہوگی، جنت میں چھوٹا موٹا مقام نہیں۔

جنت کا وعدہ حقیقت ہے کوئی قصہ کہانی نہیں۔اس کے لیے انسان کو سرتوڑ جدوجہد کرنی ہوگی۔قربانی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ اعلیٰ ترین اخلاقی اعمال کرنے ہیں گے۔ یہ نہ ہوسکے تو رب کے حضور اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کر کے اپنی غلطیوں کی تلافی کرنی ہوگی۔ عمل صالح کی کوشش کرنا ہوگی۔ جنت کے دو مقامات میں جانے کے یہی دو راستے ہیں، تیسرا کوئی راستہ نہیں۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔ اپنے سوالات، تاثرات اور تنقید کے لئے بلاتکلف ای میل کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com

غور فرمائیے!

      لوگ دنیا کے معاملے میں تو حرص و ہوس کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن آخرت کے معاملے میں کم پر قناعت کیوں کر دیتے ہیں؟

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے