بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Allah, in the name of, the Most Affectionate, the Eternally Merciful

Personality Development Program

Contribute to humanity by develop a God-oriented personality!!!

تعمیر شخصیت پروگرام

ایک خدا پرست شخصیت کی تعمیر کر کے انسانیت کی خدمت کیجیے!!!

اردو اور عربی تحریروں کو بہتر دیکھنے کے لئے نسخ اور نستعلیق فانٹ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجیے

Home

سطحی زندگی

Download Printable Version

 

 

Click here for English Version

Religion & Ethics

Personality Development

Islamic Studies

Quranic Arabic Learning

Adventure & Tourism

Risk Management

Your Questions & Comments

Urdu & Arabic Setup

About the Founder

میں نے بہت کوشش کی کہ یہ سمجھ سکوں کہ لوگ اس قدر ذوق و شوق سے میڈیا کیوں دیکھتے ہیں۔ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ دورِ جدید میں لوگوں نے انتہائی سطحی زندگی جینا شروع کردی ہے۔ان کی سطحیت کا عالم یہ ہے کہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ غیر حقیقی ہے۔جو کچھ وہ دیکھ رہے ہیں وہ سب مصنوعی ڈرامہ اور فلم ہے۔ یہ سب اداکار ہیں۔ جو کچھ دکھایا جارہا ہے وہ حقیقی زندگی کا حصہ نہیں ہے۔یہ محض جھوٹ اور فریب کی دنیا ہے۔یہ حسن مصنوعی، یہ کہانی جعلی اور یہ خوشی و غم کے قصے گھڑے ہوئے ہیں، مگر لوگ پھر بھی ان کو حقیقت سمجھ کر دیکھتے اور واقعہ سمجھ کر متاثر ہوجاتے ہیں۔

لوگوں کی یہ سطحیت صرف میڈیا دیکھنے تک محدود نہیں بلکہ لوگوں نے فارغ اوقات میں بھی وہ ساری مصروفیات ڈھونڈ لی ہیں، جن کی گنجائش کسی ایسے انسان کی زندگی میں نہیں ہوسکتی جو دنیا کی حقیقت سے واقف ہو۔تفریح، کھیل کود، شاپنگ، ذوق جمال کی تسکین،سہولیات کی خواہش بری چیزیں نہیں، مگر آج لوگوں نے انہیں مقصدِحیات بنالیا ہے۔ وڈیو گیمز، اسپورٹس، سیر و تفریح، گھومنا پھرنا، ہوٹلنگ یا باہر کھانا، دعوتیں کرنا اور ان میں شریک ہونا، شاپنگ کرنا، نت نئے فیشن کے ملبوسات اور زیورات کے پیچھے لگے رہنا، گھر اور اپنے اطراف میں ہر وقت نت نئی تبدیلیوں پر پیسے خرچ کرنا، یہ اور ان جیسی کتنی چیزیں ہیں جن کو فنی بنیادوں پر غلط قرار دینا ممکن نہیں مگر آج لوگ انہی کو نصب العین بنا کر جیتے ہیں۔

غرور اپنے ساتھ رسوائی لے کر آتا ہے جبکہ عجز و انکسار سے حکمت و دانش جنم لیتی ہے۔ سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام

مذہبی لوگ

اس وقت ایک طرف تو مسئلہ لوگوں کی یہ سطحی دلچسپیاں ہیں اور اس سے بڑھ کر مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ دعوت و اصلاح کے کام پر اٹھے ہیں وہ لوگوں کو دنیا کی سطحیت سے نکال کر اُس سطحیت کی طرف لے جارہے ہیں جو دین کے نام پر پھیلی ہوئی ہے۔یہ وہ سطحیت ہے جس میں لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ دوسروں کو دین کی طرف بلا رہے ہیں حالانکہ وہ انہیں چند ظاہری اعمال کی طرف بلارہے ہوتے ہیں ۔

وہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں کو توحید کی طرف بلارہے ہیں، مگر دراصل وہ انہیں اپنے مفروضہ اکابرین کی طرف بلاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں کو جنت کی طرف بلا رہے ہیں، مگر دراصل وہ انہیں اپنی جماعت کی طرف بلاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں کو قرآن و حدیث کی طرف بلارہے ہیں، مگر دراصل وہ انہیں گھڑی ہوئی داستانوں کی طرف بلاتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ وہ انہیں اسلام کے احیا کی طرف بلا رہے ہیں، مگردراصل وہ سیاست کے بازار کی آوارہ گردی کے لیے بلارہے ہوتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں کو فردوس کی بادشاہی کی طرف بلارہے ہیں،مگر دراصل وہ ثواب کی اس دکانداری کی طرف بلاتے ہیں جہاں آدمی اپنے بے روح عمل کو جنت کی قیمت سمجھتا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں کو روحانیت کی طرف بلارہے ہیں،مگر دراصل وہ انہیں ظاہری شکل و صورت کی تبدیلی کی طرف بلاتے ہیں۔

بارہ سو سال پہلے لکھی گئی کتاب الرسالہ، جو کہ اصول الفقہ کی پہلی کتاب ہے، کا مطالعہ کیجیے۔ اس کتاب کے مصنف امام شافعی ہیں جنہوں نے پہلی مرتبہ اصول الفقہ کے قواعد کو ضوابط کو مرتب کیا۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ اس لنک پر دستیاب ہے۔

خدا تنہا ہے

بات یہ ہے کہ دین آج بھی اجنبی ہے۔وہ دین جس میں خدا زندگی کا حاصل ہے، اس کا پیغمبر آخری حجت ہے، اس کی جنت آخری مقصود ہے۔یہ دین اب ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔خدا جس طرح اپنی عظمت کے ساتھ تنہا ہے، آج اپنے دین کے ساتھ بھی تنہا رہ گیا ہے۔خدا کے ملک میں پہلے بھی بغاوت ہوئی ہے۔ اس وقت خدا کا ساتھ دینے کا مطلب یہ تھا کہ آدمی دنیا بھر سے ٹکراجائے۔وہ بغاوت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے پہلے حصے نے ختم کردی۔

آج ایک دفعہ پھر بغاوت پھیلی ہے اور خدا ایک دفعہ پھر تنہا رہ گیا ہے۔آج خدا کا ساتھ دینے کا مطلب دنیا بھر سے ٹکراجانے کا نام نہیں ۔ یہ اپنے آپ سے ٹکراجانے کا نام ہے۔یہ دنیا داروں کی سطحیت چھوڑدینے اور دین داروں کی سطحیت سے بلند ہوجانے کا نام ہے۔یہ خدا کی یاد اور فردوس کی ابدی بادشاہی کی امید میں جینے کا نام ہے۔ یہ رب کی بندگی اور اس کی محبت کے احساس کو زندگی بنالینے کا نام ہے۔یہ دنیاپر آخرت کو ترجیح دینے کا نام ہے۔یہ اعلیٰ اخلاقی زندگی کو اختیار کرنے کا نام ہے۔ یہ عجز و اعتراف کی نفسیات میں ڈھل جانے کا نام ہے۔

خدا کی وفاداری میں جینے والے شخص کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کوانسانوں سے متعلق خدا کا منصوبہ بتائے۔ انہیں اس زندگی کی طرف بلائے جو کل قیامت کے بعد شروع ہوگی۔دنیا کی سطحی چیزوں کی بے معنویت لوگوں پر واضح کرے۔وہ لوگوں کو اشیاء سے اٹھاکر حقائق کی طرف لائے۔ظاہری اعمال سے اٹھاکراعلیٰ اخلاق کی طرف لائے۔مادیت کے بنجر صحرا سے نکال کر معرفت کی سرسبز وادی میں لائے۔دنیا کی محبت سے ہٹا کر جنت کی نعمتوں کی حب شدید میں مبتلا کردے۔دنیا کی سختیوں کو غیر اہم بنا کر آخرت کے عذاب کو اہم تر کرے۔

خدا آرہا ہے

خدا بہت جلد آرہا ہے۔ اب دیر نہیں رہی۔ وہ غیب کا نقاب الٹ کر اپنے نور سے زمین کی تاریکیوں کو اجالوں میں بدلنے والا ہے۔ آج اس کے ملک میں بغاوت ہے۔مگر یہ آخری بغاوت ہے۔اب بہت جلد وہ اپنی زمین میں فیصلہ کن طور پر اپنا اقتدار بحال کرنے والا ہے۔وہ زلزلۂ قیامت برپا کرنے والا ہے۔وہ انسانی اقتدار کے ایک ایک نام و نشان کو مٹاکر اپنی عظمت سے زمین کو ہموار کرنے والا ہے۔وہ ہر ظلم اور بربریت کی ہر طاقت کو لگام ڈالنے والا ہے۔اس نئی بغاوت کے بس آخری دن ہیں۔ جو ان چند دنوں میں خدا کی طرف سے لڑنے کے لیے اٹھ گیا۔ ۔ ۔ جو خدا کے لیے جی لیا، جوخدا کے لیے مرگیا ،وہی ہوگا جس کے سر پر بہت جلد وفاداری کا تاج رکھا جائے گا۔

سو وفادارو! جھوم اٹھو، خدا آرہا ہے۔وہ آئے گا اور زمین کی بادشاہی اپنے وفاداروں میں تقسیم کردے گا۔آخری پیغمبر کی آمد کا مقصد یہی اعلان کرنا اور اس دعویٰ کا ناقابل تردید ثبوت فراہم کرنا تھا۔ ان کے ذریعے سے خدا نے دکھادیاکہ کس طرح وہ وقت کے فرعونوں، ابوجہل اور ابو لہب کو ہلاک کردیتا ہے اور کس طرح مظلوم اور کمزوروں کے قدموں میں قیصر و کسریٰ کے تاج لا ڈالتا ہے۔یہی وہ اعلان ہے جو خدا کے مسیح نے کیا تھا کہ خدا کی آسمانی بادشاہی قائم ہونے کو ہے۔اس کا یہی فیصلہ زبور میں نازل ہوا تھا۔اور اسی کو قرآن میں آخری دفعہ دہرادیا گیا۔سو اس فیصلے کو سنو اور جھوم اٹھو۔اس لیے کہ اب انتظار ختم ہونے کو ہے۔

وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ أَنَّ الْأَرْضَ یرِثُھَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ۔ اِنَّ فِی ھٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عَابِدِیْنَ۔ وَمَا أَرْسَلْنٰکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ۔(الانبیا 21:105)

ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد یہ لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے۔ اس میں بڑی خبر ہے عبادت گزار بندوں کے لئے اور اے پیغمبر! ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے۔

(مصنف: ریحان احمد یوسفی)

آپ کے سوالات اور تاثرات سے دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اپنے سوالات اور تاثرات بذریعہ ای میل ارسال کیجیے۔ mubashirnazir100@gmail.com ، اگر یہ تحریر آپ کو اچھی لگی ہو تو اس کا لنک دوسرے دوستوں کو بھی بھیجیے۔

غور فرمائیے!

      ہم نے سطحی زندگی کو کیوں اختیار کر لیا ہے؟ اس کے اسباب بیان کیجیے۔

      سطحی زندگی سے اٹھ کر کسی اعلی مقصد کے لئے خود کو وقف کر دینے سے انسانی شخصیت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

اپنے جوابات بذریعہ ای میل اردو یا انگریزی میں ارسال فرمائیے تاکہ انہیں اس ویب پیج پر شائع کیا جا سکے۔

 

یونٹ 1: اللہ اور رسول کے ساتھ تعلق

تعمیر شخصیت پروگرام کا تعارف | اللہ کے نام سے شروع، جو بڑا مہربان ہے، جس کی شفقت ابدی ہے | تیری مانند کون ہے؟ | توحید خالص: اول | توحید خالص: دوم | خدا، انسان اور سائنس: حصہ اول | خدا، انسان اور سائنس حصہ دوم | خدا، انسان اور سائنس حصہ سوم | اصلی مومن | نماز اور گناہ | رمضان کا مہینہ: حاصل کیا کرنا ہے؟ | اللہ کا ذکر اور اطمینان قلب | حج و عمرہ کا اصل مقصد کیا ہے؟ | ایمان کی آزمائش | اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی! | کیا آخرت کا عقیدہ اپنے اندر معقولیت رکھتا ہے؟ | جنت کا مستحق کون ہے؟ | کیا آپ تیار ہیں؟ | میلا سووچ کا احتساب | ڈریم کروز | موبائل فون | خزانے کا نقشہ | دین کا بنیادی مقدمہ: بعث و نشر | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت | منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں | لو لاک یا رسول اللہ! | درود شریف | رحمۃ للعالمین: رحمت محمدی کا ایک پہلو | حضور کی سچائی اور ہماری ذمہ داری | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ادب | دین میں تحریف اور بدعت کے اسباب

یونٹ 2: منفی شخصیت سے نجات

سطحی زندگی | کامیاب زندگی | یہ کیسی بری قناعت ہے! | مسئلہ شفاعت | نجات کا دارومدار کسی گروہ سے تعلق پر نہیں ہے | کردار نہ کہ موروثی تعلق | اختلاف رائے کی صورت میں ہمارا رویہ | اسلام اور نفسیاتی و فکری آزادی | مسلم دنیا میں ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی کا ارتقاء | مذہبی برین واشنگ اور ذہنی غلامی | نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟ | دین اور عقل | دنیا کے ہوشیار | تنقید | ریاکاری اور مذہبی لوگ | دوغلا رویہ | اصول پسندی | بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار | فارم اور اسپرٹ | دو چہرے، ایک رویہ | عیسائی اور مسلم تاریخ میں حیرت انگیز مشابہت | شیخ الاسلام | کام یا نام | ہماری مذہبیت | نافرمانی کی دو بنیادیں | ہماری دینی فکر کی غلطی اور کرنے کا کام | ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور ایک حدیث | آرنلڈ شیوازنگر کا سبق | آج کے بے ایمان | نئی بوتل اور پرانی شراب | جدید نسل | بے وقوف کون؟ | غیبت | شبہات | بدگمانی اور تجسس | لکھ لیا کرو | عذر یا اعتراف | کبر و غرور اور علماء | دھوکے میں مبتلا افراد کی اقسام | برائی کی جڑ | تکبر اور بہادری میں فرق | اپنی خامی | مسلمان وہ ہے | تمسخر | منیٰ کا سانحہ: دنیاکو کیا پیغام دے گیا؟ | عافیت کا راستہ | انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کا فرق | کیا رہبانیت انتہا پسندی ہے؟ | ایف آئی آر | لیجیے انقلاب آ گیا | 18 اکتوبر کے سبق | مسجد قرطبہ اور مسجد اقصی | جادو | وجود زن کے مصنوعی رنگ | فحش سائٹس اور ہمارے نوجوان | سیکس کے بارے میں متضاد رویے | ہم جنس پرستی | عفت و عصمت | مغرب کی نقالی کا انجام | جذبہ حسد اور جدید امتحانی طریق کار | ساس اور بہو کا مسئلہ | یہ خوش اخلاقی | کسل مندی اور سستی پر قابو کیسے پایا جائے؟ | کیا آپ اپنے بیوی بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر رہے ہیں؟

یونٹ 3: مثبت شخصیت کی تعمیر

نیکی کیا ہے؟ | پہاڑی کا وعظ | شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ | ذکر، شکر، صبر اور نماز | تعمیر شخصیت کا قرآنی لائحہ عمل | نظام تربیت کا انتخاب | مسجد کا ماحول | خود آگہی اور SWOT Analysis | اپنی کوشش سے | الحمد للہ رب العالمین | لکھ کر سوچنے والے | اعتراف | کامیابی کیا ہے؟ ایک کامیاب انسان کی کیا خصوصیات ہیں؟ | صحیح سبق | زہریلا نشہ | میں کیا کروں؟ | اپنے آپ کو پہچانیے | غربت کا خاتمہ کس طرح ہوتا ہے؟ | نور جہاں اور ارجمند بانو | سڑک بند ہے | مثبت طرز عمل ہی زندگی کی علامت ہے! | مزاج کی اہمیت | اور تالہ کھل گیا؟ | اپنا چراغ جلا لیں | دو قسم کی مکھیاں | پازیٹو کرکٹ | نرم دل

محبت و نفرت | فرشتے، جانور اور انسان | غصے کو کیسے کنٹرول کیا جائے | اعتبار پیدا کیجیے! | بڑی بی کا مسئلہ | وسعت نظری | سبز یا نیلا؟؟؟ | دین کا مطالعہ معروضی طریقے پر کیجیے | روایتی ذہن | کامیابی کے راز | تخلیقی صلاحیتیں | اسی خرچ سے | خوبصورتی اور زیب و زینت | بخل و اسراف | احساس برتری و احساس کمتری | قانون کا احترام | امن اور اقتصادی ترقی | موجودہ دور میں جہاد کیسے کیا جائے؟ | فیصلہ تیرے ہاتھوں میں ہے | لوز لوز سچویشن Loose Loose Situation | یہی بہتر ہے | رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی علم سے محبت | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ اول) | وحی اور عقل کا باہمی تعلق (حصہ دوم) | انسان اور حیوان | واقفیت کی کمی | صحافت اور فکری راہنمائی | نئی طاقت جاگ اٹھی | انسان اور جانور کا فرق | Idiot Box

یونٹ 4: انسانوں سے تعلق

انسانی حقوق: اسلام اور مغرب کا تقابلی جائزہ | اسلام اور غیر مسلم اقوام | غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا رویہ | ہماری دلچسپی | ایک پاکستانی | بنی اسرائیل سے اللہ کا عہد | غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ | دوسروں سے غلطی کی توقع رکھیے! | سب کا فائدہ | حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی معیت کا شرف | مہربانی کی مہک | دہی کے 1,000,000 ڈبے | عظمت والدین کا قرآنی تصور | تخلیق کے عمل کے دوران والدین کا رویہ | شیر خوار بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | گفتگو کرنے والے بچے کی تربیت کیسے کی جائے؟ | بچوں کو نماز کی عادت کیسے ڈالی جائے؟ | بچوں میں شرم و حیا کیسے پیدا کی جائے؟ | برائی میں مبتلا بچوں سے کیسا رویہ رکھا جائے؟ | لڑکے اور لڑکی کی تربیت کا فرق | اپنی اولاد کے معاملے میں عدل و احسان سے کام لیجیے! | جوان ہوتے بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر | شادی اور عورت | خاندانی جھگڑے

یونٹ 5: ہماری ذمہ داری اور لائحہ عمل

ہزار ارب ڈالر | مغربی معاشرت کی فکری بنیادیں اور ہمارا کردار | مغرب کی ثقافتی یلغار اور ہمارا کردار | زمانے کے خلاف | مصر اور اسپین | ہجری سال کے طلوع ہوتے سورج کا سوال | جڑ کا کام | اسلام کا نفاذ یا نفوذ | غیر مسلموں کے ساتھ مثبت مکالمہ | اورنگ زیب عالمگیر کا مسئلہ | دعوت دین کا ماڈل | مذہبی علماء کی زبان | زیڈان کی ٹکر | ون ڈش کا سبق | اصل مسئلہ قرآن سے دوری ہے